• Thu, 05 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قبائلی زندگی پر گاندھی اور نہرو کی فکرمندی

Updated: November 05, 2026, 5:49 PM IST | Professor Sarwar Ul Huda | Mumbai

پنڈت نہرو نے ۱۹۵۰ء کی دہائی میں انسانی علوم کے عالم ویریئر ایلون کی صلاح و مشورے سے ٹرائبل پنچ شیل کی تشکیل کی۔ ان پانچ نکات کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قبائلیوںکی تہذیبی شناخت اور ترقی کے منصوبے کو سمجھا جا سکے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

 پچھلے ہفتے کے کالم میں اروناچل پردیش کی قبائلی آبادی نئیشی کے تعلق سے اظہار خیال کیا گیا تھا۔ ایک مخصوص علاقے کی قبائلی زندگی دوسرے علاقے کی قبائلی زندگی سے بہت مختلف نہیں ہے۔ اس کی وجہ فطرت سے ان کا فطری اور گہرا لگاؤ ہے۔ فطرت ہر جگہ ایک ہی طرح سے موجود ہے اس فرق کے ساتھ کہ موسم کی تبدیلی الگ الگ علاقوں میں اپنے وقت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ موجودہ وقت میں ان قبیلوں کو خطرہ ساحلی علاقوں میں باندھے جانے والے باندھ اور کاٹے جانے والے جنگلوں سے ہے۔ یہ خطرہ اس زندگی کو درپیش ہے جس نے فطرت کی گود میں آنکھ کھولی تھی اور اسے اسی گود میں زندگی کے ایام بسر کرنے تھے۔ پہاڑوں اور درختوں کے درمیان بسر ہونے والی زندگی کتنی آسودہ معلوم ہوتی ہے۔ آسودگی آرزوؤں کے کم ہونے کی وجہ سے بھی حاصل ہوتی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ جو وسائل ہمارے پاس ہیں انہی کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔ 
 قبائلی زندگی کی دشواریوں کا احساس گاندھی جی کو بھی تھا اور پنڈت نہرو کو بھی۔ قبائلی زندگی کے ساتھ ایک مشکل یہ ہے کہ اگر اسے فطرت سے دور کر دیا جائے تو ایسے میں اس زندگی کی سادگی اور سچائی متاثر ہوتی ہے۔ فطرت سے وابستگی ایک معنی میں بنیادی سہولتوں کے تعلق سے کچھ بے نیاز ہو جانا بھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قبائلی زندگی وقت کے ساتھ بدلنے کے باوجود اصل سے دور نہیں ہوئی۔ گاندھی جی کا خیال تھا کہ قبائلی زندگی کی ترقی کا مطلب دیہی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے انڈین کانگریس پر زور دیا تھا کہ جو قبائل ہیں ان کی طرف توجہ کی جائے۔ جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لئے ان طبقوں کا زندگی کے بنیادی دھارے میں شامل ہونا ضروری ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ گاندھی جی کے سوراج کو قبائلی معاشرے نے انگریزی حکومت کے استحصالی نظام کے خلاف ایک رجحان اور رویے کے طور پر دیکھا۔ قبیلوں کے تعلق سے گاندھی جی کی یہ فکر مندی بھی بہت اہم ہے کہ انہیں اپنے طور پر زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہے۔ کسی سیاسی نظام کے تحت جب زندگی اور سماج کے تعلق سے کچھ چھوڑنے اور کچھ اختیار کرنے   کے لئے مجبور کیا جاتا ہے تو ایسے میں وہ فطری آزادی اور آوارگی باقی نہیں رہ پاتی۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل معلق، یاہو ہونق

 پنڈت نہرو کے خیالات بھی گاندھی جی کے خیالات سے ملتے جلتے ہیں۔ پنڈت نہرو نے ۱۹۵۰ء کی دہائی میں انسانی علوم کے عالم ویریئر ایلون کے صلاح و مشورے سے  ٹرائبل پنچ شیل کی تشکیل کی۔ پنڈت نہرو کے ان پانچ نکات کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مجموعی طور پر انسانی معاشرے کے ایک اہم طبقے کی تہذیبی شناخت اور ترقی کے منصوبے کو سمجھا جا سکے۔ پنڈت نہرو نے اس بات پر بہت زور دیا تھا کہ قبائلی زندگی کو ان کی اپنی تہذیبی شناخت کے ساتھ ترقی کرنی چاہئے۔ جل، جنگل اور زمین پر ان کا وہ اختیار باقی رہنا چاہئے جو انہیں پرانے وقتوں سے حاصل ہے۔ پنڈت نہرو قبائلی آبادی کے انتظامی امور کو بھی مقامی افراد کے ذریعے انجام دیئے جانے کے حق میں تھے تاکہ  یہ احساس نہ ہو کہ باہر سے لوگ  ان پر کنٹرول کرنے کے لئے لائے گئے ہیں۔ یہ نکتہ چاہے آج جتنا تاریخی معلوم ہو، سچ یہ ہے کہ موجودہ وقت میں یہ پہلے ہی کی طرح  اہمیت کا حامل ہے۔ اسی ضمن میں نہرو یہ بھی چاہتے تھے کہ انتظامی امور کے تعلق سے بہت زیادہ چیزوں کو مسلط کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پرشاسن ایک ایسا لفظ ہے جو اپنے اختیارات کے ساتھ ہوتا ہے۔ عملی طور پر اس کی فطرت میں سختی شامل ہے۔ اس میں زیادتی کا در آنا ایک غیر معمولی صورتحال ہے جس کا سامنا ہمارے زمانے کو بھی ہے۔ پنڈت نہرو انتظامی امور کے تعلق سے بھی چاہتے تھے کہ قبائلی آبادی افراد کو یہ امور انجام دینا چاہئے۔ انہوں نے سختی سے اس بات کی مخالفت کی تھی کہ قبائلی زندگی سے وابستہ اشیاء کو میوزیم کا حصہ نہ بنایا جائے۔ مگر آج بھی یہ صورتحال کہیں کہیں باقی ہے۔ جو اشیاء  میوزیم چلی آتی ہیں تو تفریح کا وسیلہ بن جاتی ہیں۔ اشیاء تیز روشنی میں اپنی فطرت کا حسن کھونے لگتی ہیں۔
 گاندھی جی اور پنڈت نہرو کی فکر مندی میں مستقبل کی تعمیر کا راز پوشیدہ تھا۔ وہ مستقبل جو ہمارا موجودہ وقت ہے۔ خود کو سب سے فائق سمجھنے کی کوشش اور خواہش دونوں پنڈت نہرو کی نگاہ میں غیر اخلاقی تھی۔ قبائلی برادریوں کے درمیان فکری اور تہذیبی سطح پر اتحاد ایک ایسی حقیقت ہے جس کے سامنے سیاسی چالاکیوں کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں ملا۔ اس حقیقت کو قبائلی برادریوں کی تہذیبی قوت کا نام دینا چاہئے۔ یہ وہ برادریاں ہیں جن کے تعلق سے باہری اور اندرونی لوگوں اور اداروں کا ذکر کثرت سے آیا ہے۔ یہ ایک ایسی ریاست کا تصور ہے جس میں تہذیبی شناخت اپنی مقامیت کے ساتھ باقی رہے اور اسی کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی اسے اعتبار حاصل ہو۔ لیکن بعض تجزیہ کاروں نے اندرونی اور باہری لوگوں اور اداروں کے تعلق سے اپنی بے اطمینانی کا بھی اظہار کیا ہے۔ یعنی یہ بہت مشکل کام ہے کہ سارے اختیارات کسی خطے اور علاقے کے افراد کو دے دیئے جائیں۔ لیکن پنڈت نہرو کی تجویز میں جو بصیرت ہے اسے دیکھنے کے لئے بلکہ اس کی معنویت کو روشن کرنے کے لئے قومی اور تہذیبی سطح پر بہت سے مسائل کو زیر بحث لانا ٹھیک نہیں۔ یعنی قبائلی زندگی کے تعلق غور کرتے ہوئے ان کے جل ، جنگل اور زمین کے نعرے کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس نعرے کو ان کی تاریخ اور تہذیب کی روشنی میں دیکھا جائے۔ 
گاندھی جی کی نگاہ میں قبائلی برادری کی ترقی کا راز چرخہ اور کھادی کی طرف متوجہ ہونے میں ہے۔ پنڈت نہرو سمجھتے تھے کہ انہیں تعلیم یافتہ بنایا جائے تاکہ دنیا کی ترقیات کے ساتھ ایک رشتہ قائم ہو سکے۔ وہ قبائلی برادری کی کسی بھی ایسی ترقی کے خلاف تھے جس سے تہذیبی شناخت  متاثر ہوتی ہو. قدامت اور جدیدیت کے درمیان ایک توازن قائم کرنے کی کوشش نہرو کی فکر کا ایک اہم پہلو ہے۔ بقول زیب ؔغوری:
 کس قدر اک دوسرے سے لگتے ہیں مانوس زیب
 ناریل کے پیڑ یہ ساحل کے پتھر اور میں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK