• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈجیٹل ڈیٹاکس کیوں ضروری ہے اور کیسے اپنائیں؟

Updated: October 01, 2026, 4:34 PM IST | Sehar Asad | Banaras

ہمیں ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا چاہئے نہ کہ وہ ہمیں۔ کبھی خود سے جڑنے کیلئے دنیا سے تھوڑا دور ہونا پڑتا ہے اور یہی دوری ہمیں خود سے قریب لاتی ہے۔

It has now become the norm for mobile phones to be replaced within minutes or hours of acquiring them. Is this right? Photo: INN
اب یہ معمول ہوگیا ہے کہ موبائل فون ہاتھ میں آتے ہی منٹوں گھنٹوں میں بدل جاتے ہیں۔ کیا یہ ٹھیک ہے؟۔ تصویر: آئی این این

ڈجیٹل ڈیٹاکس کا مطلب ٹیکنالوجی کو یکسر ترک کر دینا نہیں ہے بلکہ اس کیساتھ ایک متوازن تعلق قائم رکھنا ہے۔ دیگر لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ڈجیٹل ڈیٹاکس ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان کچھ وقت کیلئے اپنے تمام ڈجیٹل آلات بشمول موبائل، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ وغیرہ سے دوری اختیار کرتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی، اپنے گھر والوں اور سب سے بڑھ کر اپنے آپ سے جڑ سکے۔ 

ڈجیٹل ڈیٹاکس کیوں ضروری ہے؟

ذہنی دباؤ کم ہونا: ہمہ وقت سوشل میڈیا پر اسکرولنگ اور دوسروں کی پوسٹ دیکھ کرلوگوں کے اندر احساس کمتری بڑھتا جارہا ہے، نامناسب تبصروں سے ذہنی اذیت ہوتی ہے اور ڈپریشن بڑھتا ہے۔ اسکرین ٹائم کم کرنے اور صرف ضرورت کے وقت فون استعمال کرنے سے ذہن پُرسکون رہتا ہے۔

رشتے مضبوط ہوتے ہیں: ایسا تو اب عام ہوتا جا رہا ہے کہ گھر والے ایک جگہ پر بیٹھے ہوتے ہیں اور سب ہی اپنے اپنے موبائل میں گم ہوتے ہیں۔ گھنٹوں چیٹنگ کرنے والوں کے پاس اپنے رشتہ داروں کے پاس ہی بیٹھنے کا وقت نہیں ہوتا۔ ڈجیٹل ڈیٹاکس اپنوں سے جڑنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ 

جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے: آنکھوں کی کمزوری، گردن میں درد، موٹاپا، تھکاوٹ اور نیند کی کمی، یہ سب موبائل کے بے تحاشا استعمال کے نتیجے ہیں۔ فون سے دوری آنکھوں اور جسم کو آرام دیتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عورت سب سے پہلے خود کی عزت کرنا سیکھے

عملی اقدامات:

روزانہ ایک گھنٹہ موبائل سے دوری بنانا: اس کے لئے آپ اپنے دن کا کوئی بھی وقت مقرر کرسکتے ہیں، یہ وقت نماز فجر کے بعد کا بھی ہوسکتا ہے، اسے تلاوت اور ورزش کے لئے خاص کریں۔

سونے سے پہلے موبائل سے دوری: جب ہم دن بھر کے کاموں سے فراغت پاکر بستر کا رخ کرتے ہیں تو خود کو فریش کرنے کیلئے موبائل اٹھا لیتے ہیں جبکہ ہمارا یہ عمل بجائے ہمیں راحت دینے کے اور زیادہ تھکا ڈالتا ہے کہ ہمیں علم ہی نہیں ہوتا۔ دن کے اوقات میں تو دنیا بھر کے کام ہمیں موبائل رکھنے پر مجبور کردیتے ہیں مگر چونکہ رات کے وقت تمام کاموں سے فراغت ہوتی ہے تو ہمیں ریلز اسکرول کرنے میں وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا اور ہم کئی گھنٹے گزار کر جب فون رکھتے ہیں تو نیند آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے۔ اس لئے بستر پر موبائل کا استعمال خود کیلئے ممنوع کریں۔ اسی طرح سوتے وقت موبائل خود سے دور رکھ کر سوئیں تاکہ اس کی مضر شعاؤں سے بھی محفوظ رہ سکیں۔

اسکرین ٹائم چیک کریں:  موبائل کی سیٹنگ میں جاکر دیکھیں کہ آپ کس ایپ پر کتنا وقت گزار رہے ہیں۔ اسی طرح آپ خود کے لئے ہر ایپ پر اسکرین ٹائم بھی مقرر کرسکتی ہیں جس سے موبائل آپ کے مقرر کئے ہوئے وقت کے بعد وہ ایپ خود بخود بند کردے گا۔

خود سے فون اٹھانے کا مقصد پوچھیں: جب بھی فون ہاتھ میں لیں، خود سے سوال کریں: ’’کیا یہ ضروری ہے؟ اور مَیں کس کام کیلئے یہ فون اٹھا رہی ہوں۔‘‘ کیونکہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ فون کسی اور مقصد کے لئے اٹھایا جاتا ہے لیکن فون کھولتے ہی نوٹیفکیشن دیکھ کر ہم دوسرے غیر ضروری کاموں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔

نوٹیفکیشن آف رکھنا: وہاٹس ایپ کے علاوہ دوسرے ایپس کے نوٹیفکیشن آف رکھیں۔ کیونکہ انہی نوٹیفکیشن کی وجہ سے ہمارا دھیان بٹتا ہے۔ مثلاً انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، فیس بک وغیرہ۔ کیونکہ ان ایپس پر ہم محض تفریح کیلئے ہی جاتے ہیں۔

نو موبائل زون بنانا: اپنے گھر میں کچھ ایسے مقامات بنائیں جہاں ڈجیٹل آلات کی اجازت نہ ہو جیسے کھانے کی میز اورسونے کی جگہیں وغیرہ۔

ڈجیٹل صفائی: جس طرح ہم وقتا فوقتاً اپنی الماری کی صفائی کرتے ہیں اسی طرح موبائل فون کی صفائی بھی ضروری ہے۔ اس کے لئے وہ تمام ایپس ڈیلیٹ کر دیں جو آپ نے پچھلے ایک مہینے میں استعمال نہیں کی، اسی طرح سوشل میڈیا پر ان تمام لوگوں اور صفحات کو ان فالو کردیں جو آپ کو منفی محسوس کراتے ہیں یا جن کو دیکھ کر آپ احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔

شیڈولڈ چیکنگ کا اصول اپنائیں:

مسلسل وہاٹس ایپ اور ای میل چیک کرنے کے بجائے دن میں دو یا تین مخصوص اوقات مقرر کریں۔ اور اسی وقت میں تمام پیغامات کا جواب دیں اس سے وہ طلب اور بے چینی ختم ہوگی جو بار بار فون اٹھانے پر مجبور کرتی ہے۔ 

متبادل تلاش کریں:

ڈجیٹل ڈیٹاکس اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک آپ اس خالی جگہ کو کسی تخلیقی کام سے نہ بھریں۔ مثلاً کتابیں پڑھنے کی عادت کو زندہ کریں جو اس سوشل میڈیا کی لت کی وجہ سے آپ سے چھوٹ گئی تھی، قدرت سے جڑیں، باغبانی کا مشغلہ اپنائیں۔ 

یاد رکھئے، ڈجیٹل ڈیٹاکس کا مقصد فون سے دشمنی نہیں بلکہ خود سے دوستی ہے۔ جب ہم ڈجیٹل شور شرابے سے باہر نکلتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ اصل زندگی اسکرین کے اندر نہیں بلکہ ہر لمحے سے لطف اندوزہونے میں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK