غرور کا سر نیچا ہوکر رہتا ہے۔ جلد اور بہت جلدبھی ہوسکتا ہے اور اس میں دیر اور بہت دیر بھی لگ سکتی ہے۔ انجام طے ہوتا ہے، وقت طے نہیں ہوتا۔ وقت کا تعین قدرت کے فیصلے پر منحصر ہے کہ کس مغرور کو کب سزا ملے گی، جلد ملے گی یا دیر سے ملے گی۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 4:40 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
غرور کا سر نیچا ہوکر رہتا ہے۔ جلد اور بہت جلدبھی ہوسکتا ہے اور اس میں دیر اور بہت دیر بھی لگ سکتی ہے۔ انجام طے ہوتا ہے، وقت طے نہیں ہوتا۔ وقت کا تعین قدرت کے فیصلے پر منحصر ہے کہ کس مغرور کو کب سزا ملے گی، جلد ملے گی یا دیر سے ملے گی۔
غرور کا سر نیچا ہوکر رہتا ہے۔ جلد اور بہت جلدبھی ہوسکتا ہے اور اس میں دیر اور بہت دیر بھی لگ سکتی ہے۔ انجام طے ہوتا ہے، وقت طے نہیں ہوتا۔ وقت کا تعین قدرت کے فیصلے پر منحصر ہے کہ کس مغرور کو کب سزا ملے گی، جلد ملے گی یا دیر سے ملے گی۔ سر نیچا کئے جانے کے انداز بھی مختلف ہوتے ہیں اس لئے کوئی شخص سر نیچا ہونے کے باوجود سر اونچا کرکے چل سکتا ہے۔ کوئی شخص سر نیچا ہونے کے باوجود اس حقیقت کو ماننے سے انکار کرسکتا ہے۔ کوئی شخص جانتا ہی نہیں کہ سر نیچا ہونا کیا ہوتا ہے۔ بے شرمی اور بے غیرتی کے بھی مدارج ہیں۔ بعض اوقات دولت اور اقتدار کے نشے میں بھی ایسی کیفیت ہوتی ہے کہ انسان حقائق کو تسلیم کرنے کا روادار نہیں ہوتا۔ اگر کسی کو اپنی شکست کا ملال ہو، اُسے محسوس ہوکہ اُس کے تمام منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں یا اُسے یہ غم ستانے لگے کہ اب کیا ہوگا تو اس کا معنی یہ ہے کہ اُسے اپنا غرور اب بھی عزیز ہے مگر حالات کے بدل جانے کی وجہ سے نہ تو غرور اُس کا ساتھ دے سکتا ہے نہ ہی وہ غرور کا۔
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنی صدارت کا اور اپنی طاقت کا ضرورت سے زیادہ غرور ہے۔ اُن کا غرور بات چیت سے بھی ظاہر ہوتا ہے، بیانات اور تقاریر سے بھی، ہاؤ بھاؤ سے بھی منعکس ہوتا ہے اور فیصلوں اور اقدامات سے بھی۔ وہ غرور ہی تھا جس نے سرزمین امریکہ سے اُن لوگوں کو، جو غیر قانونی تارکین وطن قرار دیئے گئے، ہاتھوں میں ہتھکڑی اور پیروں میں بیڑیوں کے ساتھ اُن کے وطن واپس کیا تھا۔ وہ بھی غرور ہی تھا جس نے مختلف ملکوں پر مبالغہ آمیز ٹیرف عائد کردیا تھا۔ غرور نے ٹرمپ کی اور ٹرمپ نے غرور کی اس طرح پرورش کی کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون سا فیصلہ ٹرمپ کا ہے جس کا ساتھ غرور نے دیا اور کون سا فیصلہ غرور کا ہے جس کا ساتھ ٹرمپ نے دیا۔ اسی دوران دُنیا نے یہ بھی دیکھا کہ دو غرور ملے، ایک نے دوسرے کو جنگ کیلئے اُکسایا اور دوسرے نے ایران کے خلاف جنگ کا نقارہ بجا دیا۔
یہ بھی پڑھئے: نومبر اور مذہب و سیاست و ادب کے مشاہیر
مقصد تھا ایران کو تباہ کرنا مگر اس مقصد میں نہ تو پہلا غرور نیتن یاہو کامیاب ہوا نہ ہی دوسرا غرور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصور کیا جاسکتا ہے کہ اِس وقت ایک غرور دوسرے کو اور دوسرا پہلے کو اپنی شکست کا ذمہ دار سمجھ رہا ہوگا۔ یہی غرور کا مسئلہ ہے کہ خود کو قصور وار نہیں مانتا، دوسرے کو یا دوسروں کو قصور وار ٹھہراتا ہے۔ ایران پر جنگ مسلط کرکے اسرائیل اور امریکہ دونوں ہی اپنے اپنے ملک کے الیکشن جیتنا چاہتے تھے مگر دونوں ہی بُری طرح پھنس گئے ہیں۔ ان کا سر نیچا ہوچکا ہے مگر کیا آپ کو لگتا ہے کہ انہیں اپنا سر نیچا محسوس ہورہا ہے؟
جنگ کسی کے مفاد میں نہیں مگر کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اُن کے مفاد میں ہے۔ قدرت کے پاس ہر طرح کے لوگوں کا انتظام ہے، ایسے لوگوں کا بھی ہے۔ اس بار، قدرت نے دونوں کو وارننگ دی ہے۔ نیتن یاہو کا کم نشستوں کے ذریعہ انتظام کیا گیا۔ ٹرمپ سے بہت کچھ چھین کر اُن کا انتظام کیا گیا۔ مگر کیا یہ لوگ باز آجائینگے؟ کم از کم ان کے سیاہ ماضی سے تو ایسا نہیں لگتا۔