نیا نگر علاقے میں دارالعلوم عزیزیہ سے منسلک عالیشان مسجد کا نام بھی دارالعلوم عزیزیہ کی مناسبت سے عزیزیہ مسجد ہی ہے۔ ا س کے قیام و تعمیر کو پچاس سال مکمل ہوچکے ہیں۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 4:30 PM IST | Sajid Mahmood Sheikh | Mira Road
نیا نگر علاقے میں دارالعلوم عزیزیہ سے منسلک عالیشان مسجد کا نام بھی دارالعلوم عزیزیہ کی مناسبت سے عزیزیہ مسجد ہی ہے۔ ا س کے قیام و تعمیر کو پچاس سال مکمل ہوچکے ہیں۔
نیا نگر علاقے میں دارالعلوم عزیزیہ سے منسلک عالیشان مسجد کا نام بھی دارالعلوم عزیزیہ کی مناسبت سے عزیزیہ مسجد ہی ہے۔ ا س کے قیام و تعمیر کو پچاس سال مکمل ہوچکے ہیں۔ چونکہ مسجد کی عمارت سڑک سے کافی نیچے ہو چکی تھی جس کی وجہ سے سڑک کا پانی مسجد میں داخل ہوجاتا تھا اور دیواریں جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھیں، مصلیان کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی اس لئے تعمیر نو کا کام ۲۰۲۱ء میں شروع کیا گیا جو تقریباً ڈیرھ سال میں مکمل ہوا۔ مسجد کی تین منزلہ عمارت گراؤنڈ فلور، پہلی اور دوسری منزل پر مشتمل ہے۔ گراؤنڈ فلور پر مسجد کے اندرونی حصے میں جدید طرزکا ایئرکنڈیشنڈ ( اے سی )لگا ہے ۔ تینوں منزلوں پر طہارت خانے کا انتظام ہے۔
یہ بھی پڑھئے:میراروڈ ریلوے اسٹیشن کی کایا پلٹ
گراؤنڈ فلور پر فرش بھی سنگ مرمر کا ہے اور دیواروں پر بھی سنگ مرمر کا کام ہے۔ صحن میں سنگ مرمر کی عمدہ نقاشی کی گئی ہے۔ مسجد کی محراب کی لمبائی نمایاں اور الگ ہے۔ محراب کی اندرونی لمبائی تقریباً سات فٹ اور چوڑائی گیارہ فٹ ہے۔ محراب کے ارد گرد سنگ مرمر کی تراش سے ایک خوش نما، دیدہ زیب اور جاذب ِنظر فنکاری کا عمدہ نمونہ پیش کیا گیا ہے۔ دارالعلوم کے مہتمم مفتی عبداللہ نے انقلاب کو بتایا کہ یہ میراروڈ کی قدیم ترین مسجد ہے۔ یہ اس وقت سے ہے جب یہاں آبادی کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ ۱۹۷۶ میں اس کا قیام عمل میں آیا۔ یہاں کے اول امام قاضی قاری مولانا مظہر عالم قاسمی صاحب تھے۔ مسجد میں بیک وقت بارہ سو مصلیان نماز ادا کر سکتے ہیں۔