• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملئے ریاست بہار کے ’تکا رام منڈے‘ کمار روی سے، ملاوٹی اشیاء کے خلاف مہم جاری

Updated: October 24, 2026, 4:02 PM IST | Patna

بہار میں دودھ، مٹھائی، مسالوں، ہوٹلوں اور فوری ترسیل کے گوداموں کی جانچ تیز کردی گئی ہے۔ ریاست کے محکمۂ صحت کے سیکریٹری اور فوڈ سیفٹی کمشنر کمار روی کی قیادت میں ۳۸؍ اضلاع میں کارروائی کی گئی، لیکن اصل امتحان صرف خراب خوراک پکڑنا نہیں بلکہ عوام میں بیداری پیدا کرنا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مستقل قانونی کارروائی یقینی بنانا ہے۔

Kumar Ravi. Picture: INN
کمار روی۔ تصویر: آئی این این

بہار میں کھانے پینے کی اشیا کے معیار اور صفائی کے معاملے میں انتظامیہ نے کارروائی تیز کردی ہے۔ ریاست کے محکمۂ صحت کے سیکریٹری اور فوڈ سیفٹی کمشنر کمار روی کی قیادت میں گزشتہ ۳؍ ماہ کے دوران ریاست کے تمام ۳۸؍ اضلاع میں ۵۳۱؍ مقامات کا معائنہ کیا گیا۔ اس دوران ۳۲ء۱۷؍ لاکھ روپے مالیت کی غذائی اشیا ضبط یا تلف کی گئیں، ۱۵؍ اداروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی اور ۲؍ اداروں کے لائسنس معطل کیے گئے۔ یہ مہم اس لیے اہم ہے کہ غیر محفوظ خوراک سے ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے صرف خلاف ورزی سامنے آنے کے بعد کارروائی کافی نہیں؛ اس کے لیے مسلسل نگرانی، جانچ اور عوامی تعاون بھی ضروری ہے۔
کمار روی ۲۰۰۵ء بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کانپور سے تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ ان کے بیچ کے افسر تُکارام مُنڈھے مہاراشٹر میں غیر محفوظ خوراک اور ناقص صفائی کے خلاف اپنی نمایاں مہم کے باعث سرخیوں میں رہے ہیں۔ اب بہار میں کمار روی اسی نوعیت کے عوامی صحت کے مسئلے سے نمٹ رہے ہیں، لیکن یہاں چیلنج کی نوعیت کچھ مختلف ہے۔ ریاست میں صارفین کی بیداری یکساں نہیں، ہر شخص کو یہ معلوم نہیں کہ خراب یا غیر محفوظ خوراک کی شکایت کہاں درج کرائی جائے، اور بعض لوگ شکایت کرنے کے بجائے متعلقہ دکان پر جانا چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف عوامی شکایات کا انتظار نہ کرے بلکہ خود بھی خطرات کی نشاندہی کرے۔

یہ بھی پڑھئے: رائے گڑھ میں طلبہ کی شدید کمی، ضلع پریشد کے۳۶۰؍ اسکول بند ہونے کے دہانے پر

محکمۂ صحت کی کارروائی میں دودھ اور دودھ سے بنی اشیا، مٹھائیوں، تلی ہوئی غذاؤں، مسالوں، ہوٹلوں، ریستورانوں، کیٹرنگ سروسیز، خوردہ دکانوں اور آن لائن ترسیل کے گوداموں کو شامل کیا گیا ہے۔ حکام نے خوراک کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کے طریقوں، صفائی، میعادِ استعمال اور اشیا کو محفوظ رکھنے کے انتظامات کی جانچ کی۔ اس مہم کے تحت معروف فوڈ برانڈز کے مراکز کے ساتھ مقامی کاروباری اداروں کا بھی معائنہ کیا گیا۔ جن مقامات پر خامیاں سامنے آئیں، وہاں غذائی نمونے جمع کیے گئے، اصلاح کے نوٹس جاری کیے گئے یا خلاف ورزی کی نوعیت کے مطابق کارروائی کی گئی۔ ۲۲؍ اکتوبر کو پٹنہ میں بلنک اِٹ کے ایک اسٹور سے ۴۰؍ لیٹر میعاد ختم ہوچکا امول دودھ ضبط کرکے تلف کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔ ایک دوسرے اسٹور پر میعاد ختم ہوچکے گھی، آٹے اور مسالوں کی موجودگی بھی رپورٹ کی گئی۔ حاجی پور میں صاحب ہوٹل کے خلاف کارروائی اس وقت کی گئی جب کاکروچ کی موجودگی سے متعلق شکایت کے بعد کچن کا معائنہ کیا گیا اور وہاں صفائی کے ناقص انتظامات پائے گئے۔ حکام نے ہوٹل کا لائسنس معطل کرکے اس کا کام بند کرادیا۔ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ خوراک کا غیر محفوظ ہونا صرف ملاوٹ تک محدود نہیں؛ میعاد ختم شدہ اشیا، نامناسب ذخیرہ، ناقص صفائی اور کھانا تیار کرنے کے غیر صحت بخش طریقے بھی انسانی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
مہم کو مؤثر بنانے کے لیے محکمۂ صحت نے افسران کی تربیت پر بھی توجہ دی ہے۔ ضلعوں میں معائنہ اور چھاپہ مار ٹیموں کی قیادت کے لیے تعینات کیے جانے والے اہلکاروں کو ۱۴؍ دن کی ابتدائی تربیت اور اس کے بعد ۲۶؍ دن کی عملی تربیت دی گئی۔ حکام کو دودھ، مٹھائیوں، تلی ہوئی اشیا، مسالوں اور دیگر غذائی مصنوعات کے خصوصی معائنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ہوٹلوں، ریستورانوں، کیٹرنگ سروسیز اور ای کامرس کے گوداموں کی جانچ کے ساتھ معائنے کی رپورٹیں روزانہ فوڈ سیفٹی کمپلائنس سسٹم (FoSCoS) پورٹل پر اپ لوڈ کرنے اور عوامی شکایات پر فوری کارروائی کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ کمار روی اس مہم کی روزانہ نگرانی کرتے ہیں اور عوامی شکایات کے لیے واٹس ایپ کو بھی استعمال کررہے ہیں۔ ان کے لیے خوراک کی حفاظت محض انتظامی فائل یا کبھی کبھار ہونے والی کارروائی کا معاملہ نہیں، بلکہ عوامی صحت سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ محکمۂ صحت کے سیکریٹری کی حیثیت سے وہ بیماریوں کے بوجھ اور علاج کے لیے اسپتال پہنچنے والے مریضوں کی صورت حال سے واقف ہیں؛ جبکہ فوڈ سیفٹی کمشنر کی ذمہ داری انہیں بیماریوں کے بعض خطرات کو ان کے پیدا ہونے سے پہلے کم کرنے کا موقع دیتی ہے۔ اس مہم کا مقصد اسی تعلق کو عملی شکل دینا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایم ایل سی الیکشن: سپریہ سُلے نے بی جے پی پر پیسے تقسیم کرنے کا الزام لگایا

محکمۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، رپورٹ میں شامل مدت کے دوران پٹنہ میں ۸۷، روہتاس میں ۴۱، سارن میں ۴۰؍ اور گوپال گنج میں ۳۷؍ مقامات کا معائنہ کیا گیا۔ یہ اعداد ریاست کے مختلف اضلاع میں کارروائی کی وسعت دکھاتے ہیں، لیکن صرف معائنوں کی تعداد سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ تمام علاقوں میں خطرات کس حد تک کم ہوئے ہیں۔ اس کے لیے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کتنے غذائی نمونوں کی لیبارٹری جانچ میں خلاف ورزیاں ثابت ہوئیں، کتنے اداروں نے اصلاحی نوٹس پر عمل کیا اور کتنے مقدمات قانونی انجام تک پہنچے۔ اس مہم کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ کارروائی محض چھاپوں، ضبطی اور خبروں تک محدود نہ رہ جائے۔ معائنے کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کو دور کرانا، دوبارہ خلاف ورزی ہونے سے روکنا اور قصوروار اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی مکمل کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر صارفین کو شکایت درج کرانے کا آسان راستہ ملے، انتظامیہ شکایات پر بروقت ردعمل دے اور دکانوں کی جانچ مسلسل جاری رہے تو غیر محفوظ خوراک کی فروخت کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ بہار میں کمار روی کی مہم نے ابتدا میں ۵۳۱؍ معائنوں اور متعدد کارروائیوں کے ذریعے اپنی سرگرمی دکھائی ہے، لیکن اس کی حقیقی کامیابی کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ آیا اس سے خوراک کے معیار میں مستقل بہتری آتی ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK