اجتماعی حافظہ قومی اور تہذیبی زندگی کے بڑے سیاق میں تشکیل پاتا ہے۔ انفرادی حافظے کو اجتماعی حافظے سے کوئی خطرہ نہیں ہے اور یہی بات اجتماعی حافظے کے سلسلے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ حافظے کی یہ دونوں صورتیں اپنے اپنے طور پر وجود میں آتی ہیں اور اپنا عمل جاری رکھتی ہیں۔
حافظہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کا ایک خاموش عمل ہے۔ کسی فرد کی زندگی میں کسی واقعے کا مرکزیت اختیار کر لینا انفرادی حافظے کو راہ دیتا ہے۔ اجتماعی حافظہ قومی اور تہذیبی زندگی کے بڑے سیاق میں تشکیل پاتا ہے۔ انفرادی حافظے کو اجتماعی حافظے سے کوئی خطرہ نہیں ہے اور یہی بات اجتماعی حافظے کے سلسلے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔
حافظے کی یہ دونوں صورتیں اپنے اپنے طور پر وجود میں آتی ہیں اور اپنا عمل جاری رکھتی ہیں۔ اجتماعی زندگی سے وابستہ کوئی حادثہ یا واقعہ کسی حساس شخص کیلئے انفرادی تجربہ بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اجتماعی زندگی سے وابستہ کوئی واقعہ کسی کے لئے انفرادی حافظہ بن جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ گزرے ہوئے لمحات کس طرح ہمیں یاد آتے ہیں اور ان لمحات کے ساتھ ہمارے رشتے کی نوعیت کیسی ہوتی ہے۔ ماضی کا کوئی واقعہ حال کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ یہ واقعہ انفرادی حافظے کا حصہ بھی ہو سکتا ہے اور اجتماعی حافظے کا بھی۔ حافظے کو خطرہ حافظے سے نہیں بلکہ وقت سے ہے۔
یہ بھی پڑھئے:صغیرہ گناہوں سے بچئے جوکبیرہ گناہوں تک پہنچا دیتے ہیں!
لفظ ’’وقت‘‘ اپنے وقت کے ساتھ ہر زمانے میں ایک طرح فعال رہتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وقت کی فعالیت کیوں کر اور کس طرح الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب ایک ہی وقت میں افراد اور قوموں کا مختلف حالات سے گزرنا ہے۔ حالات تہذیبی زندگی میں یکساں بھی ہوتے ہیں پھر بھی حالات کی یکسانیت ان حالات پر پردہ نہیں ڈال سکتی جن کا ظاہر اور باطن کٹا پھٹا سا ہے۔ کٹے پھٹے ہوئے حالات کا رشتہ کٹی پھٹی زندگی سے ہے جسے اجتماعی زندگی کا نام دینا چاہئے۔ وہ زندگی جو بہت توانا اور آسودہ ہے اس کے لئے حافظے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ حافظہ کمزور افراد اور معاشرے کا مسئلہ ہے اور مقدر بھی۔ حافظہ بھی اپنی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے۔ تاریخ لکھنے والوں کے نزدیک حقائق اور ثبوتوں کی اہمیت ہے انہیں حافظے کے بیانیہ سے بہت کم سروکار ہوتا ہے۔
انفرادی حافظہ دوسروں کے لئے غیر اہم سمجھا جاتا ہے لیکن جب اسے کوئی تحریر کرتا ہے تو پھر اس میں اجتماعیت کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں۔ جو حافظہ اجتماعی زندگی سے تحریک پا کر وجود میں آیا ہے، مشکل وقت تو اس پر بھی آتا ہے۔ سیاسی زندگی کہنے کو تو اجتماعی زندگی سے وابستہ ہوتی ہے لیکن حافظہ اس کے لئے دھیرے دھیرے ایک غیر اہم شے بن گئی۔
کبھی سیاست میں سیاسی اختلافات کے باوجود ان شخصیات کی باتوں کو یاد کیا جاتا تھا جن کے یہاں ملک اور قوم کے لئے بڑی فکر مندی تھی۔ اب صورتحال بالکل تبدیل ہو گئی ہے۔ یوں تو یہ بات عالمی تناظر میں کہی گئی کہ سیاست جس چیز کو بھی اپنے ہاتھ میں لیتی ہے اسے اس کے حال پر رہنے نہیں دیتی۔ اس کا مطلب اور کچھ نہیں کہ سیاست اپنی ضرورت کے مطابق تاریخ اور تہذیب کا تجزیہ کرتی ہے۔ وہ بہت سے تاریخی اور تہذیبی اقوال کو اس کے بنیادی سیاق سے کاٹ کر ایسے مفاہیم پیدا کرتی ہے جن سے سیاست کو فوری طور پر فائدہ پہنچ سکے۔ سب سے بڑا خطرہ حافظے کو وقت سے ہے اور وقت کو سیاست کا نام دیتے ہوئے کتنا عجیب لگتا ہے۔ مگر کیا کیا جائے کتنی عجیب باتوں کے درمیان ہم زندگی گزار رہے ہیں اور پھر بھی یہ سوچتے ہیں کہ حافظہ بحال ہو جائے گا۔
کہا جاتا ہے کہ حافظہ کے ذریعہ زمانے کے سرد و گرم کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ حافظہ ذہنی طور پر ایک محفوظ علاقہ ہے جو قوموں کی تقدیر بدل نہیں سکتا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو قوم اپنا اجتماعی حافظہ کھو دیتی ہے وہ بے چہرہ ہو جاتی ہے۔ ان تمام باتوں میں جزوی صداقت ہو سکتی ہے۔ جزوی کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا ہے تاکہ ان خیالات کو نئی صورتحال کی روشنی میں دیکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: حالات بدل رہے ہیں، مزید بدلیں گے!
حافظہ تہذیبی سطح پر ہمیں اس طرح روکتا اور ٹوکتا ہے کہ احساس بھی نہیں ہوتا۔ ہم داخلی طور پر حافظے کے ساتھ ہوتے ہیں اور ایک نئی صورتحال نئے سرے سے ہماری تہذیبی زندگی کو بنانا چاہتی ہے۔ عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ حافظہ ان لوگوں کا ضائع ہو جاتا ہے جنہیں نئی صورتحال میں خود کو اہم اور بامعنی ثابت کرنا ہے۔ یہ جذبہ بہت اچھا ہے مگر معنویت کی تلاش میں ایک لایعنیت بھی ہم سفر ہو جاتی ہے۔ کنڑ زبان کے شاعر ڈی پی ایس راماننج کی نظموں کا مجموعہ ’’ ندی کے ساتھ بہتے ہوئے‘‘ ناگری میں شائع ہوا ہے۔ ترجمہ نگار ڈاکٹر ٹی آر بھٹ ہیں۔ مجموعے میں ایک نظم ’’جڑیں‘‘ ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے حافظہ کا خیال آتا ہے، چند مصرعے دیکھئے:
میں جڑی تھی/ اکیلی تھی
انیکوں میں ایک ہو گئی تھی
اب میں ایسی نہیں ہوں/ ایسا لگ رہا ہے کہ
ادھر ادھر پھیل رہی ہے/ آندھی، وہ نگوڑی آندھی
چل رہی ہے مجھے گرانے/ دھوپ، وہ کڑی دھوپ
انتظار میں ہے مجھے سکھانے/ لیکن
میری پرانی جڑیں/ تجربے سے گہری
بڑی مضبوط جڑیں / سہارا دے کر
کھڑا رکھیں گی مجھے/ میں نہ گرتی
نہ سوکھتی ہی / دشا دشا میں پھیل کر
کھڑی ہوتی ہوں سدا
اس میں شک نہیں !
وقت حافظے کو کمزور کر دیتا ہے اور کبھی وقت حافظے کو قوت بھی عطا کرتا ہے۔ ان دونوں باتوں کا تعلق شخص سے بھی ہے اور صورتحال سے بھی۔ حافظے کو ذہن سے کھرچ کر نکالا تو جا سکتا ہے لیکن حافظہ سائے کی طرح پیچھا کرتا رہتا ہے۔ وہ اس وقت کا انتظار کرتا ہے جب حافظے سے محروم شخص کو یہ احساس ہو جائے کہ تمام فتوحات کے باوجود اس نے کچھ گنوایا بھی ہے۔ حافظہ اس وقت اس پھول کی طرح ہے جسے ہر طرف سے کانٹوں نے گھیر رکھا ہے۔ کانٹے پھولوں کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ بقول کلیم عاجز ؔ
ہر حال میں اپنی روش خاص رہے گی
کانٹا بھی بنیں گے تو گلابوں میں ملیں گے