اتھنال پورے ملک میں موضوع بنا ہوا ہے۔ اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گزشتہ روز دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ کی کوشش کی مگر اُنہیں روک دیا گیا۔
EPAPER
Updated: August 06, 2026, 3:29 PM IST | Mumbai
اتھنال پورے ملک میں موضوع بنا ہوا ہے۔ اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گزشتہ روز دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ کی کوشش کی مگر اُنہیں روک دیا گیا۔
اتھنال پورے ملک میں موضوع بنا ہوا ہے۔ اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گزشتہ روز دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ کی کوشش کی مگر اُنہیں روک دیا گیا۔ اپوزیشن کی بڑی پارٹیاں ۲۰؍ جولائی کو طلبہ پر ہونے والی کارروائی اور رام مندر میں چندہ اور چڑھاوا چوری کے خلاف مصروفِ احتجاج ہیں خواہ ایوان پارلیمان میں ہو یا باہر۔ کئی دن سے پارلیمانی کارروائی متاثر ہیں، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ایوان میں نہیں آرہے ہیں جس سے اپوزیشن پارٹیاں چراغ پا ہیں، ایسے میں اتھنال کا موضوع کہیں پیچھے چھو‘ٹ رہا تھا مگر عام آدمی پارٹی نے اپوزیشن سے الگ مگر اپوزیشن ہی کا موضوع اُٹھاکر اِس کمی کو پورا کیا۔ اس کے تین فوائد ہیں۔ ایک یہ کہ اتھنال کا مسئلہ، جس کے خلاف ماحول بن بن کر ٹوٹ رہا تھا، چھوٹی سرخیوں سے بڑی سرخیوں میں آیا۔ دوسرا یہ کہ عام آدمی پارٹی بھی کچھ کرتی ہوئی دکھائی دی۔ تیسرا یہ کہ ایک بار پھر اتھنال پر ملک متوجہ ہوا جس کی جانب سے حکومت توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایم ایس ایم ای ترمیمی بل
اتھنال اہم مسئلہ ہے۔ اس ملاوٹ کو روکا نہیں گیا تو گاڑیاں خراب ہوتی رہیں گی، مائلیج کم ہوتا رہے گا اور تیل کی مہنگائی سے تیل کمپنیوں کے تو وارے نیارے ہونگے مگر موٹر گاڑی مالکان نقصان اُٹھاتے رہیں گے جن کے اس معقول مطالبے پر غور نہیں کیا جارہا ہے کہ ایندھن کے مراکزپر اتھنال ملا ہوا اَوربغیر ملا ہوا تیل دستیاب کرایا جائے۔ کل ہی، دہلی میں ایک جانب عام آدمی پارٹی کا احتجاج تھا تو دوسری جانب دہلی کی ٹرانسپورٹ اسوسی ایشنوں نے پارلیمنٹ تک مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا مگر اُنہیں بھی روک دیا گیا جس کا نتیجہ تھا کہ مظاہرین راج گھاٹ گئے اور مہاتما گاندھی کی سمادھی پر پہنچ کر خراج عقیدت پیش کیا۔ اس سے ایک روز قبل ناگپور میں یوتھ کانگریس کے کارکنان نے نتن گڈکری کی رہائش گاہ پر مورچہ لے جانے کی کوشش کی تھی مگر اُنہیں بھی روک دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: افسر شاہی اور تکا رام منڈے
پیٹرول جس قیمت پر مل رہا تھا اور جس میں لگاتار اضافہ ہوتا رہا، اتھنال کی ملاوٹ کے بعد اس میں کمی آنی چاہئے تھی مگر قیمت بھی کم نہیں ہوئی اور گاڑیاں بھی خراب ہورہی ہیں۔ فیول انجیکٹر، فیول پائپ، ای جی آر والو، ایگزاسٹ کمپوننٹ وغیر کے تعلق سے شکایت عام ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ اتھنال کو اس لئے بھگتنا پڑ رہا ہے کہ اس کا تعلق بھی حکومت کی امریکہ پالیسی سے ہے۔ امریکہ اتھنال کا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے۔ نئی دہلی پر اس کا کتنا دباؤ ہے سب جانتے ہیں۔ قیاس آرائی نہ کرتے ہوئے اعدادوشمار دیکھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ سے اتھنال کی درآمد سال ۲۰۲۵ء میں ۷۹؍ فیصد تھی جو ۲۰۲۶ء میں ۹۴؍ فیصد ہوگئی۔ ۱۵؍ جولائی کے فنانشیل ایکسپریس میں نتن گڈکری کا یہ بیان شائع ہوا ہے کہ ملک میں اتھنال کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ۲۰۱۶ء میں ۴۵۰؍ ملین لیٹر پیداوار ۲۰۲۵ء میں ۹۷۰۰؍ ملین لیٹر ہوگئی۔ اس طرح اعدادوشمار بھی گواہی دے رہے ہیں کہ اتھنال کی ملاوٹ مجبو راً نہیں، قصداً ہے اور شاید بڑے پیمانے پر ہے۔ حقیقت کیا ہے اس پرپارلیمنٹ میں بحث ہونی ہی چاہئے، حکومت کو جواب دینا ہی چاہئے۔