دو دِن میں دو بہت اہم میٹنگیں ہوئی ہیں۔ منگل، ۲۹؍ ستمبر کو سی ڈبلیو سی کی میٹنگ اور بدھ، ۳۰؍ ستمبر کو انڈیا اتحاد کی میٹنگ۔ان میٹنگوں میں جو تبادلۂ خیال ہوا اَور جو فیصلے کئے گئے، اُن سے یہ اُمید مستحکم ہوئی ہے کہ مزاحمت کے ذریعہ وہ بازی جیتی جاسکتی ہے جس کا سیاست کے ذریعہ جیتا جانا مشکل ہے۔
دو دِن میں دو بہت اہم میٹنگیں ہوئی ہیں۔ منگل، ۲۹؍ ستمبر کو سی ڈبلیو سی کی میٹنگ اور بدھ، ۳۰؍ ستمبر کو انڈیا اتحاد کی میٹنگ۔ان میٹنگوں میں جو تبادلۂ خیال ہوا اَور جو فیصلے کئے گئے، اُن سے یہ اُمید مستحکم ہوئی ہے کہ مزاحمت کے ذریعہ وہ بازی جیتی جاسکتی ہے جس کا سیاست کے ذریعہ جیتا جانا مشکل ہے۔ ان دو میٹنگوں سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ کانگریس، انڈیا اتحاد کی قیادت بھی کررہی ہے اور قیادت کا حق بھی ادا کررہی ہے۔ وہ اتحادیوں سے زیادہ فعال اور سرگرم ہے اور بروقت فیصلوں کے ذریعہ اپنی برتری کو ہر سوال سے اوپر رکھنا چاہتی ہے۔
جس وقت سی ڈبلیو سی میٹنگ کا اعلان ہوا تھا، یہ سوال ذہن میں اُبھر رہا تھا کہ جب ۳۰؍ ستمبر کو انڈیا اتحاد کی میٹنگ ہونی ہی ہے تب ۲۹؍ ستمبر کو سی ڈبلیو سی کا کیا جوازیا سبب ہے یا اس کی کیا ضرورت ہے۔ مگر میٹنگ کے خاتمے پر جب کے سی وینوگوپال نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا تو واضح ہوگیا کہ کانگریس نے اگلے دن کی انڈیا اتحاد کی میٹنگ کا خاکہ تیار کردیا اور اشارے کنائے میں اتحادیوں کو سمجھا دیا کہ یہ ہے کانگریس کا ایجنڈا، اگر آپ اس سے متفق ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ کانگریس اس ایجنڈے پر اپنا آگے کا سفر طے کرنے کا مصمم ارادہ رکھتی ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ دوسرے دن کی وسیع میٹنگ شروع ہوئی تو اس کے سامنے ایجنڈا پہلے سے موجود تھا۔ کسی حلیف پارٹی کو کچھ کہنے کا زیادہ موقع بھی نہیں تھا کیونکہ الیکشن کمیشن کے خلاف سب سے زیادہ محنت، ہوم ورک اور گراؤنڈ ورک تو کانگریس (راہل گاندھی اینڈ ٹیم) نے کیا تھا۔ اس طرح حلیف پارٹیوں نے جس شخص یا لیڈر کو لوک سبھا میں اپوزیشن کا قائد مانا تھا اُسے ایوان کے باہر بھی قائد مان لیا کیونکہ اب وہ دن نہیں رہے جب اتحادی پارٹیاں تیور دکھاتی تھیں اور کانگریس کو سہم جانا پڑتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:اک حافظہ ہے جو کمزور ہوتا جاتا ہے
سی ڈبلیو سی اس اعتبار سے مقصد میں کامیاب رہی۔ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں جو ہوا وہ فی الحال ظاہر نہیں ہے۔ دھیرے دھیرے مختلف ذریعوں سے باتیں یا ویڈیوز سامنے آئیں گے مگر پریس کانفرنس میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نےالیکشن کمیشن کے خلاف چھ نکاتی لائحہ عمل پیش کیا جو پہلے دن کے اجمال کی تفصیل تھی کہ اتحاد کس طرح آگے بڑھے گا۔ اس پریس کانفرنس سے واضح ہوا کہ کانگریس نے اتحادیوں کو پہلے ہی سے اعتماد میں لے رکھا تھا۔ یہ بھی واضح ہوا کہ الیکشن کمیشن کے خلاف پورے ملک میں مزاحمت کیلئے سب کو ساتھ آنے کی ضرورت ہر پارٹی محسوس کررہی ہے۔ اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے کانگریس یہ محسوس کررہی ہے کہ الیکشن کمیشن کو چاروں طرف سے گھیرنا ضروری ہے اور جتنی جلد ممکن ہو گیانیش کمار کا استعفےٰ ہوجانا چاہئے ورنہ دیر ہوئی تو یہ جوش سرد پڑسکتا ہے۔ ہمارے خیال میں کانگریس اور سماج وادی پارٹی چاہتے ہیں کہ یوپی الیکشن بہار اور مغربی بنگال کی طرز پر نہیں ہونا چاہئے، اس کیلئے جتنا بھی زور لگایا جاسکتا ہے، لگایا جائے۔
ممتا بنرجی کی شمولیت سے اُمید بندھتی ہے کہ وہ اُن پارٹیوں کو بھی اس عنوان پر ساتھ لے آئیں گی جو انڈیا اتحاد کا حصہ نہیں ہیں۔ ویسے، اس میٹنگ میں ممتا کی تقریر بہت زوردار تھی۔ اُن کے عزائم سے اتحاد کو یقینی فائدہ ہوگا۔