Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی سیاست و سفارت کا نقصان

Updated: July 14, 2026, 2:03 PM IST | Mumbai

دُنیا کے الگ الگ ملکوں کے حکمرانوں کی تاریخ کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بیشتر ایسے ہیں جن کے نام سے بھی شائقین سیاست و سیاحت واقفیت نہیں ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دُنیا کے الگ الگ ملکوں کے حکمرانوں کی تاریخ کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بیشتر ایسے ہیں جن کے نام سے بھی شائقین سیاست و سیاحت واقفیت نہیں ہیں۔ بلاشبہ اتنا یاد رکھنا مشکل ہوتا ہے مگر بعض شخصیتیں عالم ِانسانیت کیلئے یا اپنے ملک یا خطے کیلئے پیش کی گئی عوامی خدمات کے ذریعہ متوجہ کرتی ہیں۔ 

قطر کے سابق امیر شیخ حماد بن خلیفہ الثانی کو اس لئے یاد رکھا جائیگا کہ انہوں نے قطر کو قطر بنایا، وہ قطر جو آج ہمارے سامنے ہے۔ یہ تاریخ ایک مختصراورکم معروف ملک سے دُنیا کے نقشے کا اہم ملک بننے کی تاریخ ہے جس کی معاشی ترقی نے بھی چونکایا اور سفارتی پیش رفت نے بھی۔ شیخ حماد کے والد شیخ خلیفہ بن حماد الثانی (سابق امیر ِقطر) نے پوت کے پاؤں پالنے میں دیکھے تو ابتدائی تعلیم کے بعد اپنے فرزند کو حرب و ضرب کے رموز ونکات سیکھنے کیلئے سینڈھرسٹ ملٹری اکیڈمی، برطانیہ میں داخل کروا دیا۔جب وہ قطر واپس آئے تو اُنہیں مسلح افواج سے وابستہ کردیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ممتا کے حامیوں پر حملے کیوں ہورہے ہیں؟

شیخ حماد بن خلیفہ نے قطر کی مسلح افواج کا حصہ بن کر یہ پیغام دیا کہ اُن کی صلاحیتوں پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ اُنہیں ترقی پر ترقی دی گئی یہاں تک کہ وہ میجر جنرل کے عہدے تک پہنچ گئے۔ترقی کا سفر یہاں ختم نہیں ہوا بلکہ ۱۹۷۷ء میں اُنہیں ولی عہد کے منصب پر فائز کرنے کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع بنا دیا گیا۔ یہ سب محض اس لئے نہیں ہوا کہ شیخ حماد قطر کے امیر شیخ خلیفہ کے فرزند تھے بلکہ اس لئے کہ شیخ حماد نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے اور توقع سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ بعد ازاں اُنہیں اُمور مملکت کی ذمہ داریاں دی جانے لگیں۔ شیخ خلیفہ سرپرست کی حیثیت سے موجود تھے مگر عملاً کاروبارِ حکومت شیخ حماد سنبھال چکے تھے۔ یہیں سے ایک ایسے دور کا آغاز ہوا جس میں قطر نے نئے سرے سے اپنی پہچان کرائی اور دُنیا کے سامنے اپنا نیا تعارف پیش کیا۔

بہ حیثیت امیر شیخ حماد کے دور کا آغاز ۱۹۹۵ء سے ہوا جب اُنہوں نے مملکت کے تمام اُمور کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ وہ ۱۸؍ سال تک اقتدار میں رہے اور پھر خود ہی اپنے فرزند کو امارت سونپ دی۔ اس طرح اُن کا دور ۱۹۹۵ء سے ۲۰۱۳ء تک کا دور ہے جس میں قطر نے غیر معمولی ترقی کی۔ اس ضمن میں یہ جان لینا کافی ہوگا کہ اس عرصہ میں ملک کی جی ڈی پی میں ۲۴؍ گنا اور فی کس آمدنی میں ۶؍ گنا اضافہ ہوا۔ کم مدت میں ایسی قابل ذکر ترقی کی مثالیں کم کم ہی ملیں گی۔ اس کی سب سے اہم وجہ ’’نارتھ فیلڈ‘‘ کو ڈیولپ کرنا تھا جو دُنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس کا ذخیرہ ہے۔ یہ ایسی طاقت تھی جس کے ذریعہ قطر نے ایشیاء، پھر یورپی ملکوں میں اور پھر دُنیا کے بیشتر ملکوں میں خود کو منوانے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھئے: دُور کے ڈھول

۱۹۹۶ء میں ’’الجزیرہ‘‘ کا قیام یہ سمجھانے کیلئے کافی تھا کہ شیخ حماد عصری تقاضوں اور میڈیا کی طاقت کو خوب سمجھتے ہیں۔ آج ’’الجزیرہ‘‘ عالمی میڈیا ہاؤسیز میں امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ شیخ حماد نے قطری سفارت کو اس فلسفے کے ذریعہ مؤثر بنایا کہ ہر ملک دوست ہے، دشمن کوئی نہیں۔ ایسے لیڈر کاانتقال صرف قطر کا نقصان نہیں بلکہ عالمی سیاست و سفارت کا نقصان ہے۔ اُن کے دور اقتدار کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ 

politics Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK