ملک کا مستقبل کلاس روم میں لکھا جاتا ہے۔ یہ قول اپنے وقت کے مشہور کوٹھاری کمیشن کا ہے جو ۱۹۶۲ء میں نظام تعلیم کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کیلئے قائم کیا گیا تھا۔
ملک کا مستقبل کلاس روم میں لکھا جاتا ہے۔ یہ قول اپنے وقت کے مشہور کوٹھاری کمیشن کا ہے جو ۱۹۶۲ء میں نظام تعلیم کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کیلئے قائم کیا گیا تھا۔ بات دل کو لگتی ہے، اس لئے کہ ہر دور میں تسلیم کیا گیا ہے کہ نئی نسل مستقبل کا اثاثہ ہے۔ اس پر جتنی محنت ہوگی، اسے جتنے وسائل فراہم کئے جائینگے اور اس کی جس قدر رہنمائی اور حوصلہ افزائی ہوگی، ملک کا مستقبل اسی قدر سنورے گا۔ قدیم ہندوستان میں ’’گرو ششیہ کی پرمپرا‘‘ کے پس پشت بھی عظمت ِ تعلیم کا یہی احساس تھا اور اسی کے تحت نئی نسل کو آشیرباد دیا جاتا تھا۔ ۲۱؍ ویں صدی کے ہندوستان میں ہم نئی نسل کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کررہے ہیں۔
نیٹ کے امتحان کی تیاری کیلئے میڈیکل میں کریئر بنانے کا خواب دیکھنے والے نوجوان کتنی محنت کرتے ہیں اور ان کے والدین اس خواب کو پورا کرنے کیلئے کتنا خرچ کرتے ہیں اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے کیونکہ طالب علموں کی محنت تب ہی ظاہر ہوتی ہے جب وہ کامیابی میں ڈھل جاتی ہے، اس سے پہلے نہیں۔ والدین پر تعلیمی خرچ کا کتنا بوجھ ہوتا ہے یہ تو رزلٹ آنے کے بعد بھی ظاہر نہیں ہوتا۔ غریب خاندان زیادہ تکلیف اٹھا کر اپنے بچے یا بچی کی پڑھائی کا خرچ اٹھاتا ہے بہ نسبت امیر خاندان کے۔ محنت، امتحان میں کامیابی کیلئے ہو یا تعلیمی خرچ پورا کرنے کیلئے، یعنی طلبہ کی ہو یا ان کے والدین کی، بہرحال محنت ہے جس پر ڈاکہ ڈالا جائے تو یہ محض محنت کی ناقدری نہیں، نئی نسل سے اس کا مستقبل چھیننے اور خوابوں کو پٹری سے اتارنے کی کوشش ہے جو بار بار ہو رہی ہے اور بار بار طلبہ اسے بھگت رہے ہیں۔
نیٹ میں شریک ہونے والے طلبہ کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے اس لئے پرچہ لیک ہونے کی خبر زوردار دھماکہ بن جاتی ہے مگر بعض مقابلہ جاتی امتحانوں میں شریک ہونے والوں کی تعداد اتنی نہیں ہوتی اس لئے پرچہ لیک ہونے پر دھماکہ تو ہوتا ہے آواز دور تک نہیں جاتی۔ اس کی ایک مثال کامن لاء ایڈمیشن ٹیسٹ (کلاٹ) تھا جو دسمبر ۲۵ء میں ہوا۔ اس کا پرچہ بھی لیک ہوا اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تھا۔
تعجب ہے کہ اس ملک نے ’’ویاپم‘‘ جیسے سنگین گھپلے سے، جس نے مبینہ طور پر ۴۰؍ جانیں لے لیں، کچھ نہیں سیکھا بلکہ وقفے وقفے سے ایسے واقعات کا انکشاف ہوتا رہتا ہے۔ ہر بار تفتیشی ایجنسیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ ہم نے اس گورکھ دھندے میں ملوث عناصر کو گرفتار کرلیا مگر ہر بار ان کی تفتیش کہاں جا کر تھم جاتی ہے کسی کو پتہ نہیں چلتا۔ سوال یہ ہے کہ گرفتاریاں پیپر لیک کے بعد ہی کیوں ہوتی ہیں، پہلے کیوں نہیں ہوتیں؟ کیا یہ انٹلی جنس کے محکمے کی ناکامی نہیں ہے؟ ویاپم کے بعد تو سسٹم کو اتنا مضبوط ہو جانا چاہئے تھا کہ پرچے یا امتحان لینے والے ادارہ کے دفتر کے قریب پرندہ بھی پر نہ مار سکے، ایسا کیوں نہیں ہوا؟ کیوں ہر سال کہیں نہ کہیں پرچہ لیک ہو ہی جاتا ہے؟ کتنی ریاستوں میں ایسا ہوچکا ہے اور کتنے ہی مقابلہ جاتی امتحانوں میں ایسا ہوچکا ہے۔ ایک ہی مسئلہ بار بار سر اٹھائے تو اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ مسئلہ کے حل کے نام پر گرفتاریوں سے عوامی غم و غصہ کو بہلا دیا جاتا ہے اور پرچہ لیک ہونے کا راستہ بند نہیں کیا جاتا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ امتحان کا انعقاد کرنے والے ادارہ کے سربراہ کی جوابدہی کے ساتھ ساتھ سزا طے کی جائے کہ اگر پرچہ لیک ہوا تو اتنی سزا بھگتنی ہی ہوگی۔ ایسا ہوا تب ہی امید کی جاسکے گی کہ حالات بدلیں گے۔