فراغت کے ان لمحات میںبچے کے ساتھ بیٹھ کر اس کی پسندیدہ کتاب پڑھئے، کبھی اس کی پریشانیوں کو سنئے اور کبھی بلا کسی نصیحت کے اس کے ساتھ ہنسی مذاق کیجئے۔
EPAPER
Updated: November 05, 2026, 5:59 PM IST | Dr. Sharmeen Ansari | Mumbai
فراغت کے ان لمحات میںبچے کے ساتھ بیٹھ کر اس کی پسندیدہ کتاب پڑھئے، کبھی اس کی پریشانیوں کو سنئے اور کبھی بلا کسی نصیحت کے اس کے ساتھ ہنسی مذاق کیجئے۔
تعطیلات کا نام سنتے ہی بچوں کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اسکول کی گھنٹیوں، کتابوں، ہوم ورک اور امتحانات کی مصروفیات سے کچھ دنوں کی آزادی انہیں ایک نئی دنیا میں لے جاتی ہے۔ سرما کی تعطیلات بھی بچوں کے لئے خوشی، تفریح اور ذہنی سکون کا ایک خوبصورت موقع ہوتی ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ ان چھٹیوں کے اختتام پر ہمارے بچے اپنے ساتھ کیا لے کر لوٹتے ہیں؟ یہ سوال ہر ماں کے لئے بہت اہم ہے۔ ہر سال سرما کی چھٹیاں آتی ہیں اور یوں ہی گزر جاتی ہیں۔ لیکن اس مرتبہ اِن چھٹیوں کو بچوں کے لئے یادگار بنانے کی کوشش کریں۔
ماں کی توجہ، بچے کی سب سے بڑی دولت:
ایک ماں اپنے بچے کی پہلی معلم ہوتی ہے۔ اس کی باتوں، رویوں، عادات اور طرزِ عمل کا اثر بچے کی شخصیت پر گہرا ہوتا ہے۔ لیکن آج کی تیز رفتار زندگی میں اکثر مائیں گھریلو ذمہ داریوں، ملازمت، معاشی مسائل اور سماجی مصروفیات میں اس قدر الجھ جاتی ہیں کہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کا وقت کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ تعطیلات اس کمی کو پورا کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔ کبھی بچے کے ساتھ بیٹھ کر اس کی پسندیدہ کتاب پڑھئے، کبھی اس سے اس کے خوابوں کے بارے میں پوچھئے، کبھی اس کی پریشانیوں کو سنئے اور کبھی بلا کسی نصیحت کے اس کے ساتھ ہنسی مذاق کیجئے۔ بچوں کو ہمیشہ ہماری نصیحتوں کی ضرورت نہیں ہوتی؛ کبھی انہیں صرف ایک ایسے کان کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں توجہ سے سنے، اور ایسے دل کی جو ان کے جذبات کو سمجھے۔ ممکن ہے کہ آپ کے بچے کے ذہن میں کوئی ایسا سوال ہو جسے وہ اسکول میں پوچھنے سے جھجکتا ہو، یا کوئی ایسی پریشانی ہو جسے وہ اپنے دوستوں سے بھی بیان نہ کرسکتا ہو۔ آپ کی چند لمحوں کی توجہ اس کے دل کا بوجھ ہلکا کرسکتی ہے۔ بچوں کو قیمتی تحائف دینے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم انہیں اپنا قیمتی وقت دیں کیونکہ کھلونوں کی خوشی چند دنوں میں ختم ہوسکتی ہے، لیکن محبت، اعتماد اور اپنائیت کی یادیں عمر بھر ساتھ رہتی ہیں۔
چھوٹی چھوٹی خوشیاں، بڑے بڑے سبق:
تعطیلات کو مفید بنانے کے لئے مہنگے تفریحی مقامات یا بڑے بجٹ کی ضرورت نہیں۔ گھر میں خاندان کے ساتھ کھانا تیار کرنا، کسی اچھی کتاب پر گفتگو کرنا، شطرنج یا دوسرے ذہنی کھیل کھیلنا، پودے لگانا، پرانی چیزوں سے کارآمد اشیاء بنانا، مقامی تاریخی مقامات یا کتب خانوں کی سیر کرنا اور بچوں کے ساتھ مل کر آئندہ مہینے کے اہداف طے کرنا بھی بہترین سرگرمیاں ہوسکتی ہیں۔ ان سرگرمیوں سے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں، مشاہدے، فیصلہ کرنے کی قوت اور باہمی تعاون کو فروغ ملتا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بچوں کو غلطیاں کرنے اور ان سے سیکھنے کا موقع دیا جائے۔ ہر سرگرمی میں کامل کارکردگی کی توقع، ہر وقت تنقید اور دوسروں سے مقابلے کا دباؤ بچوں کی خود اعتمادی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کی چھوٹی کامیابیوں کو سراہنا اور ناکامی کے وقت ان کا حوصلہ بڑھانا والدین کے لئے زیادہ اہم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پیروں کی نگہداشت: چند باتوں کا خیال رکھئے
آئیے، ان چھٹیوں کو یادگار بنائیں!
سرما کی تعطیلات چند دنوں بعد ختم ہوجائیں گی، بچے دوبارہ اسکول جانے لگیں گے اور زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہوجائے گی۔ لیکن ان دنوں میں سیکھی گئی اچھی عادتیں، ماں کے ساتھ ہونے والی گفتگو، خاندان کے ساتھ گزارے گئے خوشگوار لمحات اور لذیذ پکوانوں کے ذائقے بچوں کے ساتھ طویل عرصے تک رہ سکتے ہیں۔ آج ہمیں خود سے ایک سوال کرنا چاہئے، کیا ہم اپنے بچوں کو صرف بہتر سہولتیں فراہم کرنے کی فکر میں ہیں، یا انہیں بہتر انسان بنانے کے لئے بھی وقت نکال رہے ہیں؟ بچے ہماری باتوں سے ضرور سیکھتے ہیں، لیکن ہمارے عمل سے کہیں زیادہ سیکھتے ہیں۔ ہم انہیں وقت کی پابندی کا درس دیں تو خود بھی وقت کی قدر کریں، مطالعے کی اہمیت بتائیں تو خود بھی کتاب اٹھائیں، دوسروں کے احترام کی تلقین کریں تو اپنے رویے سے اس کا مظاہرہ کریں۔
یاد رکھئے، بچوں کی تربیت کسی ایک دن، کسی ایک نصیحت یا کسی ایک کتاب سے مکمل نہیں ہوتی۔ یہ محبت، اعتماد، مسلسل رہنمائی اور عملی مثالوں سے پروان چڑھنے والا ایک طویل سفر ہے۔ چھٹیاں صرف کیلنڈر پر درج چند خالی دنوں کا نام نہیں، بلکہ بچوں کے ذہنوں میں علم، دلوں میں محبت اور کردار میں انسانیت کے بیج بونے کا بہترین موقع ہیں۔
آئیے، اس موقع کو ضائع نہ کریں۔ اپنے بچوں کو صرف خوشحال مستقبل کے خواب نہ دکھائیں بلکہ انہیں ایسا مستقبل تعمیر کرنے کے قابل بھی بنائیں جس میں علم کی روشنی، اخلاق کی خوشبو، خود اعتمادی کی طاقت اور انسانیت کی خوبصورتی موجود ہو۔ کیونکہ آج ہم اپنے بچوں کے اندر جو خوبیاں پروان چڑھائیں گے، کل وہی خوبیاں ہمارے خاندان، ہمارے معاشرے اور ہمارے ملک کا روشن مستقبل بنیں گی۔