Updated: November 06, 2026, 5:04 PM IST
| Mumbai
زوماٹو اور ایٹرنل کے بانی دپیندر گوئل نے اپنے نئے پہننے والے صحت اور فٹنس ٹریکر آلے ’’ٹیمپل‘‘ پر ڈاکٹروں کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات اور تنقید کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ کوئی طبی یا تشخیصی آلہ نہیں، بلکہ فٹنس اور صحت و تندرستی کی نگرانی کرنے والا ایک ویئرایبل ڈیوائس ہے۔
زوماٹو اور ایٹرنل کے بانی دپیندر گوئل نے اپنے نئے پہننے والے صحت اور فٹنس ٹریکر آلے ’’ٹیمپل‘‘ پر ڈاکٹروں کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات اور تنقید کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ کوئی طبی یا تشخیصی آلہ نہیں، بلکہ فٹنس اور صحت و تندرستی کی نگرانی کرنے والا ایک ویئرایبل ڈیوائس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیمپل کو کسی بیماری کی تشخیص یا طبی علاج کے لیے تیار نہیں کیا گیا، اس لیے اسے میڈیکل ڈیوائس کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔گوئل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہندوستانی ڈاکٹروں کے نام ایک تفصیلی پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیمپل کی تیاری پر اب تک تقریباً ۳ کروڑ ڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں، جن میں سے ۲؍کروڑ ڈالر ان کی ذاتی سرمایہ کاری ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ محض منافع کمانے کے لیے شروع نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑا مقصد اور تحقیق کا جذبہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ آلہ دھوکہ دہی پر مبنی ہوتا یا اس کے دعوے درست نہ ہوتے تو صارفین چند ہی دنوں میں اس کی خامیوں کو محسوس کرلیتے۔ کمپنی کی جانب سے ۱۴؍ دن کی ایسی واپسی کی سہولت بھی دی جارہی ہے جس کے تحت صارفین بغیر کوئی وجہ بتائے آلہ واپس کرسکتے ہیں۔
دپیندر گوئل نے سائنسی تحقیق کے حوالے سے کہا کہ بیشتر ویئرایبل کمپنیوں نے بھی ابتدا میں اپنے آلات کو اندرونی مطالعات کی بنیاد پر بازار میں پیش کیا تھا اور ان کی سائنسی توثیق سے متعلق تحقیقی مقالے بعد میں شائع ہوئے۔ انہوں نے فٹنس ٹریکر کمپنی ’وُوپ‘ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ۲۰۱۵ء میں اپنا بینڈ متعارف کروایا تھا، جب کہ اس کی توثیق سے متعلق پہلا شائع شدہ مطالعہ کئی سال بعد سامنے آیا۔ گوئل کے مطابق ٹیمپل کے حوالے سے بھی ابتدائی تحقیقی نتائج اور پری پرنٹس جلد پیش کیے جائیں گے، جب کہ وقت کے ساتھ آزادانہ مطالعات کے ذریعے اس کے دعوؤں کی جانچ بھی ہوسکے گی۔
یہ بھی پڑھئے:ایران میں ٹرمپ کی فرضی پھانسی کا منظر، امریکی و اسرائیلی لیڈرز کا بینر نذرِ آتش
ٹیمپل ایک چھوٹا، گولی نما پہننے والا آلہ ہے جسے سر کے کنپٹی والے حصے کے قریب لگایا جاتا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس میں موجود روشنی پر مبنی سینسرز جسمانی اور دماغی خون کی روانی سے متعلق تبدیلیوں کے اشاروں کی نگرانی کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ اس میں ’برین فلو‘ (BrainFlow) نامی پیمانہ بھی شامل ہے، جس کے ذریعے دماغ میں خون کی گردش سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ’اینٹروپی‘ (Entropy) نامی پیمانہ جسم پر پڑنے والے جسمانی دباؤ اور جسم کو اپنی سرگرمیاں برقرار رکھنے کے لیے درکار کوششوں کا اندازہ پیش کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ گوئل کے مطابق نیند، ورزش، ذہنی دباؤ، غذا، کیفین اور مراقبہ جیسی سرگرمیاں اس پیمانے پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
ٹیمپل کے دعوؤں پر کئی طبی ماہرین نے سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ سر کے ایک مخصوص حصے پر لگائے گئے سینسر سے حاصل ہونے والے اشاروں کی بنیاد پر پورے دماغ میں خون کی روانی کی درست پیمائش کس طرح ممکن ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کسی جسمانی سرگرمی کے دوران سینسر کی ریڈنگ میں تبدیلی آنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ آلہ دماغ میں خون کی گردش کو براہ راست اور درست طور پر ناپ رہا ہے۔ ان کے مطابق کسی نئے حیاتیاتی پیمانے کو قابلِ اعتماد قرار دینے کے لیے اس کی واضح سائنسی بنیاد، طریقۂ کار، آزادانہ تحقیق اور طبی اعتبار سے توثیق ضروری ہے۔
ماہرین نے گوئل کے ’گریویٹی ایجنگ ہائپوتھیسس‘ (Gravity Ageing Hypothesis) پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ اس مفروضے کے مطابق طویل عرصے تک کششِ ثقل کے زیر اثر سیدھا کھڑے رہنے سے دماغ تک خون کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے اور عمر بڑھنے کے عمل میں اس کا کردار ہوسکتا ہے۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ میں خون کی روانی کو متوازن رکھنے کا ایک قدرتی نظام موجود ہے، اس لیے اس مفروضے اور اس سے اخذ کیے جانے والے نتائج کو مضبوط سائنسی شواہد کے بغیر تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھئے:رچا چڈھا نے ’’مسافری‘‘ کے ٹائٹل ٹریک کیلئے اسنیہا کھانولکر سے ہاتھ ملایا
جگر کے امراض کے ماہر ڈاکٹر سائریک ایبی فلپس، جو سوشل میڈیا پر ’دی لیور ڈاک‘ کے نام سے معروف ہیں، ٹیمپل کے سخت ناقدین میں شامل ہیں۔ انہوں نے گوئل کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا کہ ٹیمپل محض فٹنس ٹریکر ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی آلے کی تشہیر دماغ میں خون کی روانی کی پیمائش کے دعوے کے ساتھ کی جاتی ہے تو پھر اس دعوے کی سائنسی بنیاد اور درستگی کے شواہد پیش کرنا ضروری ہے۔ دیگر ماہرین نے بھی کہا ہے کہ کسی آلے پر بھاری سرمایہ کاری یا رقم واپسی کی سہولت اس کی سائنسی درستگی کا ثبوت نہیں ہوسکتی۔
ٹیمپل کے پری آرڈر ہندوستان میں یکم نومبر سے شروع ہوچکے ہیں اور اس کی قیمت تقریباً ۸۵ ؍ہزار روپے رکھی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق آرڈر دینے کے بعد آلے کی فراہمی میں تقریباً تین ماہ لگ سکتے ہیں۔ دپیندر گوئل نے کہا ہے کہ وہ اپنے سائنسی طریقۂ کار پر اعتماد رکھتے ہیں اور آنے والے وقت میں مزید تحقیق کے ذریعے اس کی صلاحیتوں کو جانچا جاسکے گا۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ٹیمپل کی کچھ اہم خصوصیات ابھی عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی ہیں۔فی الحال ٹیمپل کو لے کر ٹیکنالوجی اور طبی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ ایک طرف گوئل اسے صحت اور فٹنس کی نگرانی کے شعبے میں ایک نئی پیش رفت قرار دے رہے ہیں، تو دوسری طرف ڈاکٹر اس کے بنیادی سائنسی دعوؤں کی آزادانہ اور قابلِ اعتماد توثیق کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اس لیے اس آلے کی اصل افادیت اور اس کے دعوؤں کی درستگی کا فیصلہ آئندہ تحقیقی نتائج اور آزادانہ سائنسی مطالعات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔