پارٹی جنرل سیکریٹری نے بطور صدر سونیترا پوار کے انتخاب کو غلط قرار دیا۔
EPAPER
Updated: July 14, 2026, 12:41 PM IST | Mumbai
پارٹی جنرل سیکریٹری نے بطور صدر سونیترا پوار کے انتخاب کو غلط قرار دیا۔
نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار کی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی سے اختلافات کی خبر سامنے آ رہی ہے۔ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے سونیترا پوار کے قومی صدر کے طور پر انتخاب پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔
این سی پی کے قومی جنرل سیکریٹری سچیدانند سنگھ نے براہ راست وکیلوں کے ذریعے نوٹس بھیج کر مطالبہ کیا ہے کہ قومی صدر کے عہدے کیلئے دوبارہ انتخابات کروائے جائیں۔ یہ نوٹس سونیترا پوار کے علاوہ پارٹی کے کارگزار صدر پرفل پٹیل اور سیکریٹری برج موہن سریواستو کے نام جاری کیا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ۲۶؍ فروری ۲۰۲۶ءکو ہوا پارٹی کے قومی صدر کا انتخاب کالعدم ہے۔ لہٰذا اسے منسوخ کرکے دوبارہ الیکشن کروائے جائیں۔ اس کیلئے ایک آزاد اور غیر جانبدار الیکشن آفیسر مقرر کیا جائے جو شفاف طریقے سے الیکشن منعقد کروائے۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قومی صدور اور نظرثانی شدہ عہدیداروں کی فہرست کو منسوخ تصور کیا جائے۔ یاد رہے کہ سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی موت کے بعد سونیترا پوار نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ انہیں متفقہ طور پر پارٹی کا قومی صدر منتخب کیا گیا۔ اس سلسلے میں پارٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ سونیترا پوار کا باضابطہ انتخاب بھلے ہی ۲۶؍ فرروری کو کیا گیا ہو لیکن بطور صدر ان کے نام کا اعلان اجیت پوار کی موت کے تیسرے ہی دن کر دیا گیا تھا اور اسی دن انہوں نے بطور نائب وزیر اعلیٰ حلف اٹھایا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: میرا روڈ: بھیانک آتشزدگی میں جھلس جانے والی معمر خاتون کی موت
یاد رہے کہ سونیتراپوار کے این سی پی کا صدر بننے کے بعد سےپارٹی کے اندر کچھ نہ کچھ ہلچل دکھائی دے رہی ہے۔ اس سے قبل الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے خط میں سونیترا پوار نے سینئر لیڈر پرفل پٹیل اور سنیل تٹکرے کے عہدوں کا ذکر نہیں کیا تھا جس سے یہ بحث چھڑ گئی تھی کہ یہ دونوں لیڈر پارٹی پر قبضے کی کوشش میں تھے جس کی وجہ سے سونیترا پوار نے ان کے پر کترنے کیلئے ان کے عہدوں کا تذکرہ نہیں کیا۔ رکن اسمبلی روہت پوار نے باقاعدہ ان لیڈران پر غداری کا الزام لگایا تھا۔ حالانکہ بعد میں این سی پی کے تمام لیڈران نے مل کر کام کرنا شروع کیا اور یہ معاملہ ختم ہو گیا لیکن اب سچدانند کے خط سے پھر ایک بار پارٹی کے اندرونی اختلافات سامنے آ گئے۔