ستیج بنٹی پاٹل کی ممبئی میں پریس کانفرنس، راہل گاندھی نےکہا کہ ڈیری فارمر کے ووٹ چرانے والوں یادرکھو کہ کسان ناانصافی کبھی نہیں بھولتا، پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ بورڈ کی تشکیل میں ہیراپھیری کی گئی۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 4:24 PM IST | Inquilab News Network/Agency | Mumbai
ستیج بنٹی پاٹل کی ممبئی میں پریس کانفرنس، راہل گاندھی نےکہا کہ ڈیری فارمر کے ووٹ چرانے والوں یادرکھو کہ کسان ناانصافی کبھی نہیں بھولتا، پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ بورڈ کی تشکیل میں ہیراپھیری کی گئی۔
مغربی مہاراشٹر کی سب سے بڑی دودھ کی تنظیم گوکل دودھ یونین (کولہاپور ضلع سہکاری دودھ اُتپکادک سنگھ) کے چیئرمین کے انتخاب کے معاملے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ کانگریس کے قانون ساز کونسل میں گروپ لیڈر ستیج (بنٹی) پاٹل نے اس معاملے پر جمعرات کو ممبئی میں اہم پریس کانفرنس کی ہے۔
گاندھی بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ستیج پاٹل نےکہا ’’میں یہاں آتے وقت گوکل کے گلاب جامن اور شری کھنڈ لانے والا تھا، اب گوکل کے نام سے ملنے والی ان مٹھائیوں کو آخری بار دیکھ لیجیے، کیونکہ کل سے ان پر امول کا لیبل لگا کر گوکل کو ہڑپ کرنے کی کوششیں شروع ہو جائیں گی۔ ریاستی حکومت نے گوکل پر قبضے کیلئے نیا قانون بنایا ہے۔ یہ قانون صرف گوکل کا اقتدار حاصل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ فی الحال یہ قانون گوکل تک محدود رہے گا، لیکن کل اسے کسی بھی دوسرے ادارے پر بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ’’ بی جے پی حکومت کو آپریٹیو شعبے میں ایک غلط روایت قائم کر رہی ہے۔ یہ قانون ماضی سے نافذ العمل ہوگا۔ انتخابات مکمل ہونے کے بعد قانون بنا کر اسے سابقہ تاریخ سے نافذ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کولہاپور کے عوام نے جو فیصلہ دیا ہے، حکومت اسے مسترد کر رہی ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ کولہاپور کے عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ ہم اس کے خلاف سڑکوں پر اتر کر جدوجہد کریں گے اور عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔‘‘ ستیج پاٹل یہ بھی کہا کہ’’۹؍ نومبر کو کولہاپور میں دسہرہ چوک سے ضلع کلکٹر کے دفتر تک ایک عظیم الشان احتجاجی مارچ نکالا جائے گا۔ گوکل سے ساڑھے ۵؍ لاکھ کسانوں کے خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔ کسانوں کی محنت کے عوض ہر۱۰؍ دن میں۱۰۰؍ کروڑ روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ روزانہ۲۰؍ لاکھ لیٹر دودھ جمع کیا جاتا ہے۔ گوکل کسانوں کی ملکیت ہے، لیکن بی جے پی حکومت کسانوں کے فیصلے کو نظرانداز کر رہی ہے۔ ستیج پاٹل نے یہ بھی کہا کہ یہ قانون بنانے کے پیچھے وزیر حسن مشرف اور چندرکانت پاٹل کا کردار ہے
خیال رہے کہ تازہ ترین پیش رفت میں مہاراشٹر حکومت کی کابینہ نے بڑے کوآپریٹیو اداروں میں حکومت کی جانب سے ڈائریکٹروں کی نامزدگی کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد گوکل دودھ یونین میں اقتدار کی مساوات پر تنازع مزید گہرا ہوگیا ہے۔ کانگریس نے اسے منتخب بورڈ کی اکثریت کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ حکمراں مہایوتی اس اقدام کا دفاع کر رہی ہے۔کانگریس لیڈر ستیج (بنٹی) پاٹل کی قیادت والے پینل کی جیت کے باوجود چیئرمین کا انتخاب تنازعات میں پھنس گیا ہے۔ ریاستی حکومت کے نئے فیصلے نے اس سیاسی لڑائی کو مزید تیز کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: متنازع بیان پر دھریندرشاستری کیخلا ف فوجداری کا معاملہ درج
۱۳-۱۲؍کی اکثریت سے شروع ہوا تنازع
۱۹؍اکتوبر کوگوکل دودھ یونین کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے انتخابات میں ستیج پاٹل کی قیادت والے راجرشی شاہو شیتکری ہم خیال اتحاد کے پینل نے۲۵؍ میں سے۱۳؍ نشستیں جیت کر اکثریت حاصل کی۔ وہیں مہایوتی کے حمایت یافتہ پینل کو۱۲؍ نشستیں ملیں۔ ۲۹؍ اکتوبر کو چیئرمین کے انتخاب کے لیے اجلاس طلب کیا گیا تھا، لیکن مہایوتی کے حمایت یافتہ۱۲؍ ڈائریکٹرز اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ چیئرمین کے انتخاب کیلئے ۱۴؍ ڈائریکٹرز کی موجودگی ضروری ہونے کے باعث اجلاس ملتوی کردیا گیا۔اس کے بعد ستیج پاٹل کے حامی۱۳؍ ڈائریکٹرز نے ششی کانت پاٹل چُویکر کو چیئرمین منتخب قرار دے دیا۔ تاہم، اس انتخاب کو انتظامیہ کی منظوری نہیں ملی اور معاملہ بامبے ہائی کورٹ پہنچ گیا۔ ستیج پاٹل کے حامی ڈائریکٹرز نے چیئرمین کے انتخاب کے اجلاس کو ملتوی کرنے کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ عدالت نے۱۰؍ نومبر کو چیئرمین کے انتخاب کیلئے نیا اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت دی ہے۔
یہ ڈیری فارمرز کے ووٹوں کی چوری: راہل گاندھی
گوکل کے تنازع پر لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے فرنویس حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے ، انہوں نے پون کھیڑا کی ایکس پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’گوکل میں دودھ کی پیداوار کرنے والوں نے بی جے پی کو شکست دے دی تو بی جے پی نے انتخابات کے بعد قوانین ہی بدل دئیے۔۴؍ ڈائریکٹر زبردستی شامل کرو،۱۲؍ کی تعداد بڑھا کر ۱۶؍کرو اور اکثریت چھین لو۔ یہ دودھ کسانوں کے ووٹوں کی چوری ہے، عوامی مینڈیٹ میں ملاوٹ ہے۔ بی جے پی اس قدر مایوس ہو چکی ہے کہ ہر جگہ اقتدار بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ڈیری فارمر کے ووٹ چرانے والوں یاد رکھو، کسان کبھی نہیں بھولتا!‘‘
مینڈیٹ کی پامالی کیخلاف سپریم کورٹ جائینگے: کھیڑا
کانگریس لیڈر اور رکن پارلیمان پون کھیڑا نےگوکل ملک فیڈریشن کے انتخابات اور انتظامی تبدیلیوں کے حوالے سے ایکس پر لکھا کہ ’’مہاراشٹر حکومت گوکل ملک فیڈریشن میں ڈیر فارمر کے جمہوری مینڈیٹ کو کھلے عام پامال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے منتخب بورڈ کی تشکیل میں ہیرا پھیری کرنے کے لیے قانون میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔۱۹؍ اکتوبر کو ہوئے انتخابات میں کانگریس کی قیادت والے پینل نے۲۵؍ میں سے ۱۳؍ نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ مہایوتی کو۱۲؍ نشستیں ملیں۔ اس طرح کانگریس پینل نے واضح اکثریت حاصل کی۔ مہایوتی کے حمایت یافتہ ڈائریکٹروں کی غیر حاضری کے باعث چیئرمین کے انتخاب میں رکاوٹ پیدا ہونے کے بعد، بامبے ہائی کورٹ نے۱۰؍ نومبر کو دوبارہ انتخابات کرانے کی ہدایت دی۔لیکن منتخب بورڈ کو کام کرنے دینے کے بجائے، ریاستی کابینہ نے ووٹنگ کے حق کیساتھ حکومت کے چار ڈائریکٹروں کو نامزد کرنے کی تجویز منظور کر لی ہے۔ اس سے انتخابی نتیجہ تبدیل ہونے اور دودھ پیدا کرنے والوں کے مینڈیٹ کو پلٹ دینے کا خدشہ ہے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی حکومت محض انتخابی نتائج پسند نہ آنے پر انتخابات کے بعد قوانین تبدیل کر سکتی ہے؟ ہم جمہوری مینڈیٹ کے تحفظ اور کوآپریٹو اداروں کی خودمختاری برقرار رکھنے کیلئے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رہے ہیں۔‘‘
کابینہ میں منظور نئی تجویز کیا ہے؟
۴؍ نومبر کو مہاراشٹر کابینہ نے ۵۰۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ سالانہ کاروبار کرنے والے کوآپریٹیو اداروں میں حکومت کی جانب سے پانچ نامزد ڈائریکٹرز کی تقرری کی اجازت دینے والی تجویز کو منظوری دی۔ اس میں چار ڈائریکٹرز کو ووٹنگ کا حق دینے کی تجویز ہے، جبکہ پانچواں افسر ووٹ نہیں دے سکے گا۔گوکل دودھ یونین کا سالانہ کاروبار تقریباً۴؍ہزارکروڑ روپے ہونے کے باعث یہ فیصلہ اسکے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے انتخابی مساوات کو متاثر کر سکتا ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ انتخابات میں اسے اکثریت ملنے کے باوجود اسکے پینل کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مہایوتی کے مطابق کوآپریٹیو اداروں میں قوانین کے مطابق ہی فیصلے کیے جانے چاہئیں۔