Inquilab Logo Happiest Places to Work

جواب اُتنے نہیں ہیں سوال جتنے ہیں

Updated: July 30, 2026, 3:00 PM IST | Mumbai

بدھ کو لوک سبھا میں راہل گاندھی کے اظہارِ خیال کے دوران وہ سب کچھ ہوا جو راہل کی تقریر کے دوران ہوتا آیا ہے۔ اُنہیں بولنے سے روکا گیا، ضابطوں کا حوالہ دیا گیا اور اُن کے ذریعے کہے گئے ایک لفظ کو پارلیمانی ریکارڈ سے ہٹانے کی بات کی گئی۔ ایل او پی راہل کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے کسی کا نام لے کر وہ لفظ نہیں کہا کیونکہ یہ غیر پارلیمانی طریقہ ہے مگر حکمراں محاذکچھ سننے کو تیار نہیں تھا۔ اس کے بعد جب راہل نے وزیر داخلہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے مظاہرین پر کارروائی کا حکم دیا تب بھی حکمراں محاذ چراغ پا ہوگیا جس نے راہل سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا کہ اُن کے پاس اس دعوے کی دلیل کیا ہے۔

Rahul Gandhi. Photo: INN
راہل گاندھی۔ تصویر: آئی این این

بدھ کو لوک سبھا میں راہل گاندھی کے اظہارِ خیال کے دوران وہ سب کچھ ہوا جو راہل کی تقریر کے دوران ہوتا آیا ہے۔ اُنہیں بولنے سے روکا گیا، ضابطوں کا حوالہ دیا گیا اور اُن کے ذریعے کہے گئے ایک لفظ کو پارلیمانی ریکارڈ سے ہٹانے کی بات کی گئی۔ ایل او پی راہل کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے کسی کا نام لے کر وہ لفظ نہیں کہا کیونکہ یہ غیر پارلیمانی طریقہ ہے مگر حکمراں محاذکچھ سننے کو تیار نہیں تھا۔ اس کے بعد جب راہل نے وزیر داخلہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے مظاہرین پر کارروائی کا حکم دیا تب بھی حکمراں محاذ چراغ پا ہوگیا جس نے راہل سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا کہ اُن کے پاس اس دعوے کی دلیل کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راہل۔ عرفان ملاقات، کیا کانگریس سدھر گئی؟

اس سلسلے میں دو باتیں ذہن میں رہنی چاہئیں۔ اگر راہل گاندھی نے ۲۹؍ جولائی کو پارلیمنٹ میں لفظ ’’ایڈیٹ‘‘ کا استعمال کیا ہے تو ۲؍ جولائی ۲۴ء کو وزیر اعظم نے بھی لوک سبھا میں ’’بالک بدھی‘‘  کا استعمال کیا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ دونوں کے لغوی معنی میں فرق ہے ۔  ’’ایڈیٹ‘‘ کا معنی احمق اور بے وقوف ہے اور ’’بالک بدھی‘‘ کا معنی طفلانہ ذہن ہے۔ مگر، دونوں کا مفہوم ایک ہے۔ جس ایوان میں ’’بالک بدھی‘‘ پر احتجاج نہیں ہوا اُس میں  ’’ایڈیٹ‘‘ پر ہنگامہ کیوں ہوا؟ جہاں تک وزیر داخلہ پر الزام کا تعلق ہے، راہل کے خلاف برہمی تو ظاہر کی گئی مگر کیا یہ طے شدہ امر نہیں ہے کہ پولیس کارروائی وزیر داخلہ کی ایماء پر ہوتی ہے؟ اگر اس طے شدہ امر کو بھی تسلیم نہیں کرنا تھا تو کیا یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ راہل کی بات سن لی جاتی اور پھر حکومت کی طرف سے جواب دیا جاتا؟ اگروزیر داخلہ پولیس کی کارروائی سے لاعلم تھے تو پھر لاٹھی چارج اور فائرنگ کس کے حکم پر ہوئی اور جس کے حکم پر ہوئی اس سے کیا اور کتنی باز پرس ہوئی، یہ تو ملک کے عوام کو بتانا ہی چاہئے بالخصوص ایسے حالات میں جب طلبہ کا احتجاج پُرامن تھا اور اُن کی جانب سے تشدد کی کہیں کوئی خبر نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گَرو سے کہو یہ قابل تعریف ہیں!

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نہ صرف یہ کہ سینئر رُکن ہیں بلکہ سنجیدہ ذہن شخصیت ہیں، انہوں نے اسپیکر کی درخواست پر مداخلت تو کی مگر یہی کہا کہ اس لفظ کو پارلیمانی ریکارڈ سے ہٹانا چاہئے۔ اس طرح اُن کی مداخلت بھی غیر جانبدارانہ نہیں تھی۔ اسپیکر اوم برلا کا ردعمل بھی، حسب سابق، حکمراں محاذ کے اراکین کے ردعمل سے مختلف نہیں تھا۔ وہ بار بار راہل ہی سے مطالبہ کرتے رہے کہ وہ غیر پارلیمانی الفاظ سے بچیں اور ایوان کے وقار کو برقرار رکھیں۔ سوال یہ ہے کہ اب تک دہلی پولیس نے پریس کانفرنس کیوں نہیں کی؟ سوال یہ بھی ہے کہ اب تک وزارت داخلہ کے کسی ترجمان نے پریس کو کوئی بیان کیوں نہیں دیا؟ اگر اتنی خاموشی نہ ہوتی تو اتنے سوال بھی پیدا نہ ہوتے جتنے ہوئے ہیں اور رفتہ رفتہ کئی باتیں سامنے آ رہی ہیں اور نئے سوال پیدا ہورہے ہیں مثلاً پتھروں سے لدا ہوا ٹرک جنتر منتر کے قریب کیسے پہنچا، پیلٹ گن کے استعمال کی ضرورت کیوں پیش آئی، اے کے ۴۷؍ کس نے چلائی، لاٹھی چارج کا حکم کس نے دیا ، کمر کے اوپر لاٹھی کیوں چلی اور بے جا نیز اندھا دھند گرفتاریوں پر پولیس کے اعلیٰ افسران کا کیا کہنا ہے۔ ذمہ دار افراد کی طرف سے وضاحت نہ آئے اور ایوان میں کچھ کہنے پر ہنگامہ ہو تو جمہوریت کی روح کو باقی کیسے رکھا جاسکے گا؟  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK