ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل کا نام لیے بغیر ان پر شدید تنقید کرتے ہوئے جاری جنگ کو خیر اور شر کا معرکہ قرار دیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی - تصویر:آئی این این
ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل کا نام لیے بغیر ان پر شدید تنقید کرتے ہوئے جاری جنگ کو خیر اور شر کا معرکہ قرار دیا ہے۔ یہ ردعمل جنگ بندی سے متعلق حالیہ امریکی تجویز مسترد کیے جانے اور تہران کے خلاف بڑھتی امریکی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری ایک طویل بیان میں خبردار کیا کہ دنیا تیزی سے افراتفری اور انارکی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری۲۰۲۶ء کو ایک سال سے بھی کم عرصے میں دوسری بار ایران کے خلاف جارحانہ جنگ شروع کی، حالانکہ اس وقت تہران اور واشنگٹن سفارتی مذاکرات میں مصروف تھے۔ بقائی نے لکھا، یہ صرف زمین، وسائل یا جغرافیائی سیاست کی جنگ نہیں بلکہ یہ اس بات کا تعین کرنے والی جنگ ہے کہ موجودہ اور مستقبل کی دنیا میں خیر اور شر کے معنی کیا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایسی دنیا کو قبول نہیں کرے گا جہاںمتکبر، غاصب اور ناقابلِ احتساب قوتیں جبر، جھوٹ اور بلیک میلنگ کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کریں۔ ایرانی ترجمان کے مطابق ایسے حالات میں خاموش رہنا شر کے ساتھ ملی بھگت کے مترادف ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرے تاکہ دنیا کو مزید افراتفری میں گرنے سے روکا جا سکے۔
جنگ میں امریکہ کے ۳۹؍جنگی طیارے تباہ ہونے کا دعویٰ
واشنگٹن(ایجنسی ): امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹک رکن ایڈورڈ کیس نے بڑا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ میں امریکہ کے۳۹؍ طیارے تباہ ہوئے ہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایڈورڈ کیس نے سینیٹ کمیٹی میں خصوصی سماعت کے دوران پینٹاگون کے سی ایف او جے ہرسٹ پر سوالات کی بھرمار کردی تاہم ایران جنگ میں امریکہ کو نقصان کا پوچھا تو جے ہرسٹ نے متعدد سوالات کے جوابات نہیں دئیے۔کانگریس مین ایڈورڈ کیس نے لڑاکا طیاروں کی تباہی سے متعلق جس دی وارزون ویب سائٹ کا حوالہ دیا، اس امریکی ویب سائٹ دی وار زون کی رپورٹ کے مطابق۳۹؍ روز تک جاری ایران کیخلاف جنگ میں امریکی فضائیہ نے۱۳؍ ہزار پروازیں کیں تاہم اس دوران امریکہ کے۳۹؍ طیارے تباہ ہوئے اور مزید۱۰؍ طیاروں کو مختلف نوعیت کا نقصان پہنچا۔ ویب سائٹ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ تباہ طیاروں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ امریکی ویب سائٹ کے مطابق۲۴؍ یوایس اے ایف ایم کیو نائن ریئپر ڈرونز تباہ ہوئے۔۵؍ لڑاکا طیارے فضا میں تباہ ہوئے،۴؍ ایف۱۵؍ ای اسٹرائیک ایگلز اور ایک اے۱۰؍ وارتھوگ بھی تباہ ہوا۔ویب سائٹ کے مطابق ایران کی فضائی حدود میں ایک ایف تھرٹی فائیو اے طیارہ بھی نشانہ بنا جو کہ ففتھ جنریشن فائٹرجیٹ کی تباہی کا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا مگر اسکا پائلٹ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ ویب سائٹ کا دعویٰ تھا کہ۳؍ ایف۱۵؍ ایطیارے کویت کی فضائی حدود میں تباہ ہوئے۔قیمتی ای تھری جی سینتری بھی تباہ ہوا جو کہ امریکہ کا بڑا نقصان تھا۔
ایران جنگ کا اثر: امریکہ میں مہنگائی میں تیزی سے اضافہ
واشنگٹن (ایجنسی): امریکہ میں اپریل کے دوران مہنگائی میں مسلسل دوسرے ماہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جہاں توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ امریکی محکمۂ شماریات کے مطابق مہنگائی میں ماہانہ بنیاد پر۰ء۶؍فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پر۳ء۸؍ فیصد اضافہ ہوا ہے جو تقریباً گزشتہ۳؍ برس کی بلند ترین سطح ہے۔رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، ایک سال کے دوران پیٹرول۲۸ء۴؍ فیصد مہنگا ہوا جبکہ توانائی کی مجموعی قیمتوں میں۱۷ء۹؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ میں فی گیلن پیٹرول کی اوسط قیمت۴ء۵۰؍ ڈالرز تک پہنچ گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ اور خطے میں کشیدگی کے باعث ایندھن مہنگا ہوا جس کے اثرات فضائی سفر سمیت دیگر شعبوں پر بھی پڑ رہے ہیں، فضائی کرایوں میں۲ء۸؍ فیصد اضافہ ہوا جبکہ کئی فضائی کمپنیوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے، اشیائے خورونوش بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔