نومبر کا مہینہ ہے، علامہ اقبال، مولانا ابوالکلام آزاد، پنڈت جواہر لعل نہرو اسی مہینے میں پیدا ہوئے اور علامہ شبلی نعمانی اسی مہینے میں دُنیا سے رخصت ہوئے۔ ان سب کو ایک لڑی میں پرویا ہوا دیکھنا تاریخی حقیقت بھی ہے اور قومی روایت بھی۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 4:38 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai
نومبر کا مہینہ ہے، علامہ اقبال، مولانا ابوالکلام آزاد، پنڈت جواہر لعل نہرو اسی مہینے میں پیدا ہوئے اور علامہ شبلی نعمانی اسی مہینے میں دُنیا سے رخصت ہوئے۔ ان سب کو ایک لڑی میں پرویا ہوا دیکھنا تاریخی حقیقت بھی ہے اور قومی روایت بھی۔
یہ دُنیا بھی زندگی و مدت کا عجیب کارخانہ ہے۔ کوئی آتا ہے دُنیا میں، کوئی جاتا ہے دُنیا سے، اور آمد و رفت کا یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ یہ نومبر کا مہینہ ہے، علامہ اقبال، مولانا ابوالکلام آزاد، پنڈت جواہر لعل نہرو اسی مہینے میں پیدا ہوئے اور علامہ شبلی نعمانی اسی مہینے میں دُنیا سے رخصت ہوئے۔ ان سب کو ایک لڑی میں پرویا ہوا دیکھنا تاریخی حقیقت بھی ہے اور قومی روایت بھی۔
علامہ اقبال (۱۸۷۷ء) جن کے پہلے اُردو مجموعۂ کلام ’بانگ درا‘ میں بابا نانک پر ایک نظم، کے بارے میں مشہور کر دیا گیا ہے کہ وہ اسلامی شاعر تھے اور تقسیم ہند کا منصوبہ سب سے پہلے انہوں نے ہی پیش کیا تھا۔ یہ جھوٹ ہے اور اس جھوٹ کے تاریخی و دستاویزی شواہد موجود ہیں۔ سب سے بڑا ثبوت ان کا ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ اور ’’دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے‘‘ کہنا ہے۔ انہوں نے ’’مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا‘‘ اور ’’جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے‘‘ بھی کہا ہے مگر ان کا ایسا کہنا ایک خاص پس منظر میں تھا اور صحیح سیاق و سباق میں اس کی وضاحت کی جاتی رہی ہے۔ وہ ہندوستان یا وطن دوستی کے قائل مگر قومیت کے اس تصور کے مخالف تھے جو یورپ سے درآمد کیا گیا تھا۔ اقبال کے تصور حیات کو سمجھنے کے لئے غیرت و خودداری اور حرکت و آزادی کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے ’’طلبائے علی گڑھ کے نام‘‘ میں جہاں شرکت و برکت کا یہ درس دیا کہ؎
آتی تھی کوہ سے صدا رازِ حیات ہے سکوں
کہتا تھا مورِ ناتواں لطف ِ خرام اور ہے
وہیں خوشحال خاں کی بیٹے کو نصیحت ’’مَیں یہ باور کرایا کہ؎
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
درویش کو پہناتی ہے تاجِ سرِ دارا
اقبال کو معتوب کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ انہوں نے ’ریاض الجنہ‘ کو سب سے اچھا نہیں کہا حالانکہ وہ اس کی مذہبی فضیلت سے واقف تھے اور اس پر ایمان رکھتے تھے۔ اسی طرح بقول گیان چند جین ہندو دیوی دیوتاؤں اور مذہبی شخصیتوں کا سب سے زیادہ ذکر انہوں نے ہی کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قبائلی زندگی پر گاندھی اور نہرو کی فکرمندی
ابوالکلام آزاد (۱۸۸۸ء) انسائیکلو پیڈیائی علم کے مالک، ہندوستان کی قومی تعلیمی پالیسی کے بنیاد گزار، مفسر قرآن، مجاہد آزادی، صحافی اور صاحب اسلوب نثر نگار تھے۔ وہ تقسیم ہند کے مخالف تھے اور ہمیشہ مخالف رہے۔ مسلمانوں کے ایک طبقے نے ان کو معتوب کیا مگر غیر مسلم طبقے نے بھی ان کو وہ درجہ کبھی نہیں دیا جس کے وہ مستحق تھے۔ اقبال پر ایسے الزامات عائد کئے گئے جن کا سچائی سے کوئی واسطہ نہیں ہے تو آزاد کو بھی اس طرح نظرانداز کیا جاتا رہا جیسے وہ کچھ ہیں ہی نہیں حالانکہ ارادے میں کوہ استقامت اور مستقبل بیں کسی کو کہا جاسکتا ہے تو وہ مولانا آزاد ہی کو کہا جاسکتا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قیام ِ پاکستان کا نعرہ لگانے والوں یا اس مطالبے سے ہمدردی رکھنے والوں میں وہ بھی ہیں جو چاہتے ہیں کہ پاکستان دے کر مسلمانوں کی قربانیوں پر پانی پھیرا جائے اور پھر فوجی طاقت سے چھین لیا جائے۔ مولانا آزاد پر اس پاکستان میں کچھ اچھی کتابیں شائع ہوئی ہیں جس کے قیام کے وہ مخالف تھے مگر ہندوستان میں ان کو مذہبی اور مسلکی تعصب سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ جو چند کتابیں یہاں لکھی گئی ہیں ان میں کچھ اچھی باتیں ضرور ہیں مگر وہ مولانا آزاد کی ہمہ جہت شخصیت کا تعارف نہیں کراتیں۔ اُردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں تو وہ بھی نہیں ہیں۔
پنڈت جواہر لعل نہرو (۱۸۸۹) اور سردار ولبھ بھائی پٹیل آپس میں رفیق رہے ہوں یا رقیب مگر دونوں کا تعلق ایک ہی ملک اور ایک ہی جماعت سے تھا۔ ہندوستانیت کے پاسدار دونوں ہی تھے اور ہمارے لئے قابلِ احترام بھی دونوں ہی ہیں کہ نہرو جی سے اختلاف کے باوجود سردار پٹیل ویسے نہیں تھے جیسا انہیں پیش کیا جاتا ہے۔ مَیں انہیں اکثریتی فرقے کا جناح بھی نہیں مانتا۔ جدید ہندوستان کے معمار پنڈت نہرو کو گاندھی جی نے وزیراعظم بنوایا کیونکہ نہرو زیادہ وسیع النظر اور وسیع القلب تھے اور اس حیثیت سے انہوں نے ہندوستان کی رہنمائی بھی اچھی کی اور ہندوستانیت کی ترجمانی بھی۔ سردار پٹیل کو فرقہ پرست لیڈروں کے زمرے میں رکھنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے دیسی ریاستوں کو مرکز میں شامل کرکے بڑا کام کیا تھا۔ مسز اندرا گاندھی نے راجے رجواڑوںکے ’’جیب ِ خاص‘‘ کا خاتمہ کرکے سردار پٹیل کے ہی مشن کو آگے بڑھایا۔ سویم سیوک سنگھ سے متعلق ان کے نظریات اور اس کے خلاف ان کے اقدامات بھی ان کے اس ہندوستانیت میں یقین کی شہادت دیتے ہیں سنگھ جس میں یقین نہیں رکھتا۔
علامہ شبلی کا دور الگ ہے۔ انہوں نے آزادی کا سورج طلاع ہوتے نہیں دیکھا مگر آزادی کا سورج طلوع ہوتے دیکھنا ان کی تمنّا تھی۔ ان کی پیدائش ۱۸۵۷ء میں اور انتقال ۱۹۱۴ء میں ہوا۔ ابتدائی عمر میں ہی انہیں محسوس ہوا کہ ملک کی حکومت و دولت پر قبضہ کرنے کے بعد انگریز ہندوستانیوں کے ذہنوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو انہوں نے قوم، ادبیات اور افراد کی تاریخ لکھنا شروع کر دیا۔ وہ بیک وقت سیرت نگار، تذکرہ نگار، مورخ، شاعر اور انشاء پرداز تھے۔ سر سیّد احمد خاں سے ۱۶؍ سال کی رفاقت کے بعد انہوں نے علاحدگی بھی اسی لئے اختیار کی کہ وہ تحریک آزادی کے ہمنوا تھے اور سر سیّد احمد خاں کا ایجنڈا تھا کہ مسلمان پہلے تعلیم حاصل کریں، بعد میں وہ چاہے جو کریں۔ سر سیّد احمد خاں کی بعض تحریروں سے مسلمانوں کی بدحالی کا درد چھلکتا ہے جس کو وہ دور کرنا چاہتے تھے جبکہ علامہ شبلی ایک ایسی نسل تیار کرنا چاہتے تھے جو اپنے مستقبل کو تو پہچانے ماضی سے رشتہ نہ توڑے اسی لئے ان کی تحریروں میں تاریخی شعور اسی طرح گردش کرتا ہے جس طرح انسانی جسم میں خون۔ دونوں کے مذہبی خیالات کو امت مسلمہ نے پسند نہیں کیا مگر دونوں کی عزت افزائی کی۔ سر سیّد کی ’’نیچریت ‘‘ کی مخالفت ہوئی مگر ان کے کارنامے کو سب نے سراہا، اکبر تک نے کہا کہ ’’سید کام کرتا تھا۔‘‘ آج کے دور میں بعض لوگ سر سیّد کہلانے کے متمنی ہیں مگر ان کی خواہش و کوشش کارگر نہیں ہو رہی ہے۔ شاید اس لئے کہ سر سیّد بننے کے لئے جس خلوص کی ضرورت ہے اس کی ان میں کمی ہے۔