• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میونسپل اسپتالوں میں ایک مریض کے کھانے پر ۱۶۰؍ روپے خرچ ہوں گے!

Updated: October 29, 2026, 4:43 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

 اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں اپوزیشن کا کھانے کے معیار کی نگرانی کا مطالبہ نظر انداز۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بدھ کو بی ایم سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں شہری انتظامیہ کے اسپتالوں میں مریضوں کو کھانا فراہم کرنے کا ٹینڈر منظور کرلیا گیا۔ اگرچہ اپوزیشن پارٹیوں نے کھانے کا معیار معلوم کرنے اور معیار کی نگرانی کیلئے نظام قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن برسراقتدار پارٹی نے کارپوریٹروں کی اکثریت کی بنیاد پر اس ٹینڈر کو بنا کسی ترمیم کے منظوری دے دی  ۔مریضوں کو کھانا دینے کے معیار کے تعلق سے کمیٹی کے زیادہ تر ممبران کو تشویش تھی جس پر اکثر و بیشتر کارپوریٹروں نے سوال اٹھائے کہ اس بات کو حتمی بنایا جائے کہ مریضوں کو مقوی غذا فراہم کی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ ٹینڈر حاصل کرنے کے بعد سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو غیر معیاری کھانا دیا جائے۔

بی ایم سی کے اسپتالوں میں آئندہ ۳؍ برسوں تک کھانے کی اشیاء فراہم کرنے کا ٹینڈر منظوری کیلئے پیش کیا گیا تھا۔ اس تعلق سے بی ایم سی میں کانگریس کےہاؤس لیڈر اشرف اعظمی،  ایم آئی ایم کے کارپوریٹر ضمیر قریشی، ایم این ایس لیڈر یشونت رائو قلعدار، کانگریس کارپوریٹر تُلیپ مرانڈا، شیوسینا (یوبی ٹی) کارپوریٹر یشودھر فنسے، بی ایم سی میں ہائوس لیڈر گنیش کھنکر، شندے سینا لیڈر یامنی جادھو اور دیگرکارپوریٹروں نے مختلف پہلوئوں پر بات کی اور تقریباً سب اس بات پر متفق تھے کہ کھانوں کے معیار کی جانچ کا کوئی نظم ہونا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’یکساں سول کوڈ آئین کے خلاف اور شریعت میں مداخلت ہے‘‘

اشرف اعظمی نے کمیٹی کے چیئر مین پربھاکر شندے کو مشورہ دیا کہ تمام کارپوریٹر بی ایم سی افسران کو مطلع کئے بغیر اچانک کسی دن کسی بھی بی ایم سی اسپتال کا دورہ کرکے دیکھیں کہ مریضوں کو کیسا کھانا دیا جارہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بی ایم سی کے اسپتالوںمیں جو دوائیں مریضوں کو مفت مہیا کی جانی چاہئیں، وہ دستیاب نہیں ہوتیں۔ ایسے میں اگر مریضوں کو دیئے جانے والے کھانے کا معیار جانچنے کا کوئی نظام نہیں ہوگا تو یہ ان کی جان کے ساتھ کھلواڑ ہوگا۔

ایم این ایس کے کارپوریٹر یشونت رائو قلعدار نے کہا کہ ٹینڈر میں کہا گیا ہے کہ مریضوں کو اعلیٰ قسم کا باسمتی چاول دیا جائے گا لیکن بی ایم سی کے اسپتالوں میں کس قسم کا چاول دیا جاتا ہے، یہ سب جانتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا واقعی باسمتی چاول دیا جائے گا یا صرف ٹینڈر حاصل کرنے کیلئے لکھ دیا گیا ہے؟ اس سب کی نگرانی کی ذمہ داری کس کی ہے؟شیوسینا لیڈر یشودھر فنسے نے کہا کہ آج جو دودھ کی قیمت ہے کل کو اس میں اضافہ ہوسکتا ہے اور اس ٹینڈر میں آئندہ ۳؍ برسوں کیلئے موجودہ قیمتوں کے حساب سے انتظام کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، اگر اشیاء کی قیمتوں کے دام میں اضافہ ہوتا ہے تو مریضوں کو غذائیت سے بھرپور کھانا کس طرح دیا جاسکے گا؟

تمام باتوں کو سننے کے بعد   ایڈیشنل میونسپل کمشنر  نے سوالوں کے جواب دیئے کہ کس طرح سے مریضوں کو کھانا فراہم کرنے کا نظام کام کرتا ہے اور باسمتی چاول ہی دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہرمریض  کے کھانے پر ۱۶۰؍ روپے خرچ ہوں گے۔ اشیاء کی قیمتیں بڑھنے پر ٹھیکیدار کو اضافی رقم دی جائے گی۔ تاہم اس جواب سے اپوزیشن کے کارپوریٹرس مطمئن نہیں تھے۔ اس پر چیئر مین پربھاکر شندے نے ممبران کو ہاتھ اٹھا کر ٹینڈر پاس کروانے یا نہ کروانے کے تعلق سےووٹ دینے کو کہا اور اکثریت کی بنیاد پر ٹینڈر پاس کردیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK