Updated: May 13, 2026, 10:05 PM IST
| New delhi
ہندوستانی سپریم کورٹ نے ماحولیاتی بنیادوں پر دائر کی جانے والی عرضیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ماحولیاتی کارکنوں نے کبھی کسی عوامی ترقیاتی منصوبے کی حمایت بھی کی ہے۔ جسٹس سوریہ کانت اور جوئے مالا باغچی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ بعض اوقات ماحولیاتی قانونی چارہ جوئی کو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تاخیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ اگرچہ ماحولیات کا تحفظ ضروری ہے، لیکن ترقیاتی سرگرمیوں کو مسلسل مقدمات کے ذریعے غیر معینہ مدت تک روکا نہیں جا سکتا۔
سپریم کورٹ : تسویر آئی این این
ہندوستانی سپریم کورٹ نے ماحولیاتی عرضیوں اور مفادِ عامہ کی قانونی چارہ جوئی کے استعمال پر اہم تبصرے کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض حلقے ترقیاتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو روکنے یا ان میں تاخیر پیدا کرنے کے لیے ماحولیات کے نام پر عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالا باغچی پر مشتمل بنچ ایک ایسی عرضی کی سماعت کر رہی تھی جس میں نیشنل گرین ٹربیونل کی مغربی زون بنچ کے ایک حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے ماحولیاتی کارکنوں کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے تبصرے کئے کہ ’’ہمیں اس ملک میں ایک بھی ایسا منصوبہ دکھا دیں جہاں ان نام نہاد ماحولیاتی کارکنوں نے کہا ہو کہ ہم اس منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : اقلیتی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کیلئے ٹی ای ٹی لازمی نہیں : ہائی کورٹ
عدالت نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بعض معاملات میں ماحولیاتی تحفظ کے نام پر دائر کی جانے والی عرضیاں عوامی اہمیت کے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ بنچ نے واضح کیا کہ ماحولیات کا تحفظ یقیناً اہم ہے، لیکن ترقیاتی سرگرمیوں کو لامتناہی قانونی چیلنجوں کے ذریعے مکمل طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے یہ ریمارکس ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ہندوستان میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان منصوبوں میں قومی شاہراہیں، کان کنی، شہری ترقی، قابلِ تجدید توانائی اور صنعتی توسیع شامل ہیں۔ دوسری جانب ماحولیاتی گروپس مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ کئی منصوبے جنگلات، جنگلی حیات، آبی وسائل اور مقامی آبادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستانی عدلیہ تاریخی طور پر ماحولیاتی تحفظ میں ایک اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں سپریم کورٹ اور گرین ٹربیونل نے جنگلات کے تحفظ، آلودگی پر قابو، غیر قانونی کان کنی، دریاؤں کی صفائی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے متعلق کئی تاریخی فیصلے دیے ہیں۔ اسی عدالتی مداخلت کے نتیجے میں مختلف منصوبوں کو ماحولیاتی بنیادوں پر روکا یا ان کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔ ان میں جنگلاتی علاقوں میں تعمیرات، حساس ماحولیاتی زونز اور جنگلی حیات کی رہائش گاہوں سے متعلق منصوبے شامل تھے۔ عدالتوں نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے : نیٹ پیپر لیک پر چوطرفہ تنقید، اپوزیشن نے حکومت کو نشانہ بنایا
دوسری جانب ماحولیاتی تنظیموں اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ عدالتی مداخلت نے متعدد متنازع منصوبوں کے ماحولیاتی خطرات کو بے نقاب کیا۔ ناقدین کے مطابق سینٹرل وستا منصوبہ، ایروالی رینج کے تنازعات اور سیو مولم موومنٹ جیسے معاملات میں کارکنوں کی قانونی کوششوں نے عوامی بحث کو جنم دیا اور ماحولیاتی نقصانات کی نشاندہی کی۔ سپریم کورٹ کے حالیہ ریمارکس نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں اور ماحولیاتی جانچ کے درمیان حد کہاں قائم ہونی چاہیے۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ انفراسٹرکچر کی تیز رفتار توسیع کے لیے قانونی عمل کو آسان بنانا ضروری ہے، جبکہ ماحولیاتی کارکنوں کا استدلال ہے کہ کمزور نگرانی مستقبل میں ناقابلِ تلافی ماحولیاتی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔