• Thu, 05 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایسے نتائج کہ ٹرمپ اپنا سر پیٹ لیں!

Updated: November 05, 2026, 5:55 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

پوری دُنیا میں دائیں بازو کی جماعتوں کو بے دخل کرنے کا خوشگوار موسم ہر خاص و عام کو اپنی جانب متوجہ کررہا ہے۔ وہ چاہے فرانس ہو یا سربیا، ہنگری ہو یا برازیل۔ اس فہرست میں اسرائیل کو بھی جوڑ لیجئے۔ امریکہ کیوں اس رجحان سے محفوظ رہ سکتا تھا؟

Donald Trump. Picture: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

پوری دُنیا میں دائیں بازو کی جماعتوں کو بے دخل کرنے کا خوشگوار موسم ہر خاص و عام کو اپنی جانب متوجہ کررہا ہے۔ وہ چاہے فرانس ہو یا سربیا، ہنگری ہو یا برازیل۔ اس فہرست میں اسرائیل کو بھی جوڑ لیجئے۔ امریکہ کیوں اس رجحان سے محفوظ رہ سکتا تھا؟ یہاں وسط مدتی انتخابات میں، جس کے نتائج گزشتہ روز منظر عام پر آئے، ریپلکن پارٹی کی ایسی شرمناک شکست ہوئی ہے کہ ٹرمپ کی بولتی بند ہوگئی۔ اس دوران ٹرمپ نے کچھ کہا بھی توبے معنی سا۔ اسے کسی نے سننا بھی گوارا نہیں کیا۔ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی اس طرح صاف ہوگئی جیسے اسے سیلاب ِ بلاخیز بہا لے گیا ہو۔ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ ریپبلکن کی یہ حالت ہوجائیگی۔ امریکہ کی جس دوسری بڑی پارٹی (ڈیموکریٹس) نے اُسے اِس حالت کو پہنچایا ہے اُسے بھی اتنی اچھی کارکردگی کا انداز ہ نہیں تھا کیونکہ مد مقابل ریپبلکن کے ہاتھ میں اقتدار ہی نہیں بے پناہ دولت بھی ہے۔ اس کے بہی خواہ ایلون مسک نے اس الیکشن پر ۴۷۴؍ ملین ڈالر خرچ کئے تھے۔

ہمیشہ بو َلائے ہوئے رہنے والے صدر کا وہ اعلان بھی کارگر نہیں ہوا کہ اگر اُن کی پارٹی اپنی سیٹیں برقرار رکھ پائی تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو ۵؍ ہزار ڈالر دینگے۔ یہ رقم ہندوستانی کرنسی میں پونے پانچ لاکھ روپے کے بقدرہے۔ اس وقت امریکی عوام افراط زر (مہنگائی) سے سخت پریشان ہیں اس کے باوجود، اس لالچ میں کوئی نہیں آیا۔ امریکی بازار میں تیل مہنگا ہی نہیں کافی مہنگا ہے۔ آدمی روزمرہ کی دشواریوں کو دیکھتا ہے یکمشت ملنے والی رقم کو نہیں۔ اب امریکیوں کو یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ ہم نے وینزویلا کے تیل ذخائر پر آپ ہی کیلئے قبضہ کیا ہے۔ وہ تو دیکھ رہے تھے کہ تیل بازار پر جو آفت آئی وہ ایران کے خلاف بلا اشتعال جنگ کے سبب آئی۔ ایران نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا کہ اُس کو جنگ میں کھینچا جاتا۔ بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات بھی ایک اہم وجہ ہے جس نے عوام کو ٹرمپ سے مایوس کیا۔ اُن کی مقبولیت کا گراف کافی نیچے آچکا تھا جس سے بہت واضح اشارے مل رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے دور میں کوئی صدر اتنا کم مقبول (یا غیر مقبول) نہیں تھا جتنا کہ ٹرمپ ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: قبائلی زندگی پر گاندھی اور نہرو کی فکرمندی

جین زی کیوں پیچھے رہتے۔ ابتدائی تجزیوں کے مطابق ایسے نوجوانوں نے بھی اس بار ڈیموکریٹس کی حمایت کی جو ۲۰۲۴ء کے صدارتی الیکشن میں پُرجوش طریقے سے ری پبلکن یعنی ٹرمپ کے ساتھ تھے۔ کہا جارہا ہے کہ ۳۰؍ سال سے کم عمر کے رائے دہندگان میں سے ۷۰؍ فیصد نے ریپبلکن سے منہ موڑ لیا۔ ٹرمپ کی پالیسیوں سے عاجز ہسپانویوں اور سیاہ فاموں  نے بھی ڈیموکریٹس کی حمایت کی۔ ٹرمپ اور اُن کی پارٹی کی ہزیمت عالمی لیڈروں کو وہی پیغام دے رہی ہے جو ایسی ہر شکست میں مضمر ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ عوامی مفادات کو نظر انداز کرنا حکمرانوں کو مقبولیت سے نامقبولیت اور فتح سے شکست کی طرف لے جاتا ہے۔ نوشتہ دیوار پڑھنے سے انکار کرنے والے ٹرمپ یہ پیغام نہیں سمجھیں گے، سیاسی طور پر کمزور ہوجانے کے بعد بھی نہیں سمجھیں گے، یہ بالکل طے ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK