جنگ بندی کی اصطلاح سننے میں بھلی لگتی ہے مگر جب زمین پر نہیں اُترتی تو گالی لگتی ہے۔ غزہ میں جنگ بندی اسرائیلی کارروائیوں کا لائسنس بن گئی ہے۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 4:40 PM IST | Ramzy Baroud | Mumbai
جنگ بندی کی اصطلاح سننے میں بھلی لگتی ہے مگر جب زمین پر نہیں اُترتی تو گالی لگتی ہے۔ غزہ میں جنگ بندی اسرائیلی کارروائیوں کا لائسنس بن گئی ہے۔
ٹرمپ کے غزہ منصوبے کا اعلان ۲۹؍ ستمبر ۲۰۲۵ء کو ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں ۱۰؍ اکتوبر کو جنگ بندی عمل میں آئی اور یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ تشدد کو روکنے کیلئے بالآخر بین الاقوامی سفارتکاری کامیاب ہو گئی ہے۔ تاہم، آج زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ اگرچہ اس منصوبے کو تشدد کے خاتمے کیلئے دنیا بھر سے حمایت حاصل ہوئی تھی، لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ اسرائیل نے اس معاہدے کا استعمال غزہ میں اپنے فوجی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے کیا اور اس محصور علاقے پر اپنا بیشتر کنٹرول ختم نہیں کیا۔ اس منصوبے نے غزہ کو نسل کشی سے پہلے کے دور میں واپس نہیں پہنچایا۔ ماضی میں وقفے وقفے سے ہونے والا اسرائیلی تشدد اب روزانہ کی شہادتوں میں بدل چکا ہے، جبکہ نسل کشی سے پہلے کا محاصرہ اب ایک ایسی دم گھٹا دینے والی ناکہ بندی کی شکل اختیار کر چکا ہے جس نے اُس آبادی کو جکڑ کر رکھا ہے جو اپنے شہروں اور پناہ گزیں کیمپوں کے کھنڈرات کے درمیان بمشکل زندہ بچی ہوئی ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو جنگ بندی کے آغاز کے بعد اب تک سیکڑوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں وہ لوگ شامل نہیں ہیں جو بیماریوں، ضروری طبی سہولتوں کے فقدان اور جاری انسانی تباہی کے دیگر نتائج کی وجہ سے لقمۂ اجل بنے۔ کوئی بھی دوسرا تنازع ہوتا تو ان شہادتوں کو اور شہریوں کے زخمی ہونے کی حقیقت کو جاری جنگ کا ثبوت قرار دیا جاتا؛ لیکن غزہ میں، انہیں ’’جنگ بندی‘‘ جیسی نام نہاد تسلی کے تحت درج کیا جا رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ شہید ہونے اور زخمی ہونے والوں میں کم عمر لڑکے لڑکیاں اور بچے بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: خدا انہیں نظر بد سے بچائے!(۲)
۱۰۰؍ سے زائد انسانی امدادی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ایک مشترکہ بیان کے مطابق، غزہ میں ایک بھی اسپتال مکمل طور پر فعال نہیں ہے۔ شہید ہونے والوں کی لاشیں مردہ خانوں میں مسلسل پہنچ رہی ہیں، جبکہ ملبے سے بھی سیکڑوں لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔ اندازہ ہے کہ ۱۰؍ ہزار فلسطینی متوفین ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ یہ کیسی جنگ بندی ہے جس کے تحت غزہ کی وزارتِ صحت کو نسل کشی کے دوران شہید ہونے والوں اور نام نہاد جنگ بندی کے دوران جاں بحق ہونے والوں کا الگ الگ ریکارڈ رکھنا پڑ رہا ہے؟ یہ کیسی جنگ بندی ہے جس میں بغیر کسی انتباہ کے بمباری دوبارہ شروع ہو جاتی ہے، عام شہریوں کی گاڑیاں نشانہ بنتی ہیں، گھر اپنے مکینوں پر گر جاتے ہیں اور خاندان اپنے بچوں پر آنسو بہاتے ہیں جنہیں اسرائیلی جبر کا نشانہ بننا پڑا؟
انسانی ہمدردی پر مبنی معاہدے کی شقیں بھی بڑی حد تک عملدرآمد سے عاری ہیں۔ اس منصوبے کے تحت روزانہ تقریباً ۶۰۰؍ ٹرکوں کے ذریعے امداد پہنچانے کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔ تاہم، اقوام متحدہ کے ایک جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ معاہدے کے اولین ۱۷۲؍ دنوں کے دوران، اقوام متحدہ کی زیر نگرانی پہنچائی جانے والی امدادی اشیاء کے روزانہ اوسطاً ۱۰۰؍ سے بھی کم ٹرک شامل تھے۔ وہ بھاری مشینری کہاں ہے جو ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے اور اسرائیل کی تباہ کردہ چیزوں کی تعمیر نو شروع کرنے کیلئے درکار ہیں؟ ملبے کی بات کریں تو، انسانی فلاحی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق، غزہ میں اب بھی تقریباً ۶۱؍ ملین ٹن ملبہ موجود ہےجو گزشتہ ۱۸؍ برسوں کے دوران دنیا بھر میں ہونے والی تمام جنگوں سے پیدا شدہ ملبے سے تقریباً ۲۰؍ گنا زیادہ ہے۔ یہ کھنڈرات بھی اب فلسطینیوں کیلئے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ، غزہ شہر میں ایک تباہ شدہ عمارت کے گر جانے سے ۲۱؍ افراد فوت ہوگئے جن میں ۱۲؍ بچے شامل تھے۔
دریں اثنا، فلسطینیوں کی زندگی کیلئے دستیاب جگہ مسلسل سکڑتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) کے مطابق، جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے غزہ پر اسرائیلی فوجی کنٹرول تقریباً ۵۳؍ سے ۶۳؍ فیصد تک پہنچ گیا ہے (کچھ اندازوں کے مطابق یہ ۷۰؍ فیصد بھی ہوسکتا ہے)۔ اگرچہ اس منصوبے کو عالمی حمایت حاصل تھی، لیکن اس کے نام نہاد ضامن، اسرائیل کے جاری مظالم کو روکنے یا معاہدے کی بنیادی شقوں پر عمل درآمد کروانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ اس کے برعکس، زیادہ توانائی اس بات پر صرف کی گئی کہ کس طرح فلسطینی مزاحمت کو غیر مسلح کیا جائے، گویا خود مزاحمت ہی نوآبادیاتی نظام، فوجی قبضے، محاصرے، نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) اور نسل کشی کی اصل وجہ ہو۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں نے اسے امن کے حتمی حل کے طور پر پیش کیا تھا، لیکن عملی طور پر اسرائیل نے جنگ بندی کا فائدہ اٹھایا، اپنی صفوں کو دوبارہ منظم کیا اور ایسے اہداف حاصل کیے جن تک پہنچنے کیلئے اسے جنگ بندی سے پہلے مشکلات کا سامنا تھا۔ اس انتظام کے تحت، فلسطینیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مسلح کارروائیوں سے باز رہیں حالانکہ اس دوران اسرائیلی فوجی کارروائیاں، علاقے میں توسیع، اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی پر پابندیاں بدستور جاری ہیں۔
اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف بامعنی مزاحمت کے بغیر، خواہ فلسطینیوں کی طرف سے ہو یا مسلسل بین الاقوامی سیاسی اور قانونی دباؤ کے ذریعے، خطرہ یہ ہے کہ اسرائیل غزہ سے فلسطینیوں کے نسلی صفایہ کیلئے اپنا دباؤ بڑھا دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ غزہ کو بین الاقوامی توجہ کا مرکز رہنا چاہئے۔ عوامی تحریک، سیاسی دباؤ، قانونی احتساب، اور یکجہتی کو محض اس لئے معطل نہیں کیا جا سکتا کہ ایک معاہدے پر ’’جنگ بندی‘‘ کا لیبل لگایا گیا ہے۔ عالمی برادری کو اس بنیاد کو چیلنج کرنا چاہئے کہ نسل کشی محض اس لئے ختم ہوئی ہے کہ اسرائیلی اقدامات کو بیان کرنے کیلئے استعمال کی جانے والی زبان بدل گئی ہے۔ نفاذ، احتساب یا قبضے کے خاتمے کے بغیر جنگ بندی فلسطینی آزادی کا متبادل نہیں بن سکتی۔