Updated: October 22, 2026, 5:34 PM IST
| New Delhi
کانگریس رکنِ پارلیمان پرینکا گاندھی واڈرا کے بیٹے اور فوٹوگرافر ریحان واڈرا کی نمائش سے دہلی میں حالیہ احتجاج کی تقریباً ۷۴؍ تصاویر ہٹا دی گئیں۔ ریحان کے مطابق، بیکانیر ہاؤس انتظامیہ نے سیاسی پیغام ظاہر ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ تصاویر ہٹانے کی ہدایت دی۔ پرینکا گاندھی نے اس اقدام کو نوجوانوں اور فنکاروں کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی ہے۔
پرینکا گاندھی کے بیٹے ریحان واڈرا۔ تصویر: آئی این این
کانگریس کی رکنِ پارلیمان پرینکا گاندھی واڈرا نے جمعرات کو حکومت پر طنز کیا، جبکہ ایک دن پہلے ان کے فنکار اور فوٹوگرافر بیٹے ریحان وڈرا نے بتایا تھا کہ ان کی انفرادی نمائش سے قبل بیکانیر ہاؤس کے انتظامیہ نے حالیہ دہلی احتجاج سے متعلق ان کی متعدد تصاویر کو ہٹا دیا ہے۔ وایاناڈ سے کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’جب اقتدار میں بیٹھا شخص کسی دوسرے کے اظہارِ رائے سے ڈرنے لگتا ہے تو وہ ناواقف ہوتا ہے لیکن وہ اصل میں وہی طاقت کھو چکا ہوتا ہے جسے بچانے کی وہ کوشش کر رہا ہوتا ہے۔‘‘ اپنے بیٹے کو ٹیگ کرتے ہوئے انہوں نے مزید لکھا، ’’تم جو سچ ہے اس کے ساتھ کھڑے رہو، ہر خوبصورت چیز خود تمہارا راستہ تلاش کر لے گی۔ مجھے تم پر فخر ہے اور ہمیشہ رہے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سونیا گاندھی نے انسٹاگرام جوائن کیا، اپنی نئی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کی
ریحان کی اس نمائش کا عنوان ـ’نو آئیڈیا از فائنل ‘تھا، جس کا ایک پریویو بدھ کو پیش کیا گیا تھا اور یہ جمعرات سے عام لوگوں کیلئے کھولی جا رہی ہے۔ ریحان نے بتایا کہ انہیں بدھ کو دوپہر ۳؍ بج کر ۳۰؍ منٹ پر بتایا گیا کہ اگر دہلی احتجاج کی تصاویر شام ۵؍ بجے تک نہیں ہٹائی گئیں تو نمائش کی اجازت منسوخ کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے نمائش کی تفصیلی تجویز اور اس کا خاکہ بیکانیر ہاؤس کی انتظامیہ کے ساتھ کافی پہلے ہی شیئر کر دیا تھا، لیکن اس کے باوجود بیکانیر ہاؤس نے ان کی کچھ تصاویر کو ہٹا دیا۔ پرینکا گاندھی نے اس اقدام کو مضحکہ خیز اور ملک بھر میں نوجوانوں کی آواز کو ’’دبانے‘‘ کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’آج یہ ان کے ساتھ ہوا ہے، کل کوئی اور فنکار اس کا شکار ہوگا۔‘‘ واضح رہے کہ بیکانیر ہاؤس راجستھان حکومت کے ماتحت آتا ہے۔ بیکانیر ہاؤس کے ایک اہلکار نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ انہیں اس معاملے پر تبصرہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ وزیراعلیٰ بھگونت مان کو دہلی ایئرپورٹ پر ۳؍ گھنٹے حراست میں رکھاگیا،۵۰؍ ہزار جرمانہ وصول کیاگیا‘‘
بیکانیر ہاؤس کی سی سی اے عمارت کی پہلی منزل کے دو بڑے کمرے اب کسی بھی سرگرمی سے محروم ہیں کیونکہ وہاں سے تقریباً ۷۴؍ تصاویر ہٹا دی گئی ہیں۔ جب ریحان سے پوچھا گیا کہ تصاویر کیوں ہٹائی گئیں، تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیکانیر ہاؤس انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ’’ہندوستان میں موجودہ تناظر اور سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے، ان تصویروں کو دکھانے کا یہ صحیح وقت نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان تصویروں میں سے کوئی بھی ’’سیاسی پیغام نہیں دیتی تھی اور اس میں صرف گزشتہ چھ مہینوں میں ہونے والے مظاہروں کی عکاسی کی گئی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’میں نے محسوس کیا کہ ایک ہندوستانی فنکار کے طور پر یہ میرا فرض ہےصرف اسلئے نہیں کہ میں اس وقت کوئی شو کر رہا ہوں، بلکہ ایک ہندوستانی فنکار کی حیثیت سے یہ میری ذمہ داری ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اسے قلمبند کروں۔۔۔ وہ فنکاروں کے کام پر سنسرشپ لگا رہے ہیں، مجھے نہیں معلوم وہ کس بات سے ڈرتے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے ہندوستانی پرچم (ترنگے) کی تصویر کو بھی ہٹانے کی حد کر دی۔‘‘ ریحان نے مزید کہا، ’’میں نے یہ دلیل دی کہ سب سے پہلے تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ سیاسی آرٹ مت دکھاؤ، کیونکہ تمام آرٹ ہی سیاسی ہوتا ہے۔ سیاست کے بغیر کوئی آرٹ وجود نہیں رکھتا۔‘‘