• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پی این بی کے صارفین کے کھاتوں سے۳۵؍ کروڑ روپے غائب ہونے کا الزام

Updated: October 29, 2026, 5:04 PM IST | Lucknow

ہندوستان کے سرکاری بینک پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) کی گریٹر نوئیڈا کے اچھر گاؤں میں واقع شاخ سے صارفین کی بچت اور فکسڈ ڈپازٹ (ایف ڈی) کھاتوں سے تقریباً ۳۵؍کروڑ روپے غائب ہونے کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔

PNB.Photo;INN
پی این بی۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کے سرکاری بینک پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) کی گریٹر نوئیڈا کے اچھر گاؤں میں واقع شاخ سے صارفین کی بچت اور فکسڈ ڈپازٹ (ایف ڈی) کھاتوں سے تقریباً ۳۵؍کروڑ روپے غائب ہونے کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ متعدد کھاتہ داروں نے الزام لگایا ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر رقم دوسرے کھاتوں میں منتقل کی گئی اور انہیں ان لین دین کے بارے میں نہ کوئی پیغام ملا اور نہ ہی کوئی اطلاع دی گئی۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر بینک انتظامیہ نے برانچ منیجر سمیت پانچ ملازمین کو معطل کر دیا ہے، جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گریٹر نوئیڈا کے سیکٹر پائی ون، اچھر گاؤں میں واقع پی این بی کی شاخ میں یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کچھ صارفین اپنی رقم نکالنے یا کھاتوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے بینک پہنچے۔ انہیں اپنے کھاتوں میں موجود رقم میں بڑی کمی یا صفر بیلنس دیکھ کر حیرت ہوئی۔ متاثرہ افراد میں ایسے کسان بھی شامل ہیں جنہیں زمین کے حصول کے عوض سرکاری معاوضہ ملا تھا اور انہوں نے یہ رقم بینک میں جمع کرائی تھی۔ متاثرین میں وجیندر سنگھ نامی ایک کسان بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق ان کے کھاتے میں پہلے تقریباً ۸۷؍ سے ۸۸؍ لاکھ روپے موجود تھے، لیکن بعد میں بیلنس گھٹ کر صرف ایک لاکھ روپے رہ گیا۔ ایک دوسرے کھاتہ دار حنیف خان نے دعویٰ کیا کہ ان کے کھاتے میں تقریباً ۳۹؍ لاکھ روپے تھے، تاہم اب یہ رقم نظر نہیں آ رہی۔ زاکر نامی ایک اور صارف نے بھی اپنے کھاتے سے ساڑھے نو لاکھ روپے غائب ہونے کا الزام لگایا ہے۔ 
متاثرہ کھاتہ داروں کا کہنا ہے کہ ان کی بعض فکسڈ ڈپازٹ اسکیمیں مقررہ مدت پوری ہونے سے پہلے ہی بند کر دی گئیں اور ان کی رقم مبینہ طور پر دوسرے کھاتوں میں منتقل کر دی گئی۔ بعض صارفین نے کھاتوں کی تفصیلات اور پاس بک میں اندراجات کی درخواست کی تو انہیں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے آڈٹ جاری ہے، اس لیے انہیں انتظار کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:او ٹی ٹی نے کہانیوں اور خواتین کے کرداروں کو نئی پہچان دی ہے: دیویہ دتہ

صارفین کا الزام ہے کہ اس طرح کی تاخیر کے باعث وہ اپنے کھاتوں کی اصل صورت حال بروقت معلوم نہیں کر سکے۔ تاہم، یہ ابھی واضح نہیں ہوا ہے کہ رقم کس طریقے سے منتقل کی گئی، اس میں کن افراد کا کردار تھا اور مجموعی طور پر کتنے کھاتہ دار متاثر ہوئے ہیں۔ ان سوالات کا جواب پولیس اور بینک کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد   کھاتہ داروں کی شکایات کے بعد پی این بی انتظامیہ نے برانچ منیجر سمیت پانچ ملازمین کو معطل کر دیا ہے اور ان کی جگہ نئی ٹیم تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ پولیس نے گریٹر نوئیڈا کے بیٹا ٹو تھانے میں مقدمہ درج کیا ہے۔ حکام کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور بینک کی داخلی تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی شکایات درج کرانے والوں کی تعداد کم از کم ۱۶؍ تھی، جبکہ بعد کی اطلاعات میں پولیس سے رجوع کرنے والے کھاتہ داروں کی تعداد بڑھ کر ۲۵؍ بتائی گئی۔ اس لیے شکایت کنندگان کی تعداد اور مبینہ مالی نقصان کی حتمی مقدار ابھی تحقیقات کے دوران تبدیل ہو سکتی ہے۔ متاثرہ صارفین نے بینک کے باہر جمع ہو کر اپنی رقم کی واپسی اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بعض مقامات پر کسان تنظیموں کے اراکین نے بھی احتجاج کیا۔ کھاتہ داروں کے لیے یہ معاملہ خاص طور پر تشویش ناک ہے، کیونکہ بعض کے مطابق متاثرہ رقم ان کی برسوں کی بچت یا زمین کے معاوضے سے حاصل ہونے والی رقم تھی۔
بینک حکام نے صارفین کی شکایات کا ازالہ کرنے اور معاملے کی جانچ کا یقین دلایا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بینک کے ضلعی سربراہ نے کہا کہ مبینہ طور پر منتقل کی گئی رقم کو بینک کے مرکزی دفتر نے روک دیا ہے اور اسے واپس کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔ تاہم، تمام متاثرین کو کتنی رقم اور کب واپس ملے گی، اس کی مکمل تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:او ٹی ٹی نے کہانیوں اور خواتین کے کرداروں کو نئی پہچان دی ہے: دیویہ دتہ

اس معاملے میں اب یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ فکسڈ ڈپازٹ اور بچت کھاتوں سے رقم کس اجازت یا طریقۂ کار کے تحت منتقل ہوئی، صارفین کو لین دین کے پیغامات کیوں موصول نہیں ہوئے، اور بینک کے اندرونی نگرانی کے نظام میں کوئی کوتاہی ہوئی یا نہیں۔ پولیس اور بینک کی تحقیقات سے یہ بھی طے ہوگا کہ آیا یہ ملازمین کی مبینہ بدعنوانی کا معاملہ ہے، انتظامی غفلت کا یا کسی دوسرے طریقے سے ہونے والی مالی بے ضابطگی کا۔فی الحال تقریباً ۳۵؍ کروڑ روپے غائب ہونے کی رقم کھاتہ داروں کی شکایات پر مبنی تخمینہ ہے؛ اسے بینک یا پولیس کی جانب سے حتمی طور پر تصدیق شدہ نقصان نہیں سمجھنا چاہیے۔ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، کسی فرد کو قصوروار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK