چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار گپتا کا استعفےٰ اتنا مشکل نہیں تھا جتنا کہ اب ہوگیا ہے۔ جیسے جیسے اپوزیشن اور جین زی کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے ویسے ویسے حکومت کی پریشانی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہوسکتا ہے حکومت اس خیال کی حامل ہو کہ دھرمیندر پردھان کے بعد گیانیش کمار کے استعفے سے اپوزیشن اور جین زی کا حوصلہ بڑھ جائیگا اور پھر ہر بار کسی استعفے کیلئے شدید احتجاج ہوگا اور حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار گپتا کا استعفےٰ اتنا مشکل نہیں تھا جتنا کہ اب ہوگیا ہے۔ جیسے جیسے اپوزیشن اور جین زی کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے ویسے ویسے حکومت کی پریشانی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہوسکتا ہے حکومت اس خیال کی حامل ہو کہ دھرمیندر پردھان کے بعد گیانیش کمار کے استعفے سے اپوزیشن اور جین زی کا حوصلہ بڑھ جائیگا اور پھر ہر بار کسی استعفے کیلئے شدید احتجاج ہوگا اور حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے۔ حکمراں طبقے کے خیال میں دھرمیندر پردھان سے ’’این ڈی اے میں استعفے نہیںہوتے‘‘ کی روایت ٹوٹی تھی، اب یہ ٹوٹی ہوئی روایت ہی نئی روایت بن رہی ہے تو ایسا نہیں ہونے دینا چاہئے۔ اگر انڈین ایکسپریس کے انکشافات کے بعد پہلی فرصت میں گیانیش کمار سے کہا جاتا کہ استعفےٰ دے دیں تو یہ بہت آسان تھا۔ اب اتنا احتجاج ہوجانے اور مزید احتجاج کے منصوبوں کا اعلان ہونے کے بعد حکومت کیلئے مشکل ہوگیا ہے کہ استعفےٰ طلب کرے۔
اس کی وجہ سے اپوزیشن کو موقع مل رہا ہے، جین زی کو موقع مل رہا ہے اور جین زی کی حمایت یافتہ ’’ سی جے پی‘‘ کو موقع مل رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جب گاندھی جی نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو دہی پیش کی
جو بھی ہو، گیانیش کو ہٹانے کے مطالبہ کے تحت ہونے والے آئے دن کے احتجاج سے مسئلہ اور معاملہ کیا ہے اس کی تفصیل گھر گھر پہنچ رہی ہے، رائے دہندگان بیدار ہورہے ہیں، اُن میں اپنے ووٹ کی حفاظت کا جذبہ بیدار ہورہا ہے، الیکشن کمیشن کی من مانی اور دھاندلی ایک ایک ووٹر تک پہنچ رہی ہے اور جمہوریت مستفید ہورہی ہے۔ مزید فائدہ یہ کہ اس کی وجہ سے انڈیا اتحاد کی پارٹیوں کا آپسی تال میل بڑھ رہا ہے اور ان میں افہام و تفہیم کے بہتر جذبے کو فروغ حاصل ہورہا ہے۔
انتخابی کمیشن کے غلط فیصلے، روایتوں کو بالائے رکھنے کی ڈھٹائی، ضابطوں سے چشم پوشی کا رجحان اور آئینی تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی عاقبت نا اندیشی یقیناً افسوسناک اور تشویشناک ہے مگر ’’تخریب میں تعمیر کا امکان پوشیدہ رہتا ہے‘‘ کے مصداق اس پورے جھمیلے کی وجہ سے حکمراں جماعت کے پروپیگنڈے کے شکار رائے دہندگان بھی آنکھ بند کرکے حمایت کرنے کے اب تک کے طریق کار پر اگر رنجیدہ نہیں تو بوکھلائے ہوئے ضرور ہیں۔ اب اُن کی سمجھ میں آ رہا ہے کہ وہ سراب کی طرف بڑھ رہے تھے۔ وہ جان رہے ہیں کہ بلند بانگ دعوؤں کی حقیقت کچھ نہیں تھی۔ اُنہیں احساس ہورہا ہے کہ جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے اور اگر اس خطرہ سے نمٹنے کیلئے کچھ نہیں کیا گیا تو ووٹ کا حق چلا جائیگا، اس کے بعد سرکاری مراعات سے محرومی مقدر ہوسکتی ہے اوریہ بھی ممکن ہے کہ شہریت سے ہاتھ دھونا پڑجائے۔ کانگریس اور انڈیا اتحاد کو ایسا موضوع مل گیا ہے کہ ایک طرح سے ان کی انتخابی مہم شروع ہوچکی ہے خواہ وہ یوپی ، پنجاب اور دیگر ریاستوں کیلئے ہو یا پھر ۲۰۲۹ء کے جنرل الیکشن کیلئے (اوراگر وسط مدتی انتخابات کا بگل بج گیا تو اس کیلئے بھی)۔ اس بہانے اپوزیشن خود کو منظم کرلے تو کیاکہنا!