• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سانحۂ غازی آباد بڑی وارننگ ہے

Updated: February 06, 2026, 3:40 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

نوعمروں کے والدین کو چاہئے کہ خدارا اپنے بچوں کی فکر کریں ، یہ دُنیا عجب ہوگئی ہے، اتنی عجب کہ بچے نگاہ کے سامنے ہونے کے باوجود کسی اور ذہنی ماحول میں رہنے لگے ہیں ۔ ان میں سے چند ایک کو گیم کھیلنے کی جو عادت لگ گئی ہے اُس کے خلاف والدین بیدار نہیں ہوں گے تو یہ غفلت تباہ کن ہوگی۔ غازی آباد کا سانحہ تو دل دہلانے اور ہوش اُڑانے والا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

  نوعمروں  کے والدین کو چاہئے کہ خدارا اپنے بچوں  کی فکر کریں ، یہ دُنیا عجب  ہوگئی ہے، اتنی عجب کہ بچے نگاہ کے سامنے ہونے کے باوجود کسی اور ذہنی ماحول  میں  رہنے لگے ہیں ۔ ان میں  سے چند ایک کو گیم کھیلنے کی جو عادت لگ گئی ہے اُس کے خلاف والدین بیدار نہیں  ہوں  گے تو یہ غفلت تباہ کن ہوگی۔ غازی آباد کا سانحہ تو دل دہلانے اور ہوش اُڑانے والا ہے۔ عمارت کے نویں  منزلہ سے کود کر تین بہنوں  کی خودکشی اس لئے بھی شدید تشویش کا باعث ہے کہ ان کی عمریں  ہی کیا تھیں ، ایک بارہ سالہ، دوسری چودہ سالہ اور تیسری سولہ سالہ۔ حیرت ہے کہ ماں  باپ نے اُن کے طور طریقوں  پر شک نہیں  کیا، حیرت ہے کہ سال بہ سال اسکول کا ناغہ کرنے کو والدین نے قبول کرلیا، (بتایا گیا ہے کہ وہ کووڈ کے بعد سے اسکول نہیں  جارہی تھیں )، حیرت ہے کہ اُن کا دن بھر ساتھ رہنا اور رات میں  بھی ایک ساتھ سونا والدین کو خلافِ معمول نہیں  لگا (گھروں  میں  بچیاں  بہنوں  کے ساتھ بھی رہتی ہیں  اور گھنٹہ دو گھنٹہ سہیلیوں  کے ساتھ بھی اور وقتاً فوقتاً ماں  کا ہاتھ بھی بٹاتی ہیں )، حیرت اس بات پر بھی ہے کہ جب وہ کوریا کے سپنے دیکھنے لگیں  تب بھی والدین کو کچھ سوجھا نہیں  کہ آخر کوریا ان کے ذہنوں  پر کیوں  سوار ہوگیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کوٹ دوار اَورمتھراکی روشنی کی کرنیں

کورین غذائیں ، کورین میوزک، کورین کلچر وغیرہ سے ہندوستانی لڑکے لڑکیوں  کی دلچسپی، جو کہیں  کہیں  غیر معمولی ، کا انکشاف غازی آباد کے واقعے سے نہیں  ہوا ہے۔ اس اخبار کو ممبئی اور مہاراشٹر کے علاقوں  سے بھی اس دلچسپی کی خبریں  موصول ہوچکی ہیں ۔ یہ بات بھی عام ہے کہ یہ رجحان کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں  ہے بلکہ ہندوستانی نوعمر بالعموم کورین  ڈراما، کورین  پاپ (میوزک) اور کورین  زبان  سے دیوانگی کی حد تک لگاؤ رکھنے لگے ہیں ۔دسمبر ۲۴ء کا واقعہ یاد کیجئے جب مہاراشٹر کے ایک گاؤں  کی تین لڑکیوں  نے ملک سے فرار ہوکر کوریا جانے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس پر عمل کی کوشش کے دوران پکڑی گئیں ۔ اُنہیں  کورین بینڈ بی ٹی ایس سے ملاقات کیلئے جنوبی کوریا جانا تھا۔ کوئی سوچ بھی سکتا ہے کہ نہایت خاموشی سے یہ کیسی دیوانگی بچوں  میں  آگئی ہے کہ ماں  باپ، بھائی بہن اور گھر چھوڑ کر جانے کی ہمت اُن میں  پیدا ہوگئی!

یہ بھی پڑھئے: ڈیل یا ڈول؟

خود کشی کرنے والی غازی آباد کی تین بہنوں  کے والد کے جو بیانات میڈیا میں  آئے ہیں  اُن سے پتہ چلتا ہے کہ گھر کے لوگوں  کو اِن لڑکیوں  کی کوریا سے دلچسپی کا علم تھا۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ کوریاکا ذکر کرتی رہتی تھیں ، کوریا جانا بھی چاہتی تھیں ۔ اتنی خلاف ِ معمول رغبت پر والدین کا خاموش رہنا اور کچھ نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ سماج میں  بعض والدین بے فکرے پن کے شکار ہیں  اور اپنی بے فکری کی قیمت چکا رہے ہیں  جیسا کہ غازی آباد کے والدین کا حال ہے کہ ایک ہی جست میں  اپنی تین بیٹیوں  کا ماتم کررہے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق اُن کے گھر کا ماحول بھی مخدوش تھا۔ ایسا ماحول بچوں  کو نقصان ہی پہنچاتا ہے مگر جن گھروں  کا ایسا ماحول نہیں  ہے وہاں  غفلت نقصان کا باعث بنتی ہے۔ اس غفلت سے نجات پانا ضروری ہے۔ خدا کرے کہ ہر گھر کے نوعمر محفوظ رہیں  مگر اُن کے محفوظ ہونے کی توثیق ضروری ہے اور یہ والدین کا فرض ہے کہ بچوں  کے طرز عمل اور ذوق و شوق میں  کسی طرح کی تبدیلی دیکھیں  تو خبردار ہوجائیں  اور ضروری اقدامات کریں  ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK