• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

لندن: ۲۸؍سالہ سفر مکمل، مہم جو کارل بشبی کی گھر واپسی، اہل خانہ سے جذباتی ملاقات

Updated: November 03, 2026, 4:09 PM IST | London

برطانوی مہم جو کارل بشبی نے ۲۸؍سال کے طویل اور دشوار گزار سفر کے بعد۵۰؍ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرتے ہوئے چار براعظموں کو عبور کرلیا۔ وطن واپسی پر سیکڑوں افراد نے ان کا شاندار استقبال کیا، جبکہ والدہ اور اہل خانہ سے ملاقات کا لمحہ انتہائی جذباتی رہا۔

Karl Bushby became tearful after meeting his mother. Photo: X
کارل بشبی اپنی والدہ سے ملنے کے بعد آبدیدہ ہوگئے۔ تصویر: ایکس

برطانوی مہم جو کارل بشبی نے جنوبی امریکہ سے پیدل سفر شروع کرنے کے۲۸؍ سال بعد بالآخر اپنے وطن واپسی کی منزل حاصل کرلی۔ انہوں نے تقریباً۵۰؍ ہزار کلومیٹر کا طویل سفر طے کرتے ہوئے چار براعظموں کو اپنے قدموں سے عبور کیا۔ وطن واپسی پر ان کی والدہ اور دیگر اہل خانہ سے جذباتی ملاقات ہوئی۔ کارل بشبی نے اپنے اس غیر معمولی سفر کے دوران وسطی امریکہ کے گھنے جنگلات کو عبور کیا، الاسکا اور روس کے درمیان برفانی راستے سے گزرے اور گزشتہ ماہ اپنے سفر کے آخری مرحلے میں تیراکی کرتے ہوئے انگلش چینل (بحرِ انگلستان) کو بھی پار کیا۔ انہوں نے یہ پورا سفر اپنی جسمانی قوت اور محنت کے بل پر مکمل کیا۔

پیر کی صبح برطانیہ کے شہر ہل (Hull) کے مرکزی چوک میں سیکڑوں افراد نے تالیاں بجا کر اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے۵۷؍ سالہ مہم جو کا استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’۲۸؍سال بعد اس سے بڑھ کر کسی چیز کی خواہش نہیں کی جاسکتی تھی۔ ‘‘ اس کے بعد وہ اپنی چند ذاتی اشیا ایک چھوٹی ٹرالی میں رکھ کر آگے بڑھے۔ ٹرالی کے اوپر ایک اضافی ٹائر بھی رکھا تھا، جس کی اب انہیں مزید ضرورت نہیں پڑنے والی تھی۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’میرا خیال ہے اب آپ سے کہیں نہ کہیں ملاقات ہوتی رہے گی۔ ‘‘ اس کے بعد وہ اپنے گھر کی جانب روانہ ہوگئے، جہاں ان کی والدہ، ۳۶؍ سالہ بیٹا اور۱۲؍ سالہ پوتی ان کے استقبال کیلئے موجود تھے۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی ماڈلز اب بیشتر اعلیٰ سائنسدانوں سے زیادہ ذہین ہوچکے ہیں: سیم آلٹ مین

کارل بشبی نے اپنی نوجوانی میں برطانوی فوج کی پیراشوٹ رجمنٹ میں خدمات انجام دی تھیں۔ بعد ازاں ازدواجی زندگی میں ناکامی کے بعد انہوں نے دنیا کے نقشے پر ایک لکیر کھینچی اور طویل پیدل سفر پر نکل پڑے۔ انہیں اس مہم کا خیال اپنے والد سے ملا تھا، جنہوں نے کبھی یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا لندن سے نیویارک تک پیدل سفر کرنا ممکن ہے؟ ایک خیمہ، چند سو ڈالر اور پلاسٹک کا ایک سستا کیمرا ساتھ لے کر انہوں نے چلی سے اپنا سفر شروع کیا۔ وہاں سے شمال کی جانب بڑھتے ہوئے پورے امریکی براعظم کو عبور کیا اور الاسکا سے روس پہنچے۔ اس کے بعد منگولیا اور چین سے گزرتے ہوئے بحیرۂ کیسپین کو تیراکی کے ذریعے پار کیا اور یورپ کے راستے اپنے سفر کو آگے بڑھایا۔ کارل بشبی نے گزشتہ سال خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ بعض اوقات سفر کی یکسانیت ناقابلِ برداشت ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آپ صحراؤں میں ہوتے ہیں اور کئی دنوں بلکہ ہفتوں تک منظرنامے میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ ایسی صورت حال ذہن کو الجھا دینے والی ہوتی ہے۔ قطبی علاقوں میں بھی کچھ ایسا ہی تجربہ ہوتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران کے قشم جزیرے میں دھماکے، آبنائے ہرمز میں امریکی حملوں کی اطلاعات

۱۸؍سال کا اضافی وقت
کارل بشبی نے ابتدا میں اندازہ لگایا تھا کہ اس سفر کو مکمل کرنے میں تقریباً۱۰؍ سال لگیں گے، لیکن انہیں راستے میں پیش آنے والی مشکلات کا اندازہ نہیں تھا۔ ان مشکلات میں پاناما میں مختصر مدت کیلئے قید، میکسیکو میں بندوق کی نوک پر روکے جانے اور غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے الزام میں روسی حکام کی جانب سے حراست میں لیا جانا شامل تھا۔ اس کے علاوہ۲۰۰۸ء کے عالمی مالیاتی بحران اور کورونا وبا کی وجہ سے بھی ان کے سفر میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے اخبار ٹیلی گراف کو بتایا تھا، ’’یہ اکیسویں صدی کے ایک طویل اور غیر معمولی سفر کی حقیقی تصویر ہے۔ ‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اس سفر کا تقریباً نصف حصہ صرف دفتری ضابطوں اور مختلف ممالک کے سیاسی و سرحدی مسائل سے نمٹنے میں گزر گیا، جب کہ قدرتی مشکلات اس کے علاوہ تھیں۔ بعض اوقات مسائل کا واحد حل انتظار کرنا ہی ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کی ’لیٹر مڈوائف‘ فریش برانڈٹ نے ہاتھ سے خط لکھنے کی اہمیت اجاگر کی

کارل بشبی نے بی بی سی کو بتایا کہ۲۸؍ سال کے اس عرصے میں انہوں نے تقریباً۱۵؍ سال ہی پیدل سفر کیا، جب کہ باقی وقت میں انہیں ویزا، سفری انتظامات اور کمپنیوں و ذرائع ابلاغ سے مالی تعاون کے معاملات طے کرنے کیلئے وقفے وقفے سے میکسیکو واپس جانا پڑا۔ ان کے اس غیر معمولی سفر پر ایک مکمل دورانیے کی دستاویزی فلم بھی تیار کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ کارل بشبی آئندہ چند ہفتوں کے دوران انگلینڈ کے مختلف شہروں میں اپنے سفر کے تجربات بیان کرنے کیلئے تقریبات منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK