Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار: ضمنی انتخاب حکمراں جماعت کیلئے ناک کا سوال

Updated: July 14, 2026, 1:55 PM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | Mumbai

بانکی پور کے ضمنی انتخاب میں روایتی سیاسی جماعتیں ہی آمنے سامنے نہیں بلکہ سیاست میں اپنی الگ شناخت بنانے والے جن سوراج کے بانی پرشانت کشور بھی میدان میں موجود ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

بہار کی سیاست ہمیشہ سے غیر معمولی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ قومی سیاست کی سمت متعین کرنے میں بھی اس ریاست کا کردار اکثر فیصلہ کن رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہونے والا ہر انتخاب، خواہ وہ لوک سبھا کا ہو، اسمبلی کا ہو یا پھر کسی ایک نشست پر ضمنی انتخاب، سیاسی مبصرین کی گہری توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ بظاہر ایک اسمبلی نشست پر ہونے والا ضمنی انتخاب عددی اعتبار سے حکومت کے وجود پر کوئی اثر نہیں ڈالتا، لیکن سیاسی اعتبار سے اس کی اہمیت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے انتخابات عوامی رجحانات، سیاسی جماعتوں کی مقبولیت، تنظیمی طاقت اور مستقبل کی سیاست کے بارے میں واضح اشارے فراہم کرتے ہیں۔ان دنوں بہار کی بانکی پور اسمبلی نشست کا ضمنی انتخاب اسی نوعیت کا ایک اہم سیاسی معرکہ بن چکا ہے۔ اس نشست پر ۳۰؍جولائی کو ووٹنگ ہوگی اور ۳؍ اگست کو نتائج سامنے آئیں گے۔ یہ انتخاب اس وقت ضروری ہوا جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر نیتن نوین نے اپنی اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اگرچہ اس ایک نشست کے نتیجے سے بہار کی این ڈی اے حکومت کی اکثریت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن سیاسی وقار اور عوامی تاثر کے اعتبار سے یہ انتخاب حکمراں جماعت کے لئے ایک بڑا امتحان بن گیا ہے۔اس ضمنی انتخاب کو غیر معمولی بنانے والی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں صرف روایتی سیاسی جماعتیں ہی آمنے سامنے نہیں ہیں بلکہ حالیہ دنوں میں سیاست میں اپنی الگ شناخت بنانے والے جن سوراج کے بانی پرشانت کشور بھی میدان میں موجود ہیں۔ دوسری جانب راشٹریہ جنتا دل نے مقامی خاتون رہنما ریکھا گپتا کو امیدوار بنایا ہے جبکہ بی جے پی نے اپنے پرانے کارکن ابھیشیک کمار عرف بنٹی پر اعتماد ظاہر کیا تھا اور انہوں نے بڑے ہی تزک واحتشام کے ساتھ این ڈی اے کے تمام بڑے لیڈران کی موجودگی میں اپنا پرچۂ نامزدگی بھی داخل کیا تھا لیکن دوسرے ہی دن انہوں نے اپنا نام واپس لینے کا اعلان کیا ہے اور اس کی وجہ نجی بتایاہے۔ مجبوراً بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنا امیدوار بدلنا پڑا ہے اور اب نیرج کمار وہاں سے بی جے پی کے امیدوار ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: پناہ گزینوں کا عالمی دِن ہمارا دِن کیوں نہیں ہو سکا؟

بانکی پور کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ علاقہ ہمیشہ سیاسی اعتبار سے حساس رہا ہے۔ یہاں شہری اور دیہی آبادی کا امتزاج ہے۔ مختلف ذاتوں، برادریوں اور طبقات کی موجودگی انتخابی نتائج پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ اس حلقے میں ترقی، روزگار، بنیادی سہولتیں، تعلیم، صحت اور امن و امان جیسے مسائل ہمیشہ سے اہم رہے ہیں۔ اس لئے یہاں صرف پارٹی کی مقبولیت ہی نہیں بلکہ امیدوار کی ذاتی شبیہ اور مقامی تعلق بھی کامیابی کا ایک اہم ذریعہ بنتے ہیں۔یہاں دو دہائیوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار ہی کامیاب ہوتے رہے ہیں۔اس لئے یہ انتخاب کئی حوالوں سے وقار کا مسئلہ بن گیا ہے۔ ایک تو یہ نشست پہلے سے اس کے پاس رہی ہے، دوسرے اس کے قومی صدر اسی حلقے کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ اگر پارٹی یہ نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو اسے اپنی عوامی مقبولیت کی توثیق کے طور پر پیش کرے گی، لیکن اگر اسے شکست ہوتی ہے تو حزب اختلاف اسے عوامی ناراضی اور حکومت مخالف رجحان کا ثبوت قرار دے گی۔بی جے پی نے ابھیشیک کمار بنٹی کو امیدوار بنا کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ پارٹی اپنے زمینی کارکنوں کو بھی اہمیت دیتی ہے۔ لیکن ان کا میدان سے ہٹ جانا پارٹی کے لئے ایک بڑا مسئلہ بن گیاہے۔اب جو نیا امیدوار کھڑا کیا گیاہے وہ کوئی بہت بڑا عوامی چہرہ نہیں ہے، لیکن تنظیم کے اندر اس کی سرگرمی اور مقامی سطح پر اس کی موجودگی کو پارٹی اپنی طاقت تصور کر رہی ہے  بی جے پی کسی بھی قیمت پر یہ نشست گنوانا نہیں چاہتی۔

دوسری طرف پرشانت کشور کی موجودگی نے اس مقابلے کو سہ رخی بنا دیا ہے۔ انتخابی حکمت عملی کے ماہر کے طور پر شہرت حاصل کرنے والے پرشانت کشور کی سیاست زیادہ تر عوامی رابطہ مہم اور نظریاتی گفتگو تک محدود سمجھی جاتی تھی، لیکن اب براہ راست انتخابی میدان میں ان کی آزمائش ہو رہی ہے۔ اگر وہ اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں، خواہ کامیاب نہ بھی ہوں، تو بہار کی سیاست میں ان کی حیثیت مزید مستحکم ہوگی۔ لیکن اگر خاطر خواہ ووٹ حاصل نہ کر سکے تو ان کی سیاسی حکمت عملی پر سوالات بھی اٹھیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا‘‘

راشٹریہ جنتا دل نے ریکھا گپتا کو امیدوار بنا کر مقامی سیاست پر زور دیا ہے۔ پارٹی کا خیال ہے کہ مقامی امیدوار عوام کے مسائل کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھتا ہے اور ووٹروں سے اس کا براہ راست رابطہ زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ آر جے ڈی کی کوشش ہوگی کہ وہ مسلم، یادو اور دیگر روایتی ووٹ بینک کو متحد رکھتے ہوئے حکومت مخالف ووٹوں کو اپنے حق میں منظم کرے۔یہ انتخاب اس لئے بھی دلچسپ ہے کہ اس میں شخصیت، تنظیم اور نظریہ تینوں ایک ساتھ امتحان سے گزر رہے ہیں۔ بی جے پی اپنی تنظیمی قوت اور حکومتی کارکردگی پر انحصار کر رہی ہے، آر جے ڈی  اپنی روایتی سماجی بنیاد پر اعتماد کر رہی ہے جبکہ پرشانت کشور اپنی نئی سیاست اور عوامی رابطہ مہم کو آزما رہے ہیں۔

کسی ضمنی انتخاب کی ایک خاص بات یہ بھی ہوتی ہے کہ ان میں ووٹنگ کا تناسب اکثر عام انتخابات سے کم رہتا ہے۔ ایسی صورت میں منظم تنظیم رکھنے والی جماعتوں کو فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ وہ اپنے ووٹروں کو پولنگ بوتھ تک پہنچانے میں کامیاب رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اپنی تنظیمی مشینری پر مکمل اعتماد ظاہر کر رہی ہے۔اس انتخاب کا ایک اہم پہلو نفسیاتی بھی ہے۔ اس لئے تمام جماعتیں اس نتیجے کو اپنی سیاسی مہم کا حصہ بنائیں گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: نہ اختلافِ رائے جرم ہے نہ احتجاج

غرض کہ بانکی پور کا ضمنی انتخاب یہ بھی واضح کرے گا کہ بہار کی نئی نسل کن مسائل کو ترجیح دے رہی ہے۔ کیا اب بھی ذاتی مساوات اور روایتی سیاسی وفاداریاں فیصلہ کن ہیں یا تعلیم، روزگار، صنعت، سرمایہ کاری اور بہتر طرز حکمرانی جیسے موضوعات عوامی رائے کو متاثر کر رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب صرف بانکی پورکے لئے نہیں بلکہ پورے بہار کی آئندہ سیاست کیلئے اہم ہوگا۔سیاسی جماعتوں کے انتخابی نعروں پر بھی عوام کی گہری نظر ہے۔ عوام اب صرف وعدے نہیں بلکہ گزشتہ برسوں کی عملی کارکردگی کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ سڑک، بجلی، پانی، صحت، روزگار، مہنگائی اور نوجوانوں کے لیے مواقع جیسے مسائل ووٹروں کے ذہن میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لئے انتخابی تقریروں کے ساتھ ساتھ امیدواروں کی ساکھ بھی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھی اس انتخاب کو خاصا اہم بنا دیا ہے۔ ہر سیاسی جماعت اپنی کامیابی کے دعوے کر رہی ہے، لیکن اصل فیصلہ ووٹر کے ہاتھ میں ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK