جنتر منتر سے آنے والی وہ ویڈیوز جو یو ٹیوب چینلوں کی جاری کردہ ہیں یا اُن کے پروگرام میں استعمال کی گئی ہیں، بہت کچھ بیان کرتی ہیں۔ ان سے واضح ہوتا ہے کہ طلبہ ۲۰؍ جولائی کے واقعات سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 5:49 PM IST | Mumbai
جنتر منتر سے آنے والی وہ ویڈیوز جو یو ٹیوب چینلوں کی جاری کردہ ہیں یا اُن کے پروگرام میں استعمال کی گئی ہیں، بہت کچھ بیان کرتی ہیں۔ ان سے واضح ہوتا ہے کہ طلبہ ۲۰؍ جولائی کے واقعات سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
جنتر منتر سے آنے والی وہ ویڈیوز جو یو ٹیوب چینلوں کی جاری کردہ ہیں یا اُن کے پروگرام میں استعمال کی گئی ہیں، بہت کچھ بیان کرتی ہیں۔ ان سے واضح ہوتا ہے کہ طلبہ ۲۰؍ جولائی کے واقعات سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ اُن واقعات کا خود گواہ ہونے کے باوجود وہ دوسرے دن بھی مظاہرہ گاہ پر پہنچے اور تیسرے دن بھی۔ اُن کا صاف لفظوں میں کہنا ہے کہ ہمارا نہ تو سیاست سے تعلق ہے نہ ہی کسی تنظیم سے، ہم مظاہرہ میں شریک ہیں تو صرف اسلئے کہ ملک کا نظام ِتعلیم طلبہ دوست یعنی اسٹوڈنٹ فرینڈلی نہیں ہے اور اس کی فوری مرمت ضروری ہے۔ ان میں کئی طلبہ دور دراز کے شہروں سے وہاں پہنچے ہیں۔ ایسے بھی بے شمار ہیں جنہیں دہلی کے راستوں کا علم نہیں ہے۔ مظاہرہ کو اخلاقی حمایت دینے والے بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ایک یوٹیوب چینل ڈی بی لائیو نے گجرات سے آنے والے ایک نوجوان بات چیت کی جس کا کہنا تھا کہ اُس کا بھائی بی جے پی کا ودھایک ہے لیکن یہ بات اُسے مظاہرہ گاہ پہنچنے سے نہیں روک سکی کیونکہ طلبہ کے مطالبات جائز اور دوٹوک ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ کے ساتھ بہتر سلوک ہوسکتا تھا!
ان ویڈیوز میں کئی بچیاں نہایت غیر جانبدارانہ سوال کر رہی تھیں کہ انتظامیہ طلبہ کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کررہا ہے جیسے وہ دہشت گرد یا جرائم پیشہ ہوں۔ ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنتر منتر پر صرف غریب اور متوسط طبقے کے نہیں، متمول گھرانوں کے طلبہ بھی ہیں ۔ اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوسکتی کہ امتحانات کے ناقص انتظامات کی چکی ّمیں تمام طلبہ پستے ہیں، اس میں غریب اور متوسط یا امیر کی تخصیص نہیں رہ جاتی۔ غریب طلبہ، امیر طلبہ، اُن کے والدین اور اُن سے ہمدردی رکھنے والے لوگ کل تک محض نیٹ امتحان کا شکوہ کررہے تھے مگر اب اُن کی باتوں میں ۲۰؍ جولائی کے اُن واقعات کا بھی شکوہ ہے جن میں طلبہ کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی، اُن پر لاٹھیاں برسائی گئیں، آنسو گیس چھوڑی گئی حتیٰ کہ پیلٹ گن کے چھروں سے زخمی ہونے والے اور بجلی کے کرنٹ کی چھڑی کا انکشاف کرنے والے بھی منظر عام پر آرہے ہیں۔ اس سے طلبہ اور نوجوانوں میں غلط پیغام عام ہورہا ہے کہ حکومت طلبہ کی دوست نہیںہے، اُنہیں دشمن سمجھتی ہے۔
ایک طرف یہ صورتحال ہے، دوسری طرف ملک کے عوام کی ہمدردی ہے جو چاروں طرف سے برس رہی ہے۔ لوگ غذائی پیکٹ اور پانی کی بوتلیں بھیج رہے ہیں اور نوبت یہاں تک آگئی کہ مظاہرہ کے ذمہ داروں کو منگل کی دوپہر یہ اعلان کرنا پڑا کہ غذا کا کافی ذخیرہ جمع ہوچکا ہے، مزید اشیاء نہ بھیجی جائیں۔ اقتدار کے غرور اور جبر کے آگے عوامی ہمدردی اور طلبہ دوستی کی یہ مثال برسوں یاد رکھی جائیگی۔
نظام ِ تعلیم کے ستائے ہوئے یہ طلبہ جب لوَٹ کے گھر جائینگے تو تلخ کے ساتھ ساتھ شیریں یادیں بھی ان کے ساتھ ہوں گی جو اُنہیں غو روخوض پر آمادہ کرسکتی ہیں کہ اس ملک میں بہی خواہوں کی کمی نہیں ہے، اس ملک کو بہت آگے لے جایا جاسکتا ہے اگر عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے وقت جذباتی نعروں سے گریز کریں اور سوجھ بوجھ سے کام لیتے ہوئے ایسے لوگوں کو منتخب کریں جو سماج کو جوڑنے اور ملک کو آگے لے جانے والے ہوں۔ جو بشمول طلبہ سماج کے ہر طبقے کی فکر کریں۔