سی جے پی کے جواں سال لیڈران اشوتوش اور سورو کو رِہا کر دیا گیا ہے۔ اگر آج بھی اُن کی ضمانت نہ ہوتی تو آن لائن قائم ہونے والی اس پارٹی کی حوصلہ شکنی ممکن تھی۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 4:44 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
سی جے پی کے جواں سال لیڈران اشوتوش اور سورو کو رِہا کر دیا گیا ہے۔ اگر آج بھی اُن کی ضمانت نہ ہوتی تو آن لائن قائم ہونے والی اس پارٹی کی حوصلہ شکنی ممکن تھی۔
سی جے پی کے جواں سال لیڈران اشوتوش اور سورو کو رِہا کر دیا گیا ہے۔ اگر آج بھی اُن کی ضمانت نہ ہوتی تو آن لائن قائم ہونے والی اس پارٹی کی حوصلہ شکنی ممکن تھی۔ یہ بات اسلئے کہی جارہی ہے کہ گزشتہ دو دِنوں میں پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے جو ویڈیوز سوشل میڈیا کے سپرد کئے اُن میں مذکورہ دونوں نوجوانوں کی تعریف کے انداز سے ایسا لگا کہ ابھیجیت اپنے ساتھیوں کا حوصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اُنہوں نے یہ تک کہا کہ سی جے پی میں یہی دو لوگ اہم ہیں، ’’مَیں تو اِن کے احکامات کی تعمیل کیا کرتا ہوں۔‘‘ ظاہر ہے کہ اُنہوں نے بہت بڑی بات کہی مگر اس کا مقصد وہی ہوسکتا ہے جو ہم نے بیان کیا۔ علاوہ ازیں ابھیجیت دیپکے نے پارٹی کے حامیوں سے کہا کہ تہواروں کا موسم ہے اس لئے اپنے اپنے گھر پر رہنا بہتر ہے، یہ وقت اہل خانہ کے ساتھ گزارنے کا ہے۔ اس سے بعضوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شاید سی جے پی اپنی موومنٹ کیلئے چند روزہ وقفہ چاہتی ہے مگر اس کی تشریح یوں بھی ہوسکتی ہے کہ پارٹی کے تینوں لیڈروں نے ضمانتی معاہدہ (بیل بونڈ) پر دستخط کئے ہیں اور اگر کوئی مظاہرہ کرتے ہیں تو اسے معاہدہ کی خلاف ورزی قرار دے کر دوبارہ کارروائی کی جاسکتی ہے اس لئے ابھیجیت چاہتے ہوں گے کہ ابھی کچھ عرصہ خاموش رہا جائے۔ تہواروں کا موسم جو نوراتری اور دسہرہ سے شروع ہوا ہے دیوالی تک جاری رہے گا یعنی ۱۰؍ نومبر کے آس پاس تک۔
یہ بھی پڑھئے: نام نہاد جنگ بندی فلسطینی آزادی کا متبادل نہیں
کیا ابھیجیت تب تک وقفہ چاہتے ہیں؟ یہ واضح نہیں ہے البتہ ہمیں ابھیجیت کے ویڈیو سے یہ شبہ بھی ہورہا ہے کہ شاید ان نوجوانوں کے پیچ کس دیئے گئے ہیں اور انہیں کوئی بڑا موومنٹ کھڑا کرنے سے باز رکھا جارہا ہے۔ جو بھی حقیقت ہے، آئندہ چند دنوں میں ظاہر ہوجائیگی۔ اگر اس تحریک کا دم خم کم بھی ہوا تو ماحول نہیں بدلے گا۔ جمعہ کو پیوپل اگینسٹ ایس آئی آر نے بڑے پیمانے پر مظاہرہ کا اعلان کیا ہے۔ اعلان کنندگان میں پرکلا پربھاکر، آئشی گھوش، راکیش ٹکیت، انجلی بھاردواج، تشار گاندھی، ابھیجیت دیپکےاور نیہا بورا جیسے نام شامل ہیں۔ اعلان کے مطابق یہ مظاہرہ ملک گیر ہوگا۔ مطالبات میں گیانیش کمار کا استعفیٰ، انتخابی اصلاحات اور انتخابی فہرستوں سے حذف کئے گئے ناموں کی بحالی شامل ہے۔اس طرح آپ دیکھ رہے ہیں کہ نام بدل رہے ہیں، چہرے بدل رہے ہیں مگر تحریک جاری ہے۔ چونکہ راہل گاندھی کا منشاء بھی یہی ہے اسلئے آپ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ خود کانگریس کے لیڈران اور کارکنان تسلسل کے ساتھ سرگرم ہیں اور کوئی دن نہیں جاتا جب پریس کانفرنسیں، پد یاترائیں اور مظاہرے نہ ہورہے ہوں۔ یکم نومبر کو انڈیا اتحاد کی بڑی رَیلی کی خبر پہلے ہی عام ہوچکی ہے۔ مختصر یہ کہ ایس آئی آر کے خلاف جس مزاحمت کی ضرورت ہے وہ ہزار رُکاوٹوں کے باوجود جاری ہے اور یہی جمہوریت میں ہونا چاہئے۔ حالیہ دنوں میں رجیم چینج کی جو بات کہی گئی اُس کو غلط نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہ ہندوستان ہے اور یہاں تبدیلیٔ اقتدار انتخابات کے ذریعہ ہی ممکن ہے جس کیلئے عوام کو بیدار اور باخبر رہنا چاہئے۔ جاری تحریک سے بلاشبہ عوام کی بیداری اور باخبری بڑھ رہی ہے۔