گنا کسانوں کیلئے سوابھیمانی شیتکری سنگھٹنا کے’چکا جام احتجاج‘ سے پونے بنگلور ہائی وےپر گاڑیوں کی آمدورفت متاثر۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 4:28 PM IST | Agency | Kolhapur
گنا کسانوں کیلئے سوابھیمانی شیتکری سنگھٹنا کے’چکا جام احتجاج‘ سے پونے بنگلور ہائی وےپر گاڑیوں کی آمدورفت متاثر۔
ریاست میں گنے کی مناسب قیمت کے مطالبے کے تحت کسانوں کی تحریک اب شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ سوابھیمانی شیتکری سنگھٹنا کے صدر اور سابق رکن پارلیمنٹ راجو شیٹی کی قیادت میں کسانوں نے پونے-بنگلورو قومی شاہراہ پر کِنی ٹول پلازہ کے قریب راستہ روک دیا ہے۔ گنے کی قیمت۴۵۰۰؍ روپے فی ٹن مقرر کرنے کے مطالبے کے تحت جاری اس احتجاج کے باعث گزشتہ۳۳؍ گھنٹوں سے قومی شاہراہ پر ٹریفک متاثر ہے۔ کسانوں کے مظاہرے سے طویل فاصلے کا سفر کرنے والی گاڑیوں کی آمد و رفت پر بھی اثر پڑا ہے۔ سوابھیمانی شیتکری سنگھٹنا نے گنے کی قیمت۴۵۰۰؍ روپے فی ٹن مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی مطالبے کے تحت کولہاپور کے قریب کنی ٹول پلازہ کے پاس کسانوں نےچکا جام احتجاج شروع کیا اور گاڑیوں کی آمد و رفت روک دی۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: متنازع بیان پر دھریندرشاستری کیخلا ف فوجداری کا معاملہ درج
کسان تنظیم کا کہنا ہے کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت ملنی چاہیے۔ مطالبہ پورا نہ ہونے کے باعث تحریک کو مزید تیز کردیا گیا ہے۔تحریک کی قیادت کر رہے راجو شیٹی نے شوگر مل مالکان کو سخت الفاظ میں انتباہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’تم نے ہماری دیوالی خراب کی ہے، اب ہم بھی تمہاری دیوالی نہیں ہونے دیں گے۔‘‘شیٹی نے اشارہ دیا کہ اگر کسانوں کے مطالبات پر مثبت فیصلہ نہیں لیا گیا تو تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔ احتجاج کے باعث کِنی ٹول پلازہ کے قریب بھاری گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ ٹرک اور دیگر بڑی گاڑیاں کافی دیر سے پھنسی ہوئی ہیں۔ راجو شیٹی نے تحریک کو مزید وسیع کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے ممبئی اور پونے جیسے شہروں میں سبزیوں اور دودھ کی سپلائی روکنے کی وارننگ دی ہے۔