قومی میڈیا اکثر کئی خبروں کو دوسرا رُخ دے دیتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران اسے اس کام میں خاصی مہارت حاصل ہوگئی ہے۔
EPAPER
Updated: October 24, 2026, 3:41 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
قومی میڈیا اکثر کئی خبروں کو دوسرا رُخ دے دیتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران اسے اس کام میں خاصی مہارت حاصل ہوگئی ہے۔
قومی میڈیا اکثر کئی خبروں کو دوسرا رُخ دے دیتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران اسے اس کام میں خاصی مہارت حاصل ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سوں نے ٹی وی کے نیوز چینل دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ خبروں کو دوسرا رُخ کس طرح دیا جاتا ہے اس کی نہ تو مثال پیش کرنے کی ضرورت ہے (جو سیکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں) نہ ہی اس کے مقصد پر روشنی ڈالنے کی۔ قارئین ان معاملات سے کماحقہ واقف ہیں۔ اگر ٹی وی چینل ٹیکنالوجی کی پیداوار تھے تو قدرت نے ان کے طور طریقے دیکھ کر ٹیکنالوجی ہی کی ایک نئی پیداوار فراہم کردی جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کی شکل میں عام ہوچکی ہے۔ خبروں کے یہ ذرائع اب متبادل یا متوازی میڈیا کے طور پر مستحکم ہوچکے ہیں۔ چونکہ ان کے استعمال میں غیر معمولی سہولت ہے اس لئے ان کی مقبولیت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ہر عمر کے لوگ خبروں سے واقفیت کیلئے اب سوشل میڈیا کا استعمال کررہے ہیں۔
ہرچند کہ ہمارے پاس کوئی ڈیٹا یا اعداد و شمار نہیں ہیں مگر گمان غالب ہے کہ متبادل ذرائع سے خبریں حاصل کرنے والے صارفین کی مجموعی تعداد ٹی وی چینلوں پر خبریں دیکھنے اور سننے والوں کی مجموعی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہوگی۔ متبادل اور متوازی ذرائع کی مقبولیت کا سب سے بڑا سبب عوامی جذبات کی ترجمانی ہے۔ اِس فریضے کی ادائیگی ٹی وی چینل کب کا ترک کر چکے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’قدرت بھی مدد فرماتی ہے جب کوشش انساں ہوتی ہے!‘‘
جب نشریات میں عوام کی بات نہیں رہی اور عوام کے جذبات نہیں رہے تو ٹی وی چینلوں نے اپنی رُسوائی کا سبب خود پیدا کرلیا۔ اسی لئے جب ممتاز صحافی رویش کمار نے اپنے مخصو ص طنزیہ انداز میں ان چینلوں اور اقتدار کی بولی بولنے والے دیگر صحافتی حلقوں کو گودی میڈیا کہا تو یہ باقاعدہ اصطلاح بن گئی اور اب کوئی ایک آدمی ایسا نہیں ملے گا جو گودی میڈیا کو نہ جانتا ہو۔ یہ اصطلاح اس لئے زبان زد ہوئی کہ اس کے ذریعہ عوام کے جذبات کی ترجمانی کی گئی۔
ٹی وی چینلوں اور ان جیسے صحافتی حلقوں سے آج بھلے ہی کوئی نہ پوچھ رہا ہو کہ آپ کی صحافت کس کام کی، مگر کل جب حالات بدلیں گے، یقیناً ان سے پوچھا جائیگا اور انہیں راہِ راست پر آنا پڑیگا مگر تب تک مورخ ان کی جعلی ترجیحات کی داستان لکھچکا ہوگا۔ حالیہ مہینوں میں ان صحافتی حلقوں نے جین زی کے احتجاج کو جس انداز میں پیش کیا وہ جگ ظاہر ہے۔ یہ وہی چینل اور صحافتی حلقے ہیں جنہوں نے یوپی اے کے دور میں انا ہزارے کے آندولن کو کئی کئی گھنٹے اس طرح کور کیا تھاکہ رالے گن سدھی جیسے غیر معروف قصبے کے کم معروف انا ّ کو قومی اور عالمی شہرت ملنے لگی تھی۔ اُنہیں دوسرا گاندھی قرار دیا جارہا تھا۔اب یہی دیکھئے کہ ایس آئی آر کا اتنا بڑا تنازع ہے، کروڑوں شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکل چکے ہیں اور مزید کے نکل سکتے ہیں مگر نہ تو نیوز چینلوں نے اس کو لائق اعتناء سمجھا نہ ہی اُن اخبارات نے جو اقتدار کے مفادات کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ گزشتہ روز دہلی اور دیگر شہروں میں سول سوسائٹی نے مارچ کیا اور جگہ جگہ جنتر منتر بنایا مگر آپ دیکھ لیجئے گا اسے غیر اہم خبر بنا کر پیش کیا جائیگا۔ یہی تو ہورہا ہے مگر تابکے (کب تک)؟