مہاتما گاندھی کے فکری روابط براعظموں تک پھیلے ہوئے تھے لیکن ان کا اخلاقی تصور ہندوستان سے جڑا رہا۔ وہ گہری جڑیں رکھنے کے باوجود غیر معمولی طور پر عالمگیر سوچ کے حامل تھے۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 2:05 PM IST | Pavan K Varma | Mumbai
مہاتما گاندھی کے فکری روابط براعظموں تک پھیلے ہوئے تھے لیکن ان کا اخلاقی تصور ہندوستان سے جڑا رہا۔ وہ گہری جڑیں رکھنے کے باوجود غیر معمولی طور پر عالمگیر سوچ کے حامل تھے۔
۲؍ اکتوبر کو ہم نے ایک بار پھر مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کا شاندار ورثہ آج بھی زندہ ہے لیکن میں ان کی شخصیت کے ایک ایسے پہلو کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں جو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، وہ ہے اپنی ثقافت سے گہری وابستگی، اس صورت میں بھی جبکہ وہ عالمی شہری تھے۔ میرے خیال میں، ان کی غیر معمولی تاریخی حیثیت کی جو وجوہات ہیں ان میں اس وجہ کو بہت کم اہمیت دی جاتی ہے۔ ایسے وقت میں جب کہ نوآبادیاتی نظام بہت سے ہندوستانیوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو چکا تھا کہ مغربی تہذیب ہی انسانی کامیابیوں کی معراج ہے، گاندھی جی نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ جدید بننے کیلئے اپنی ثقافتی جڑوں سے کٹنا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے لباس، رسوم و رواج، خوراک اور طرزِ عمل میں ہندوستانی رہنا پسند کیا۔ انہوں نے حکمرانوں کی اندھی تقلید (جو کہ وقار کے منافی تھی) کو مسترد کیا اور اپنی مٹی کی ثقافتی اقدار کو اپنایا۔ وہ ملکہ (کوئین) کی انگریزی بولنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ برطانوی سلطنت کے اداروں نے ہی ان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے لندن میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور وہاں بیرسٹر کی حیثیت سے پریکٹس بھی کی۔ اس کے باوجود، انہوں نے اپنی پہلی کتاب ’ہند سوراج‘ گجراتی زبان میں لکھی۔ اپنے ماحول سے ہم آہنگ رہنے کی گاندھی جی کی فطری صلاحیت نے جو اس دور کے اعلیٰ طبقے کے ہندوستانیوں سے بالکل مختلف تھی (جو برطانوی ثقافت کی محض بھونڈی نقل کرکے ہی خوش ہوجاتے تھے )، انہیں اس قابل بنایا کہ وہ برطانوی حکومت کیساتھ ثقافتی برابری کی سطح پر بات کرسکیں۔
یہ بھی پڑھئے:ضمیر زندہ، غیرت باقی
قابل ذکر ہے کہ مہاتما گاندھی جیسا کہ خود جواہر لال نہرو نے کہا تھا ’اپنی باطنی گہرائیوں تک ایک ہندو‘ تھے۔ جنوبی افریقہ میں قید کے دوران، وہ روزانہ وویکانند کی راج یوگ، یوگ سوتر کی تشریحات، بھگوت گیتا، اپنشد، منو سمرتی اور پتانجلی کے یوگ شاستر کا مطالعہ کرتے تھے اور انہوں نے تلسی داس کی رام چرت مانس کا ایک مختصر نسخہ بھی تحریر کیا۔ ان کے ہندو ہونے کا مطلب دیگر مذاہب کی تذلیل یا انہیں کمتر سمجھنا ہرگز نہیں تھا۔ ’سرمن آن دی ماؤنٹ‘ (حضرت عیسیٰؑ کا پہاڑی وعظ) نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ عیسائیت، اسلام، جین مت، بدھ مت اور دیگر مذاہب ان کے مسلسل مطالعے میں شامل تھے اور گاندھی جی انہیں سمجھنے کی کوشش کرتے۔ ایسا نہیں ہے کہ انہوں ان مذاہب کا مطالعہ صرف مطالعہ کے مقصد سے یا تنقیدی جائزہ لینے کیلئے کیا بلکہ وہ ایک ایسے عقیدت مند تھے جو مختلف مذاہب کے مابین آفاقی اخلاقی سچائیوں کی تلاش میں تھے۔
اس کے ساتھ ہی، ان کا ہندوستانی تشخص مغرب مخالف نہیں تھا۔ وہ لیو ٹالسٹائی، جان رسکن اور ہنری ڈیوڈ تھوریو کے ساتھ بغیر کوئی جارحانہ یا دفاعی رویہ اپنائے بغیر خط و کتابت کرتے تھے۔ ان کے فکری روابط براعظموں تک پھیلے ہوئے تھے لیکن ان کا اخلاقی تصور ہندوستان سے جڑا رہا۔ وہ گہری جڑیں رکھنے کے باوجود غیر معمولی طور پر عالمگیر سوچ کے حامل تھے۔
دراصل کوئی تہذیب (دنیا کے سامنے) اسی وقت کچھ الگ پیش کرسکتی ہے جبکہ اس کے پاس کچھ الگ دینے جیسا ہو۔ گاندھی جی کی یہی حقیقت اور بے ساختگی اکثر انگریزوں کو حیران کر دیتی تھی اور انہیں نفسیاتی طور پر شکست خوردہ ہونے کا احساس دلاتی تھی۔ چارلس اسمتھ، جو ہندوستان میں ماؤنٹ بیٹن کے بٹلر (خدمتگار) تھے، اس واقعے کو یاد کرتے ہیں جب گاندھی جی ایک سہ پہر وائسرائے ہاؤس میں چائے پر تشریف لائے تھے۔ باغ میں میزیں اسکونز (بسکٹ) اور سینڈوچز سے سجی ہوئی تھیں، لیکن انہوں نے اپنے میزبانوں کو شفیق مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا اور ان کے بجائے ایک پیالے سے دہی کھانے کو ترجیح دی جو وہ خود ساتھ لائے تھے۔ انہوں نے لارڈ لوئس کو بھی ایک نوالہ چکھنے پر آمادہ کر لیا! ایک اور موقع پر، گاندھی جی نے ماؤنٹ بیٹن کے فوری بلاوے کا جواب اپنے مخصوص اور منفرد انداز میں دیا۔ ماؤنٹ بیٹن لکھتے ہیں ’’میری حیرت اور خوشی کا اندازہ نہیں ہوسکتا جب میں نے دیکھا کہ وہ (گاندھی جی) میرے مطالعے کے کمرے میں داخل ہوئے، اس وقت انہوں نے اپنی انگلی ہونٹوں پر رکھ لی تھی جس سے یہ ظاہر ہوا کہ اس وقت وہ خاموش رہنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ پھر میں ہی گفتگو کرتا رہا۔ گاندھی نے کچھ استعمال شدہ لفافوں پر چند دوستانہ جملے لکھ کر جو کچھ کہنا تھا وہ کہا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بہار کی اُردو تحریک کا ایک آفتاب غروب!
گاندھی جی کی ثقافتی وابستگی کو ثقافتی تنگ نظری کے حق میں دلیل بنانا آسان ہوسکتا ہے، لیکن ایسا کرنا درحقیقت انہیں غلط سمجھنے کے مترادف ہوگا۔ گاندھی جی کی ہندوستانی شناخت کوئی قلعہ نہیں تھی، بلکہ ایک کھڑکی تھی۔ وہ کسی مقام پر مضبوطی سے کھڑے تھے، اور چونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں، اس لئے وہ باہر کی دنیا پر بھی نظر ڈال سکتے تھے۔ وہ فکری طور پر تنگ نظر یا محدود سوچ کے اسیر ہوئے بغیر ایک قوم پرست تھے۔
آج کا ہندوستان اس سے کہیں زیادہ عالمی سطح پر جڑا ہوا ہے جتنا گاندھی جی کے دور کے ہندوستان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ملک کی معیشت، ٹیکنالوجی، یونیورسٹیاں، کارپوریشنز اور نوجوان ایسی دنیا میں سرگرم عمل ہیں جہاں وہ ثقافتی حدود اب موجود نہیں رہیں جو کبھی ہوا کرتی تھیں لیکن کیا ہندوستانی ہارورڈ میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں، سلی کون ویلی میں کام کرسکتے ہیں، اچھی انگریزی بول سکتے ہیں اور عالمی ثقافت کو اپنا سکتے ہیں، اور، اس کے باوجود غیر ملکیوں سے تعصب یا اندھی قوم پرستی کا شکار ہوئے بغیر اپنی ہندوستانی شناخت برقرار رکھ سکتے ہیں؟ اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ انضمام (ثقافتی امتزاج) اور اندھی تقلید کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت کھوئے بغیر، ان اقدار کو اپنا سکتے ہیں جو قابلِ تحسین ہیں۔ چونکہ ہندوستان اب عالمی سطح پر پہلے سے کئی زیادہ نمایاں ہوچکا ہے، اس لئے اپنی ثقافت پر اعتماد سے متعلق سوال کی اہمیت بڑھی ہے، کم نہیں ہوئی ہے۔
گاندھی جی نے یہ سوال سامنے رکھ کر بھی ایک بڑا تعاون کیا ہے کہ بیک وقت جدید اور ہندوستانی ہونے کا کیا مطلب ہے؟ ہندوستان کو جو محض دوسروں کی تقلید کرنے والے عوام کا ملک نہیں بننا چاہتا، اس سوال کا جواب دیانتداری سے دینا چاہئے۔