• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تھلاپتی وجے کی حکومت

Updated: September 10, 2026, 3:25 PM IST | Inquilab News Network

تمل ناڈو کی اس نئی نویلی پارٹی کی حکومت، جس کی انتخابی کامیابی کے بارے میں کسی نے سوچا تک نہیں تھا اور جو اقتدار تک پہنچ گئی، گزشتہ ماہ ۱۰۰؍ اقتدار کے دن مکمل کر کے آگے بڑھ چکی ہے۔

Vijay Thalapathy. Picture: INN
وجے تھلاپاتھی۔ تصویر: آئی این این

تمل ناڈو کی اس نئی نویلی پارٹی کی حکومت، جس کی انتخابی کامیابی کے بارے میں کسی نے سوچا تک نہیں تھا اور جو اقتدار تک پہنچ گئی، گزشتہ ماہ ۱۰۰؍ اقتدار کے دن مکمل کر کے آگے بڑھ چکی ہے۔ حکمراں جماعت (ٹی وی کے) کے بارے میں یاد دلا دیں کہ اس کے اراکین اسمبلی میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے پہلی بار الیکشن کا سامنا کیا اور خوش قسمتی سے کامیاب ہوئے۔ ان پر’’ہینگ لگے نہ پھٹکری، رنگ چوکھا آئے‘‘ کی کہاوت صادق آتی ہے۔ یہ قطعی غیر روایتی کامیابی تھی جس پر ۱۹۸۴ء کا دور یاد آگیا تھا جب الہ آباد (اب پریاگ راج) کے پارلیمانی الیکشن میں پہلی مرتبہ اُمیدوار بننے والے امیتابھ بچن نے اپنے دور کے قدآور عوامی لیڈر ہیم وتی نندن بہوگنا کو پونے دو لاکھ سے زائد ووٹوں سے شکست دی تھی۔ مگر، اس دور کے امیتابھ اور آج کے جوزف وجے میں فرق یہ ہے کہ امیتابھ کی جیت ان کی انفرادی جیت تھی، وجے خود تو جیتے ہی، اپنی پارٹی (ٹی وی کے) کو بھی کامیابی سے ہم کنار کیا جو چونکانے والی کامیابی ہے۔ اس طرح پہلی ہی جست میں پارٹی اقتدار تک پہنچ گئی۔ یہ کامیابی اسلئے تاریخی تھی کہ جوزف وجے کی سیاست نے، اگر اسے سیاست کا نام دیا جائے، دراوڑی پارٹیوں (ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے) کی سیاست کو حاشئے پر لا دیا ورنہ تمل ناڈو میں کبھی انا ڈی ایم کے اور کبھی ڈی ایم کے کو کامیابی ملتی اور اقتدار گویا ان دو پارٹیوں کی جاگیر بن گیا تھا۔ جوزف وجے، جنہیں تھلاپتی وجے کہا جاتا ہے، نے اس طلسم کو توڑا اور ریاست کی تاریخ میں نئے عہد کا آغاز کیا۔

یہ بھی پڑھئے:جی ڈی پی کا تنازع

یہاں تک سب ٹھیک اور قابل تعریف تھا۔ اصل امتحان اب شروع ہوا ہے جب تھلاپتی کو ثابت کرنا ہے کہ عوام نے ان پر بھروسہ کرکے بالکل ٹھیک کیا ہے۔ کیا جوزف وجے نے عوامی اعتماد پر پورا اُترنے کی ابتداء کردی ہے؟ اس سوال کے جواب میں دستیاب اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹی وی کے پارٹی کی پہلی حکومت نے خواتین کے تحفظ کا جو انتخابی وعدہ کیا تھا اُسے پورا کرتے ہوئے ’’سنگاپن ٹاسک فورس‘‘ قائم کردیا ہے۔ اسی طرح منشیات کے خلاف مؤثر کارروائی کے وعدہ کو پورا کرنے کی کوشش میں ’’اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس‘‘ تشکیل دے دیئے ہیں۔ تیسرا اہم فیصلہ جو وجے کی حکومت نے ۱۰۰؍ دنوں کے اندر پورا کردیا ہے وہ ہے تعلیم گاہوں اور عبادت گاہوں کے آس پاس کی شراب کی دکانوں کو بند کروانا۔ وجے کی حکومت کا کہنا ہے کہ اُس نے ان دکانوں کو بند کرنے کا آرڈر جاری کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی عمارت سانحہ اور مخدوش عمارتیں

اگردیگر وعدوں اور اُن کا پورا کرنے کی کارروائیوں کو بالائے طاق رکھ کردرج بالا تین وعدوں پر اکتفا کیا جائے تو کارگزاری کے نام پر وجے نے اہم فیصلوں کو سرکاری اقدام میں تبدیل کرنے اور پھر زمین پر اُتارنے کی کوشش تو شروع کردی  ہے مگر ٹاسک فورس قائم کردینا یا آرڈر جاری کردینا کافی نہیں، ان کی اثر پزیری کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے جو کسی اور کی نہیں، اُنہی کی ذمہ داری ہے۔ وجے نے گزشتہ دنوں اسمبلی میں کافی پُرجوش تقریر کی اور اپوزیشن میں بالخصوص ڈی ایم کے کو تنقید کا ہدف بنایا۔ یہ پُرجوش تقریر تبھی کام آئیگی جب عوام بہت کچھ ہوتا ہوا دیکھتے رہیں گےجو باعث ِ اطمینان ہوگا۔ انہیں یقین ہونا چاہئے کہ اقتدار صحیح ہاتھوں میں ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK