Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچوں کی تربیت اور سادگی کا شعور: فکرانگیز تحریر

Updated: June 24, 2026, 1:44 PM IST | Nikhat Mominati | Mumbai

اللہ تعالیٰ نے آپ کو اولاد جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی ہے، اولاد صرف ہمارے گھروں کی رونق نہیں بلکہ اللہ کی امانت بھی ہیں۔ جس طرح ہم ان کے جسم کی پرورش کرتے ہیں اسی طرح ان کے دل، دماغ، کردار اور فکر کی پرورش بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

Pictured Bags And Other Attractive Items Distract Children`s Minds.Photo:INN
تصویر والے بیگز اور دیگر پُرکشش اشیاء بچوں کا ذہن منتشر کرتی ہیں-تصویر:آئی این این
اللہ تعالیٰ نے آپ کو اولاد جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی ہے، اولاد صرف ہمارے گھروں کی رونق نہیں بلکہ اللہ کی امانت بھی ہیں۔ جس طرح ہم ان کے جسم کی پرورش کرتے ہیں اسی طرح ان کے دل، دماغ، کردار اور فکر کی پرورش بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ایک بچہ صرف کتابوں سے نہیں سیکھتا ہے بلکہ اپنے ماحول، اپنے گھر، اپنے لباس، اپنی استعمال کی اشیاء اور اپنے والدین کے رویوں سے بھی بہت کچھ سیکھتا ہے۔ آج ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ظاہری چمک دمک کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ بچوں کے بیگ، پانی کی بوتلیں، ٹفن باکس، پینسل باکس اور دیگر سامان مختلف جاندار تصاویر، کارٹون کرداروں اور دلکش نقش و نگار سے بھرے ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ چیزیں معمولی معلوم ہوتی ہیں لیکن ایک معلمہ کی حیثیت سے ہم روزانہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہی چیزیں بچوں کی توجہ کو علم سے ہٹا کر ظاہری دلکشی کی طرف منتقل کر دیتی ہیں۔ ہمارا مقصد بچوں کو صرف پڑھانا نہیں ہے بلکہ ان کے اندر علم کی عظمت، کتاب کا احترام اور سادگی کی محبت پیدا کرنا ہے۔ جب ایک بچہ اپنے بیگ کو علم کا خزانہ سمجھنے کے بجائے ایک نمائش کی چیز سمجھنے لگے تو تربیت کا ایک اہم مقصد متاثر ہونے لگتا ہے۔
محترم والدین! کتاب محض کاغذ کے چند اوراق کا نام نہیں بلکہ کتاب علم کا دروازہ ہے، انبیاء کی میراث تک پہنچنے کا وسیلہ ہے، ہمارے اسلاف کی محنت کا نچوڑ ہے۔ جس قوم نے کتاب کا احترام کیا وہ عزت و سربلندی تک پہنچی اور جس قوم نے کتاب سے رشتہ کمزور کیا وہ زوال کا شکار ہوئی۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بہت سے بچوں کے نزدیک بیگ کی خوبصورتی اہم ہے مگر اس کے اندر موجود کتابوں کی قدر کم ہوتی جارہی ہے۔ بچے اپنے بیگ کے رنگ و ڈیزائن پر توجہ دیتے ہیں لیکن کتاب کو صاف رکھنے، اس کی حفاظت کرنے اور اس سے محبت کرنے کی طرف کم مائل ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال ہم سب کیلئے باعث ِ فکر ہونی چاہئے ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ بچوں کی ہر خوشی ختم کر دی جائے یا ان کی ہر جائز پسند کو نظر انداز کیا جائے بلکہ راقمہ کا خیال یہ ہے کہ؎
ان ننھے ننھے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو
دو چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے
لیکن ہم یہ ضرور عرض کرتے ہیں کہ ان کی تربیت کا رخ سادگی اور وقار کی طرف ہونا چاہئے۔ اگر بچے کے بیگ پر جاندار تصاویر نہ ہوں، اگر اس کی بوتل اور ٹفن سادہ ہو، اگر اس کی سامان میں وقار اور سنجیدگی ہو تو آہستہ آہستہ اس کی طبیعت میں بھی سنجیدگی پیدا ہوگی۔ اسلام نے سادگی کو پسند فرمایا ہے، سادگی انسان کو تکبر سے بچاتی ہے، فضول خرچی سے روکتی ہے اور شخصیت میں وقار پیدا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور اہم پہلو بھی قابل غور ہے جب ایک بچہ مہنگے اور آرائش سے مزین سامان کے ساتھ اسکول آتا ہے اور دوسرا بچہ مالی کمزوری کی وجہ سے ایسا سامان نہیں لاسکتا تو بعض اوقات اس کے دل میں احساس ِ محرومی پیدا ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات ہمیں ایسے ماحول کی تشکیل کا درس دیتی ہیں جہاں امیر و غریب دونوں عزت اور اطمینان کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکیں۔ سادگی اس مقصد کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ پیارے والدین! ہم آپ کے تعاون کے بغیر اپنے تربیتی مقاصد حاصل نہیں کرسکتے، ہم آپ سے مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ:
٭بچوں کے لئے سادہ اور باوقار بیگ خریدنے کو ترجیح دیں۔
٭حتی الامکان جاندار تصاویر والی اشیاء سے اجتناب کریں۔
٭بچوں کو کتابوں کی تعظیم اور حفاظت کی تعلیم دیں۔
انہیں سمجھائیں کہ اصل خوبصورتی کردار میں ہے، سامان میں نہیں۔ ان کے دلوں میں علم کی محبت پیدا کریں۔ سادگی کو محرومی نہیں بلکہ شرافت اور وقار کی علامت بنا کر پیش کریں۔ یاد رکھئے آج جو بچہ اپنے بیگ کی تصویر پر فخر کرتا ہے کل وہ ظاہری نمائش کا عادی بن سکتا ہے لیکن جو بچہ اپنی کتاب سے محبت کرنا سیکھ لیتا ہے وہ علم کا قدردان بنتا ہے اور علم کا قدردان انسان ہی معاشرے کا سرمایہ بنتا ہے تو آئیے ہم سب مل کر اپنے بچوں کو ایسی نسل بنائیں جو ظاہری چمک دمک سے زیادہ علم کی روشنی کو اہمیت دیں، جو فیشن سے زیادہ اخلاق کو پسند کریں، جو نمائش سے زیادہ سادگی کو اپنائے اور جو تصویروں سے زیادہ کتابوں سے محبت کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں کو علم نافع، ادب کامل، اخلاق حسنہ اور سادگی کی دولت عطا فرمائے اور ہمیں ان کی بہترین تربیت کی توفیق نصیب فرمائے (آمین)۔n
(مضمون نگار ملت اسکول، جوگیشوری کی معلمہ ہیں)

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK