• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’قدرت بھی مدد فرماتی ہے جب کوشش انساں ہوتی ہے!‘‘

Updated: October 24, 2026, 3:35 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

زندگی جینے کا سلیقہ از خود نہیں پیدا ہوجاتا۔ اس کے لئے دوسروں سے سیکھنا پڑتا ہے۔ مثالیں سامنے رکھ کر ترغیب لینی پڑتی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

کچھعرصہ پہلے اس کالم میں امریکہ کے ایک اسکول کی بابت بتایا گیا تھا کہ وہاں معذوروں سے ہمدردی کا جذبہ بیدار کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کے مقصد سے ایک انوکھی پہل کی گئی۔ اس سلسلے کے تحت طلبہ کو بار ی باری، نا بینا بن کر ایک دن گزارنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ جس دن جس طالب علم کی باری ہوتی ہے اس کیلئے اُس دن صبح سے آنکھ کھول کر دیکھنا ممنوع ہوتا ہے۔ بستر سے اُٹھنے سے لے کر رات کو بستر پر جانے تک پورا دن وہ نابینا کی طرح گزارتا ہے۔ اس دوران ساتھی طلبہ اس کی مدد کرتے اور اُس کا سہارا بنتے ہیں۔ اس ایک دن میں متعلقہ طالب علم کو گہرائی کے ساتھ معذوروں کی زندگی کا احساس ہوجاتا ہے نیز ساتھی طلبہ میں معذوروں کی مدد کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں اسکولوں میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ ہوتا بھی ہے تو بہت کم، وہ بھی پردۂ خفا میں رہ جاتا ہے۔ 

پورا ایک دن آنکھوں پر پٹی باندھ کر رہنا کتنا دشوار ہوتا ہوگا یہ وہی طلبہ بتا سکتے ہیں جنہوں نے اس کا تجربہ کیا ہو۔عام آدمی ایک گھنٹہ بھی اس طرح نہیں گزار سکتا۔ وہ بے چین ہوجائیگا اور اُسے گھٹن ہونے لگے گی۔ صرف نابیناؤں کی بات نہیں۔ کسی بھی طرح کے معذور کے بارے میں سوچ کر دیکھئے۔ کسی کا ہاتھ نہیں ہے۔ کسی کا پیر نہیں ہے۔ کوئی اس حد تک بیمار ہے کہ چل پھر نہیں سکتا۔ یہ بھی معذوری ہے۔ امریکی اسکول کے تجربہ سے فائدہ اُٹھا کر کیا کوئی شخص ایک دن ایک پیر سے اس طرح چل پھر کر دکھا سکتا ہے یا ایک ہاتھ باندھ کر اس طرح رہ سکتا ہے کہ اُس کے معمولات متاثر نہ ہوں؟ 

یہ بھی پڑھئے: کیا سی جے پی حکمت عملی بدل رہی ہے؟

۲۰۰۲ء میں جب وہ محض ۱۳؍ سال کی تھی، مالویکا ایئر (دیکھئے تصویر) نے ایک ایسے گرینیڈ کو چھو‘ لیا تھا جس کے بارے میں عام طور پر سمجھا جاتا تھا کہ وہ بے اثر ہوچکا ہے۔ مالویکا نے جیسے ہی چھو‘ا، گرینیڈ اپنی پوری طاقت کے ساتھ پھٹ گیا۔ زوردار دھماکہ ہوا اور پلک جھپکتے ہی مالویکا کی زندگی، جو ابھی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوئی تھی، بکھر گئی۔ اس کے دونوں ہاتھ بے کار ہوگئے اور ایک پیر اس طرح جھو‘ل گیا جیسے جسم سے الگ ہوجائیگا۔ مالویکا اور اس کے والدین پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ ایک سرجری ہوئی، دوسری ہوئی۔ وہ کئی ماہ اسپتال میں زیر علاج رہی۔ ایک اسپتال، دوسرا اسپتال۔ زندگی جب اس طرح بھنور میں آجاتی ہے تو چاروں طرف بھنور ہی بھنور دکھائی دیتا ہے، ساحل کی تمنا خود فریبی محسوس ہوتی ہے مگر نہ تو مالویکا نے ہمت ہاری نہ ہی اُس کے والدین نے۔ والدہ اور وہ، جیسے ایک جان دو قالب بن گئے۔ ایک بڑی قیامت کے بعد کئی چھوٹی چھوٹی قیامتیں اُن کے حوصلے کو آزماتی رہیں مگر ان کی ہمت اور حوصلہ کے آگے بالکل اُسی طرح بے اثر ہوتی گئیں جس طرح ساحل سے ٹکرا کر طغیانی موجیں بھی اپنا وجود کھو دیتی ہیں۔ اب مالویکا نے، جسے پڑھائی لکھائی سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی، خالی وقت گزارنے کیلئے تعلیم کی طرف توجہ دی، پرائیویٹ کینڈیڈیٹ کے طور پر، چنئی کے اسپتال میں رہتے ہوئے ،  ایس ایس سی کا امتحان دیا۔ اس کی داستان المناک سن کر سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے اُسے راشٹر پتی بھون آنے کی دعوت دی تھی۔

اب مالویکا سمجھ رہی تھی کہ وہ تعلیم کے ذریعہ ہی منزل تک پہنچ سکتی ہے۔ حادثہ کے وقت وہ بیکانیر میں تھی۔ اسکولی تعلیم کے بعد وہ نئی دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج پہنچی اور معاشیات میں گریجویشن کیا۔ پھر دہلی اسکول آف سوشل ورک سے ماسٹر اِن سوشل ورک مکمل کیا ۔ سوشل ورک ہی میں مدراس اسکول آف سوشل ورک سے اُس نے ایم فل اور پھر پی ایچ ڈی کیا۔

آگے بڑھنے سے پہلے جان لیجئے کہ مالویکا کو ۸؍ مارچ ۲۰۱۸ء کو اُس وقت کے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے ہاتھوں ویمن اِمپاورمنٹ کے شعبے میں دیا جانے والا ملک کا سب سے بڑا ’’ناری شکتی پرسکار‘‘ دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی اُسے کئی قومی اور بین الاقوامی انعامات و اعزازات مل چکے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:تربیتِ عقل، تہذیبِ قلب، ضبطِ روح اور تعلیم

مالویکا کی کہانی طویل ہے اور مَیں یہ سوچ کر قصہ مختصر کررہا ہوں کہ جس طرح مضمون نگار قارئین کو بہت سی باتیں بتاتا ہے، قارئین کو بھی چاہئے کہ اپنے طور پر کچھ معلومات حاصل کرکے دوسروں کو بتائیں کہ چراغ سے چراغ جلے گا تو روشنی کا دائرہ وسیع ہوگا۔ یہاں  مالویکا کا تعارف کروا دیا گیا، اب آپ مزید تفصیل حاصل کرکے دوسروں کو بتائیں گے تو یقیناً مجھ سے بہتر انداز میں بتا پائیں گے۔  مالویکا جیسی ہمت اور حوصلے کی درجنوں سچی کہانیاں ہیں۔ ایک سچی کہانی ممبئی کی ڈاکٹر روشن جہاں شیخ کی ہے جس سے قارئین بخوبی واقف ہیں۔ روشن نے ۸۶؍ تا ۸۹؍ فیصد جسمانی کمزوری کے باوجود نہ صرف اسکولی تعلیم مکمل کی بلکہ میڈیکل کا داخلہ امتحان اور پھر میڈیکل کی تعلیم مکمل کی جس کیلئے اُسے عدالت میں بھی فریاد کرنی پڑی تھی۔ اس نے ۲۰۱۶ء میں ایم بی بی ایس کیا اور ۲۰۲۱ء میں چوتھا رینک پاتے ہوئے ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 

وہ مالویکا ہو یا روشن جہاں، انہوں نے اور ان کے اہل خانہ نے کیسے کیسے مصائب کا سامنا کیا ہوگا مگر سپر نہیں ڈالی۔ ایسی مثالوں سے اگر کچھ سیکھنے کو ملتا ہے تو یہی کہ اپنے ہدف کو پانے میں ہر رُکاوٹ کا دیوانہ وار مقابلہ کیا جائے تب ہی انسان دوسروں کیلئے مثال بنتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ انسان نہ تو دوسروں سے سیکھتا ہے نہ ہی دوسروں کو بتاتا ہے۔ زندگی ہمت اور حوصلہ ہی ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ہمت کوئی بہت مہنگی شے ہو اور بازار میں کمیاب ہو۔ یہ ازخود پیدا کرنی پڑتی ہے جس میں مالویکا اور روشن جیسی مثالیں بہت کارگر ثابت ہوتی ہیں۔سرسید نے ایک جگہ لکھا تھا کہ’’ مصیبت کا کوئی مستقل مفہوم نہیں ہے، بلکہ نسبتی مفہوم معلوم ہوتاہے۔ جو چیز کہ ایک کیلئے مصیبت ہو ممکن ہے کہ دوسرے کیلئے نہ ہو۔ وہ عادت اور استعمال سے ایسی مختلف ہو جاتی ہے کہ مصیبت معلوم نہیں ہوتی۔‘‘ مالویکا اور روشن نے عادت اور استعمال سے مصیبت کو مصیبت نہیں بننے دیا، راحت بنا کر دم لیا۔ اِن بچیوں کو سماج اور معاشرہ میں جو مرتبہ ملا، وہ ناگہانی کو شادمانی میں بدلنے کی وجہ سے ملا۔ انسان رول ماڈل ایسے ہی نہیں بنتا۔حادثات کو مخصوص معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ حادثہ وہ بھی ہے جس کے باوجود جسم تو محفوظ رہے مگر ذہن کی دُنیا اُلٹ جائے۔ حادثہ ہر وہ چیز ہے جو اُمید کے برخلاف ہو۔ ایسی ہر جگہ ہمت درکار ہوتی ہے جو فتح دلاتی ہے اور سرخرو کرتی ہے۔ ہمت کا دامن تھامنا چھوٹے بڑے ہر حادثہ سے دامن بچانا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK