دارالعلوم حنفیہ رضویہ میں علماء کی میٹنگ میں آئین کی دفعہ ۲۵؍ کے تحت مذہبی آزادی کے تحفظ پر زور۔ قبائلیوں کو یو سی سی سے مستثنیٰ رکھنے اور دیگر شہریوں پر اسے تھوپنے کی کوشش کو صریح نا انصافی قرار دیا۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 4:34 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
دارالعلوم حنفیہ رضویہ میں علماء کی میٹنگ میں آئین کی دفعہ ۲۵؍ کے تحت مذہبی آزادی کے تحفظ پر زور۔ قبائلیوں کو یو سی سی سے مستثنیٰ رکھنے اور دیگر شہریوں پر اسے تھوپنے کی کوشش کو صریح نا انصافی قرار دیا۔
یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے خلاف میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے ۔بدھ کو دارالعلوم حنفیہ رضویہ(قلابہ) میں علماء اور ذمہ دار اشخاص کی ایک نشست منعقد کی گئی جس میں شریعت ِ اسلامی کے تحفظ، مذہبی آزادی اور یکساں سول کوڈ کے ممکنہ اثرات پرتبادلۂ خیال کیا گیا۔
مولانا اعجاز احمد کشمیری( امام ہانڈی والا مسجد)نے آئین ِہند کی دفعہ ۲۵؍کا حوالہ دیتے ہوئے یکساں سول کوڈ کے نفاذ پراندیشے کا اظہار کیا۔ مولانا کے مطابق’’یکساں سول کوڈ کے معاملے میں آئینی حقوق اور مذہبی آزادی کے پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے۔‘‘رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے قبائلیوںکو یکساں سول کوڈ سے مستثنیٰ رکھنے اور دیگر شہریوں پر اسے تھوپنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرکسی ایک یا چند طبقات کو اس قانون سے مستثنیٰ رکھا جاتا ہے تو دوسرے شہریوں کے حقوق اور ان کے مذہبی اور شرعی معاملات کے تعلق سے بھی یکساں اصول اور انصاف کو ملحوظ رکھا جانا انصاف کا تقاضا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تھانے: پردیپ پورنیکر قتل معاملہ میں ہنگامہ آرائی، سیاست بھی تیز
اس کے ساتھ ہی سعید نوری نے عوام کو بیدار کرنے پر خاص طور پر زور دیا۔ ‘‘ مولانا فریدالزماں قادری نے کہا کہ ’’مسلمانوں کو بیدار ہونے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔خاموش بیٹھنے کے بجائے اہلِ خانہ، رشتہ داروں اور دوست واحباب کو بھی اس معاملے سے آگاہ کیا جائے۔‘‘
اس میٹنگ میں دارالعلوم حنفیہ کے سربراہ حافظ عبدالقادر رضوی، قاری نیازاحمد قادری، قاری الطاف اور اساتذہ وطلبہ بھی بڑی تعداد میںموجود تھے۔
کن ۵؍اہم نکات پرتوجہ دی جائے ؟
(۱) شریعت ِ اسلامی کے تحفظ اور مذہبی آزادی کے لئے ہر سطح پرعوامی بیداری لانے کی کوشش کی جائے (۲) صحیح معلومات حاصل کی جائے (۳)ہرشخص اپنے آئینی حقوق سے واقفیت حاصل کرے (۴) اپنی رائے پُرامن اور جمہوری طریقے سے متعلقہ حکام تک پہنچائیں (۵)سوچ سمجھ کراورصحیح طریقے سےیو سی سی سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے جائیں۔