Inquilab Logo Happiest Places to Work

راہل۔ عرفان ملاقات، کیا کانگریس سدھر گئی؟

Updated: July 30, 2026, 2:49 PM IST | Mumbai

پیر کو راہل گاندھی نے برف بیچنے والے محمد عرفان سے اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور آئین کے تئیں اُن کی سمجھداری اور ناخواندہ ہونے کے باوجود اُن کے خیالات اور معلومات کی ستائش کی۔اس خبر کی جزئیات سے آپ واقف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس نے مسلم نام نہ لینے اور مسلمانوں کے مسائل پر براہ راست گفتگو نہ کرنے کی اپنی پالیسی بدل دی ہے؟ کیا کانگریس کو عقل آگئی ہے؟ کیا کانگریس نے سمجھ لیا ہے کہ ’’نرم ہندوتوا‘‘ سے اس کا بھلا نہیں ہوسکتا؟

Photo: INN
تصویر: آئی این این

پیر کو راہل گاندھی نے برف بیچنے والے محمد عرفان سے اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور آئین کے تئیں اُن کی سمجھداری اور ناخواندہ ہونے کے باوجود اُن کے خیالات اور معلومات کی ستائش کی۔اس خبر کی جزئیات سے آپ واقف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس نے مسلم نام نہ لینے اور مسلمانوں کے مسائل پر براہ راست گفتگو نہ کرنے کی اپنی پالیسی بدل دی ہے؟ کیا کانگریس کو عقل آگئی ہے؟ کیا کانگریس نے سمجھ لیا ہے کہ ’’نرم ہندوتوا‘‘ سے اس کا بھلا نہیں ہوسکتا؟ 

یہ بھی پڑھئے: گَرو سے کہو یہ قابل تعریف ہیں!

۲۰۱۴ء کے لوک سبھا الیکشن میں شرمناک شکست کے بعد کانگریس نے اپنی پسپائی کے اسباب جاننے کیلئے سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ میں تین اہم اسباب بیان کئے تھے۔ ایک بی جے پی کی جارحانہ انتخابی مہم، دوسرا تنظیمی ڈھانچے کی خستہ حالی اور تیسرا یہ کہ پارٹی کو اقلیت نواز سمجھا جاتا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اسی رپورٹ کا نتیجہ تھا یا بی جے پی کی جارحانہ ہندوتوا پالیسی کا، کہ پارٹی لیڈروں نے اپنے بیانات، تقاریر اور انٹرویوز میں اپنی زبان سے لفظ مسلمان یا مسلم ادا کرنے سے بھی پرہیز شروع کر دیا تھا۔ اقلیتوں تک کا ذکر کم ہوگیا تھا۔ زیادہ اصرار ای بی سی، او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی پر تھا۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی لیڈروں نے ’’نرم ہندوتوا‘‘ اپنا لیا تھا۔ 

مگر اب ایسا لگتا ہے کہ بہت سے انتخابی صدمات جھیلنے کے بعد کانگریس اپنے آپ کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ پالیسی کی یہ تبدیلی راہل گاندھی ہی کی مرہون منت ہوسکتی ہے جو خود بھی ’’نرم ہندوتوا‘‘کے جال میں پھنس گئے تھے مگر جلد ہی خود کو اس سے باہر نکال لیا۔ جولائی ۲۰۱۸ء میں جب بی جے پی نے کانگریس پر الزام لگایا تھا کہ وہ مسلمانوں کی پارٹی ہے تب راہل نے کہا تھا کہ ’’مَیں قطار کے آخری آدمی کےساتھ ہوں اور اُس کے ساتھ ہوں جس کا استحصال ہورہا ہے، جو حاشئے پر ہے اور جو ظلم سہہ رہا ہے، اُس کا مذہب یا ذات میرے لئے اہم نہیں، جو بھی تکلیف میں ہے مَیں اُس کا ہوں اور اُسے گلے لگانا چاہتا ہوں، مَیں دلوں سے نفرت نکالنا چاہتا ہوں، ہر انسان سے محبت کرتا ہوں، مَیں کانگریس ہوں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: طلبہ کے مظاہروں میں مثبت رجحانات

اس پیغام میں راہل نے کچھ کچھ وضاحت کردی تھی کہ وہ یا اُن کی قیادت میں کانگریس کا موقف کیا ہے مگر تب تک بھی کانگریس کی جھجھک باقی تھی اب نہیں ہے۔  اسی لئے محمد عرفان کے گھر جانے میں اُنہیں پس و پیش نہیں ہوا ہوگا۔ دو ماہ قبل (مئی ۲۶ء میں) راہل گاندھی نے پارٹی کی مشاورتی کونسل کے مائناریٹی ڈپارٹمنٹ کی میٹنگ سے خطاب میں کہا تھا کہ مسلمانوں کیلئے مسائل کے حل میں اور اُن کے تعلق سے کوئی بیان دینے میں پس و پیش نہ کریں۔ مسلم نام لینے سے ہچکچائیں بھی نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ مسلمان ہیں تو اپنی مسلم شناخت کو چھپانے کی کوشش نہ کریں، کہئے کہ مَیں مسلمان ہوں۔ یہی بات انہوں نے او بی سی، دلت اور جنرل کیٹگری کے لوگوں کیلئے بھی کہی تھی کہ اپنی شناخت نہ چھپائیں یعنی ڈریں نہیں۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ راہل گاندھی نے ہندوتوا سے سیدھی ٹکر لینے کی ٹھان لی ہے؟ اب اس بات کی مزید توثیق کی ضرورت نہیں اور سچ پوچھئے تو یہ فال نیک ہے ۔  n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK