اسلام انسان کی پوری زندگی کو اخلاقی حدود کا پابند بناتا ہے اور ہر معاملے میں اس کو بہت ہی شریفانہ اور مہذب رویہ اختیار کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ کسی سے ملاقات ہو تو پہلے سلام کرے۔ خواہ وہ شناسا اور واقف کار ہو یا اجنبی۔ گویا اس کو پہلے ہی قدم پر امن و سلامتی کی دعا دے اور اپنی طرف سے یہ اطمینان دلادے کہ وہ اس کی بھلائی چاہنے والا ہے، برائی چاہنے والا نہیں ہے۔ گفتگو میں نرمی اور متانت اختیار کرے، کرخت آواز میں اور چیخ چیخ کر نہ بولے۔
غیظ و غضب ایک ناپسندیدہ جذبہ ہے جس میں آدمی بسا اوقات اپنے ہوش و حواس کھودیتا ہے۔ تصویر: آئی این این
اسلام انسان کی پوری زندگی کو اخلاقی حدود کا پابند بناتا ہے اور ہر معاملے میں اس کو بہت ہی شریفانہ اور مہذب رویہ اختیار کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ کسی سے ملاقات ہو تو پہلے سلام کرے۔ خواہ وہ شناسا اور واقف کار ہو یا اجنبی۔ گویا اس کو پہلے ہی قدم پر امن و سلامتی کی دعا دے اور اپنی طرف سے یہ اطمینان دلادے کہ وہ اس کی بھلائی چاہنے والا ہے، برائی چاہنے والا نہیں ہے۔ گفتگو میں نرمی اور متانت اختیار کرے، کرخت آواز میں اور چیخ چیخ کر نہ بولے۔ جو بات زبان سے نکالے وہ صحیح اور سچی ہو، جھوٹ اور نفاق سے بچے، بے حیائی اور بے شرمی، گالم گلوج اور بے ہودہ باتوں سے اپنی زبان کو آلودہ نہ کرے۔ طنز و تعریض اور تحقیر و تذلیل کارویہ نہ اختیار کرے بلکہ چھوٹوں کے ساتھ ہمدردی اور محبت سے اور بڑوں کے ساتھ تعظیم و تکریم سے پیش آئے۔ کسی کے حقوق پر دست درازی نہ کرے بلکہ ہر ایک کو اس کا حق ادا کرے۔ ظلم و زیادتی سے دور رہے اور عدل و انصاف کا کبھی دامن نہ چھوڑے۔ دوسروں کی قوتوں اور صلاحیتوں اور مال و دولت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے حتی الوسع ان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے۔ جو بھی کام کرے اس سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے، بلکہ ہر ایک کو خوشی، راحت اور مسرت ملے۔ جہاں تک ہوسکے کسی کا احسان نہ لے بلکہ دوسروں پر احسان کرے اور ان کے دکھ درد اور مشکلات میں کام آئے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈیجیٹل دُنیا : لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے!
جو اپنے لئے چاہتے ہو وہی دوسروں کیلئے چاہو
انسان کا یہ اخلاقی رویہ کسی مخصوص گروہ یا جماعت یا فرقے کے ساتھ نہ ہو بلکہ جن اشخاص اور جن طبقات سے بھی اس کے روابط ہوں ان سب کے ساتھ تہذیب و شرافت اور خلوص و محبت کے ساتھ پیش آئے۔ یہ روابط خاندانی بھی ہوسکتے ہیں، میل جول کے بھی ہوسکتے ہیں، پیشے اور کام کے بھی ہوسکتے ہیں، عقیدے اور مسلک کے بھی ہوسکتے ہیں، اس سے آگے خالص انسانی بھی ہوسکتے ہیں۔ اسلام ہر ایک کے ساتھ جس اخلاقی رویے کی تعلیم دیتا ہے اس کا اندازہ آپ حدیث کے ایک فقرے سے کرسکتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتےہیں:
’’جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کے لئے بھی پسند کرو اور جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہووہ دوسروں کے لئے بھی ناپسندکرو۔‘‘(مسند أحمد)
ان الفاظ کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے لئے علم و عمل، صحت و تندرستی، عزت و وقار، خوش حالی اور ترقی، راحت اور کامیابی، جو کچھ بھی چاہتا ہے یا چاہ سکتا ہے وہ سب دوسروں کے لئے بھی چاہے۔اسی طرح جہالت، بیماری، جان و مال کا نقصان، بےآبروئی، تنگ دستی اور پریشانی جو چیز بھی اپنے لئے ناپسند کرتا ہے وہ دوسروں کے لئے بھی ناپسند کرے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب آدمی دوسروں کو اپنی جگہ رکھ کر دیکھے اور اس کے ساتھ وہی خلوص برتے جو وہ اپنے ساتھ برتتا ہے۔ یہ اخلاق کا بہت ہی اونچا مقام ہے اور اسلام اسی اونچے مقام پر انسان کو دیکھنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شب ِ برأت کو رسم نہ بنائیں بلکہ شب ِ توبہ اور شب ِ دُعا کے طور پر گزاریں
بُرائی کے جواب میں بھلائی
انسان اُن لوگوں کے ساتھ اچھے سے اچھا اور اونچے سے اونچا برتاؤ شاید آسانی سے کرسکتا ہے جو اس کے ہم خیال و ہم مسلک ہوں، جن کی خیرخواہی اور ہمدردی پر اس کو یقین ہو یا کم از کم جن سے اس کو کسی قسم کی دشمنی اور عداوت نہ ہو۔ اسلام اس سے اونچے اخلاق کی تعلیم دیتا ہے، وہ یہ کہ جو لوگ انسان کے ہم فکر وہم خیال نہ ہوں، جو اس کے عقیدہ و مسلک کے مخالف اور اس کی جان و مال کے دشمن ہوں وہ ان کے ساتھ بھی اعلیٰ اخلاقی رویہ اختیار کرے اور ان کی برائی اور بدخلقی کا بھلائی اور حسن خلق سے جواب دے۔ بلاشبہ یہ بڑے دل گردے کا کام ہے۔ لیکن اگر کوئی خوش قسمت انسان اس اخلاق کا مظاہرہ کرسکے تو دشمن کا دل بھی جیت سکتا ہے اور نفرت الفت میں، دشمنی دوستی میں اور مخالفت ہم آہنگی اور مصالحت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ یہی حقیقت قرآن مجید کی اس آیت میں بیان ہوئی ہے:
’’بھلائی اور برائی برابر نہیں ہیں۔ برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو بہت اچھا ہے (تو تم دیکھو گے کہ) اچانک وہ شخص جس کے اور تمہارے درمیان عداوت ہے (وہ ایسا ہوجائے گا) گویا وہ قریبی دوست ہے۔ یہ بات ان ہی کو ملتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے نصیب والے ہوتے ہیں۔‘‘
(حم السجدہ:۳۴۔۳۵)
یہ بھی پڑھئے: اَنا، نہ فرد کیلئے سودمند ثابت ہوتی ہے اور نہ معاشرے کیلئے
پاکیزہ جذبات کی پرورش
انسان کے اخلاق کی تعمیر میں اس کے جذبات کو بڑا دخل ہے۔ بلکہ صحیح معنی میں جذبات ہی اچھے یا بُرے اخلاق کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ جس شخص کے اندر اعلیٰ جذبات پرورش پارہے ہوں گے، یقیناً اس کے اعمال اور سیرت میں بھی بلندی اور رفعت پائی جائیگی۔ لیکن اگر ذلیل اور پست جذبات نے اس کو گھیر رکھا ہے تو پست اخلاق ہی اس سے ظاہر بھی ہونگے۔ یہ جذبات ہی کااختلاف ہے کہ دو شخص ایک یتیم کو دیکھتے ہیں۔ ایک اس کی بے کسی پر رو پڑتا ہے اور اس کے ساتھ تعاون کے لئے آگے بڑھتا ہے۔
دوسرا اس کو بے یار و مددگار پاکر اس کا استحصال کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش شروع کردیتا ہے۔ اسی وجہ سے اسلام اعلیٰ اخلاق کی تعلیم کے ساتھ محبت و ہمدردی، وفاداری اور خلوص، ایثار و قربانی، حسن ظن، عفو و درگزر اور راست بازی جیسے پاکیزہ جذبات ابھارتا ہے اور حسد و بغض، بدگمانی، غصہ و نفرت، سنگدلی اور بے رحمی اور خود غرضی اور تنگ دلی جیسے ناپاک جذبات کی مذمت کرتا اور ان کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر انسان اپنے غلط جذبات پر قابو پالے اور اس کے اچھے جذبات ابھر آئیں تو اس سے اخلاقی گراوٹ کا امکان بہت کم ہے۔ اسلام جس طرح انسان کے جذبات کی اصلاح کرتا ہے اس کو واضح کرنے کے لئے یہاں ہم ایک جذبہ کا ذکر کریں گے۔ غیظ و غضب ایک ناپسندیدہ جذبہ ہے جس میں آدمی بسا اوقات اپنے ہوش و حواس کھودیتا ہے، اچھے خاصے تعلقات خراب کرلیتا ہے۔ بہت سے اخلاقی اورقانونی حدود توڑ پھینکتا ہے اور ایسے اقدامات کر گزرتا ہے جن کو وہ غصہ کے اترنے کے بعد نہ کبھی صحیح سمجھے گا اور نہ عمل کرے گا۔ اس کے مقابلہ میں صبر و ضبط اور عفو و درگزر ایک اعلیٰ اخلاقی جذبہ ہے جو آدمی کو نہ صرف یہ کہ غیظ و غضب کے نقصانات سے بچاتا ہے بلکہ اس کے اندر بہت سی دینی اور اخلاقی خوبیاں پیدا کرتا ہے۔ اسلام نے پہلے جذبے کی مذمت اور دوسرے کی تعریف کی۔ وہ لوگ جو خدا سے ڈرتے ہیں اور جن کو آخرت میں زمین و آسمان کی سی وسعت رکھنے والی جنت نصیب ہوگی، ان کی صفات بیان کرتے ہوئے قرآن مجید نے کہا کہ وہ غصہ کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کی غلطیوں کو معاف کردیتے ہیں:
’’اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ (دوسروں پر اس طرح) احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ (آل عمران: ۱۳۴)
’’جب ان کو غصہ آتا ہے تو (انتقام نہیں لیتے بلکہ) معاف کردیتے ہیں۔‘‘(الشوریٰ:۳۷)
یہ بھی پڑھئے: قرآن میں قیامت کا پورا منظر کئی پہلوئوں سے نگاہوں میں اُجاگر کردیا گیا ہے!
ایک شخص نے رسول اکرمﷺ سے درخواست کی کہ آپؐ مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔ آپ ؐنے فرمایا۔ لاتغضب (غصہ نہ کرو)۔ اس نے شاید اس کو کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی اور بار بار آپؐ سے کسی دوسری نصیحت کی درخواست کی۔ لیکن آپؐ نے ہرمرتبہ یہی فرمایا کہ غصہ نہ کر۔ (صحیح بخاری، باب الحذر من الغضب)
آپﷺ فرماتے ہیں:‘‘پہلوان وہ نہیں ہے جو لوگوں کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو رکھے۔‘‘ (ایضاً)۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےارشاد فرمایا: ’’خدا کو خوش کرنے کے لئے بندہ غصہ کا جو گھونٹ پیتا ہے، خدا کے نزدیک اس سے زیادہ فضیلت والا کوئی دوسرا گھونٹ نہیں ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الحلم)
غصہ انسان کے حیوانی جذبات کے مشتعل ہونے کانام ہے۔ اس کو ٹھنڈا کرنے کی ترکیب ایک حدیث میں یہ بتائی گئی کہ آدمی وضو کرلے۔ کبھی کبھی تبدیلی ٔہیئت سے بھی جذبات بدل جاتے ہیں اور غصہ کی کیفیت جاتی رہتی ہے اس لیے ایک حدیث میں کہا گیا ہے کہ جس وقت آدمی پر غصہ طاری ہو اگر وہ کھڑا ہے تو بیٹھ جائے۔ اگر اس سے بھی اس کا غصہ فرو نہ ہو تو لیٹ جائے۔ (سنن ابی داؤد) بعض اوقات آدمی کو خیال ہوتا ہے کہ اگر وہ غصہ کو پی جائے اور مخالف سے انتقام نہ لے تو اس کی عزت کم ہوجائے گی۔ وہ عفو و درگزر سے کام لےگا اور لوگ اس کو کم زوری اور بے چارگی سمجھیں گے لیکن آپ ﷺ فرماتے ہیں: ’’عفو و درگزر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت ہی میں اضافہ فرماتا ہے۔ اگر کوئی شخص خدا کی رضا کی خاطر عاجزی اختیار کرے تو خدائے تعالیٰ اس کو بلندی عطا کرتا ہے۔‘‘
(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والادب)
یہ بھی پڑھئے: آپؐ اُس وقت تک گھر تشریف نہیں گئے جب تک مال فقراء اور مساکین میں تقسیم نہ ہوگیا
اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام جو اخلاقی جذبات پیدا کرنا چاہتا ہے، کتنے مختلف پہلوؤں سے ان کی ترغیب دیتا ہے اور جن جذبات کو ناپسند کرتا ہے ان کی خرابیاں کس طرح واضح کرتا اور ان سے نفرت پیدا کرتا ہے۔ یہ ہمارے لئے بہت بڑا سبق ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اخلاق کو سنوارنے پر خاص توجہ دیتے رہیں کہ اس کی وجہ سے ہم رب العالمین کی خوشنودی حاصل کرسکیں گے۔