نیا نگر میں حیدری چوک پر واقع حیدری جامع مسجد شیعہ اثنا عشری مسلک کی مشہور مسجد ہے۔ یہاں مولانا حسن امام امامت وخطابت کی ذمہ داری پر فائز ہیں۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 4:35 PM IST | Sajid Mahmood Sheikh | Mira Road
نیا نگر میں حیدری چوک پر واقع حیدری جامع مسجد شیعہ اثنا عشری مسلک کی مشہور مسجد ہے۔ یہاں مولانا حسن امام امامت وخطابت کی ذمہ داری پر فائز ہیں۔
نیا نگر میں حیدری چوک پر واقع حیدری جامع مسجد شیعہ اثنا عشری مسلک کی مشہور مسجد ہے۔ یہاں مولانا حسن امام امامت وخطابت کی ذمہ داری پر فائز ہیں۔ اپنی جدید تزئین و آرائش اور شاندار فن تعمیر کی وجہ سے حیدری جامع مسجد اب ایک لینڈ مارک بن چکی ہے۔ اس کی تعمیر ۲۰۰۰ء میں ہوئی تھی جبکہ اس کی تجدید کاری و تزئین و آرائش کا کام ۲۰۲۰ء میں مکمل ہوا۔ اس کی تعمیر میں تین بڑے اسلامی طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ یہ خالصتاً ایرانی، صفوی اور ترکی (عثمانی) طرز پر بنائی گئی ہے، جس میں ہندوستانی مغل ٹچ بھی شامل ہے۔ مسجد کا سب سے نمایاں حصہ اس کا بڑا سنہری گنبد ہے۔ یہ عثمانی طرز کے گنبدوں جیسا ہے۔ چاروں کونوں پر چار چھوٹے سنہری گنبد مرکزی گنبد کو توازن فراہم کرتے ہیں۔ گنبد پر سنہری پترے کا کام جدید میٹریل سے کیا گیا ہے جو دھوپ میں چمکتا ہے۔ پورا بیرونی ڈھانچہ ٹائلس سے مزین ہے۔ سفید جالی نما ٹائلز پر نیلے اور فیروزی رنگ کے باریک نقش و نگار ایرانی مساجد جیسے قم اور اصفہان کی یاد دلاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:میرا روڈ کی سب سے قدیم مسجد عزیزیہ
مرکزی دروازے (گیٹ) پر مراکشی اسٹائل کی رنگین ٹائلز لگی ہیں جن میں ہندسی ڈیزائن اور پھول دار نقاشی ہے۔ مرکزی دروازہ ایک بڑی نوکیلی محراب پر مشتمل ہے جو مغل اور فارسی طرز کی پہچان ہے۔ اس کے اوپر قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں۔ گیٹ کے اوپر چھوٹے چھوٹے گنبد نما مینار بنے ہیں جن پر نیلے سفید چیکس کا کام ہے۔ یہ ترکی طرز ہے۔ عمارت کی بالائی منزل اور اندرونی حصے میں سفید پتھر کی جالیوں کا استعمال ہوا ہے جس سے ہوا اور روشنی کا گزر ہوتا ہے اور مسجد کو ایک روحانی حسن ملتا ہے۔ حیدری جامع مسجد روایتی اسلامی روح اور جدید طرز تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔ سفید، فیروزی اور سنہری رنگ کا امتزاج اسے میرا روڈ کی گنجان آبادی میں بھی ممتاز اور باوقار بناتا ہے۔ یہ مسجد گراؤنڈ فلور اور پہلا منزلہ، اس طرح دو منزلہ ہے۔ یہاں ایک وقت میں پانچ سو مصلیان نماز ادا کر سکتے ہیں۔