• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی انتخابات: لیڈروں کی اگلی نسل میدان میں

Updated: November 03, 2026, 3:32 PM IST | Ashish Mishra | Mumbai

دیگر پارٹیوں پر اقربا پروری کا حملہ کرنے والی بی جے پی میں بھی سینئر لیڈروں کے بیٹے اور رشتہ دار سیاسی سرگرمیوں میں خود کو قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بریلی کی سیاست میں حال ہی میں راجیہ سبھا انتخابات کے دوران دو واقعات نے سب کو متوجہ کیا۔ سب سے پہلےبی جے پی نے جھارکھنڈ کے گورنر سنتوش گنگوار کی بیٹی شروتی گنگوار کو اپنا راجیہ سبھا امیدوار نامزد کیا۔ وہ بلا مقابلہ منتخب ہوئیں۔شروتی گنگوار کچھ عرصے سے بریلی اور نواب گنج کے علاقوں میں سماجی اور عوامی پروگراموں میں سرگرم ہیں۔ اربن کوآپریٹیو بینک کی صدر کے طور پر وہ خواتین کو بااختیار بنانے، صحت سے متعلق آگاہی اور مذہبی تقریبات میں شامل رہی ہیں۔ راجیہ سبھا کا ٹکٹ ملنے سے اب ان کی سیاسی سرگرمیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ دوسرا واقعہ راجیہ سبھا کا ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض آنولہ سے بی جے پی کے سابق  رکن پارلیمنٹ دھرمیندر کشیپ نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا اور اپنی بیٹی کیرتی کشیپ کے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہوگئے۔ دھرمیندر کشیپ نے اپنی بیٹی کیرتی کشیپ کے ساتھ۱۱؍ اکتوبر کو ایس پی صدر اکھلیش یادو سے ملاقات کی تھی۔اکھلیش نے کیرتی کو بریلی کی بتھری چین پور اسمبلی سیٹ کا انچارج مقرر کیا۔ اسے۲۰۲۷ء  کے اسمبلی انتخابات کیلئے ان کی ممکنہ امیدواری کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ بی جے پی کی طرف سے بھی ایسی ہی سرگرمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ 

چھترپال سنگھ گنگوار کے بھتیجے دُشینت گنگوار آئندہ اسمبلی الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ چھترپال سنگھ گنگوار بہیڑی سے دو بار ایم ایل اے اور ایک بار  وزیر رہ چکے ہیں اور فی الحال بریلی سے ایم پی ہیں۔ دشینت جو دمکھودا کے بلاک چیف رہ چکے ہیں، ایم پی کے نمائندے کے طور پر علاقے میں تعلقات عامہ، عوامی سماعتوں اور پارٹی تقریبات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ ا سنیہہ لتا گنگوار بھی اسی علاقے سے بلاک چیف رہ چکی ہیں۔بریلی کے میئر ڈاکٹر امیش گوتم کے بیٹے پارتھ گوتم بھی سماجی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ انورٹس یونیورسٹی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر، پارتھ سردیوں کے دوران صحت کی خدمات، ضرورت مندوں کی مدد اورسردیوں میں’ چائےسیوا‘ جیسے پروگراموں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ نوجوانوں کو ’یووا سیوک سنگھ ‘کے ذریعے سماجی خدمت میں شامل کرنے کی ان کی پہل بھی ان کی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔فرید پور کے سابق ایم ایل اے آنجہانی شیام بہاری لال کے بیٹے ایشان گوال کی سرگرمیاںبھی اسی کڑی کا حصہ ہے ۔بی ٹیک مکمل کرنے اور دہلی میں سول سروسیز کی تیاری کرنے کے بعد، ایشان اپنے والد کی موت کے بعد بریلی واپس آگئے۔ اب وہ فرید پور کے علاقے میں سماجی، مذہبی اور عوامی تقریبات میں حصہ لیتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے نتائج کا پیغام

سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں بھی سینئر لیڈروں کی اگلی نسل کو  آگے بڑھانے کی کوششیں کئی اضلاع میں دکھائی دے رہی ہیں۔ پارٹی کے سینئر لیڈروں کے بیٹے اور بیٹیاں اپنے ممکنہ حلقوں میں سرگرم ہیں۔ کئی لیڈروں نے اپنے بچوںکو سیا سی  میدان میں اتارنے کیلئے اکھلیش یادو سے ملاقات کی ہے۔ بارہ بنکی میں سابق مرکزی وزیر بینی پرساد ورما کے خاندان کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں ۔ ان کے بیٹے راکیش ورما اپنی بیٹی شریہ ورما کیلئے کرسی اسمبلی سیٹ کیلئےدعویداری مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ شریہ نے ۲۰۲۴ء  کا لوک سبھا الیکشن گونڈا سے لڑا تھا۔ ہارنے کے باوجود انہوں نے چار لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کئے تھے۔امبیڈکر نگر میں ایم پی لال جی ورما کٹیہری اسمبلی سیٹ سے اپنی بیٹی چھایہ ورما کو پروموٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چھایہ جو پیشہ سے ماہر امراض چشم ہیں، مقامی لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔ کٹیہری کو پارٹی کا روایتی سیاسی اڈہ سمجھا جاتا ہے۔ 

ایودھیا میں ایم پی اودھیش پرساد ملکی پور اسمبلی سیٹ سے اپنے بیٹے اجیت پرساد کی تشہیر میں مصروف ہیں۔ اجیت ۲۰۲۵ء کے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے چندر بھانو پاسوان  سے۶۱۰۰۰؍ووٹوں کے فرق سے ہار ے تھے۔ اس کے باوجود ان کے والد نے علاقے میں اپنی سرگرمی بڑھا دی ہے۔ بلیا میں آنجہانی رام گووند چودھری کے بیٹے رنجیت چودھری انتخابی سیاست میں آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ رام گووند چودھری بانسڈیہہ سے۸؍ بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں ۔ جونپور میں، کیراکت کے ایم ایل اے اور سابق ایم پی طوفانی سروج اپنی بیٹی پریہ سروج کے پارلیمنٹ میں پہنچنے کے بعد اپنے بیٹے دھننجے کیلئے سیاسی میدان تیار کر رہے ہیں ۔ بارہ بنکی میں سابق وزیر فرید محفوظ قدوائی اپنے بیٹے فیضان قدوائی کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ فیضان کی بطور بالی ووڈ اداکار شناخت ان کی سیاسی مقبولیت کیلئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مہا اِجلاس اور مہا رَیلی

اعظم گڑھ میں درگا پرساد یادو اپنی روایتی سیٹ اپنے بیٹے وجے یادو کو دے سکتے ہیں۔ سنبھل میں ایم ایل اے نواب اقبال محمود نے اپنے بیٹے سہیل اقبال محمود کو اپنا سیاسی جانشین بنانے کا اشارہ دیا ہے۔ امروہہ میں سابق وزیر محبوب علی کے بیٹے پرویز علی اپنا دعویٰ پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ایسی اور بھی مثالیں ہیں ۔سماج وادی پارٹی پر اقربا پروری کا الزام لگانے والی بی جے پی میں بھی سینئر لیڈروں کے بیٹے اور رشتہ دار سیاسی سرگرمیوں میں خود کو قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی سرگرمی عوامی پلیٹ فارم تک محدود نہیں ہے۔ پارٹی دفاتر میں موجودگی، یوتھ آؤٹ ریچ، سماجی تنظیموں کی تقریبات، انٹرنیٹ میڈیا مہم اور بڑی تقریبات کے انتظامات بھی ان کے سیاسی پروفائل کا حصہ بن رہے ہیں۔کانپور میں اسمبلی اسپیکر اور مہاراج پور کے ایم ایل اے ستیش مہانا کے بیٹے کرن مہانا کی سرگرمیاں خبروں میں ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں کینٹ اسمبلی حلقہ میں تقریبات میں ان کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ بی جے پی کے دفتر اور نوجوانوں کے درمیان سرگرم ہیں۔ انہیں انٹرنیٹ پر ایک نوجوان سرکاری ملازم کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ تاہم اس سے پہلے کہ اس سرگرمی کو اسمبلی انتخابات کے لیے باضابطہ امیدوار تصور کیا جائے، پارٹی کی جانب سے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ۲۰۲۷ء  کے لیے بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو نسلی تبدیلی اور محفوظ انتخابی میدان تلاش کرنے کی کوشش دونوں کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ سیاسی خاندانوں کے بچوں کے لئے ، مانوس نام اور مضبوط نیٹ ورک ابتدائی فوائد ہیں، لیکن  یہ اس بات کی ضمانت نہیںکہ انہیںووٹروں کی بھی حمایت مل جائیگی۔ مقامی مسائل کا ادراک، عوام میں باقاعدہ موجودگی، تنظیم کے ساتھ ہم آہنگی اور سماجی مساوات سے آشنائی کی بنیاد وں پر اصل امتحان ہوگا۔ 

(بشکریہ انڈیا ٹوڈے)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK