Updated: January 08, 2026, 6:11 PM IST
| Mumbai
اسے اتفاق ہی کہئے کہ زیر بحث عرضی ٔ ضمانت خارج ہونے کے آس پاس ہی ایک ایسے دھارمک شخص کو ۱۵؍ ویں مرتبہ پیرول پر رہائی ملی جس کا جرم ثابت ہوچکا ہے اور جو سزا یافتہ مجرم ہے۔
عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ ملنے کا افسوس ہر خاص و عام کو ہے۔ بھلے ہی بہت سے لوگ، بالخصوص برادران وطن، اپنے احساسات کو الفاظ کا جامہ پہنا کر زبان تک لانا نہ چاہتے ہوں یا احتیاط برتتے ہوں یا خائف ہوں مگر انہی حضرات و خواتین میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اسے اتفاق ہی کہئے کہ زیر بحث عرضی ٔ ضمانت خارج ہونے کے آس پاس ہی ایک ایسے دھارمک شخص کو ۱۵؍ ویں مرتبہ پیرول پر رہائی ملی جس کا جرم ثابت ہوچکا ہے اور جو سزا یافتہ مجرم ہے۔ اس دوسری خبر کی وجہ سے خود بخود اور ہاتھوں ہاتھ موازنہ کا موقع بھی فراہم ہوگیا۔ یہ موازنہ فطری تھا جو بہت سے لوگوں نے کیا کہ ایک طرف یہ شخص ہے جس کو بار بار چھوٹ ملتی ہے اور دوسری طرف عمرخالد، شرجیل امام اور ایسے ہی کئی دوسرے ہیں جو برسوں سے قید و بند میں ہیں مگر نہ تو اُن کے خلاف مقدمہ کی شنوائی کا آغاز ہوا ہے نہ ہی اُنہیں ضمانت ملی ہے۔ عموماً یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی ملزم کو، خواہ وہ ہائی پروفائل ہو، ضمانت ملی یا نہیں ملی تو ضمانت ملنے یا نہ ملنے کی خبر مشتہر ہونے کے بعد معاملہ ختم ہوجاتا ہے مگر یہ معاملہ پہلے دن بھی موضوع بحث رہا، دوسرے دن بھی اور تیسرے دن بھی، جب یہ سطریں لکھی جارہی ہیں۔ یوٹیوب پر مباحث ہورہے ہیں، اخبارات میں مضامین لکھے جارہے ہیں، ایکس (ٹویٹر) پر تبصرہ کیا جارہا ہے اور سوشل میڈیا گروپس میں اس پر گفتگو ہورہی ہے۔ گمان غالب ہے کہ آئندہ کافی عرصہ تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت مل جاتی تو اُن پر اتنی بات چیت نہ ہوتی جتنی کہ اس وقت جاری ہے، اُن سے ہمدردی میں اتنی گہرائی نہ ہوتی جتنی اس وقت ہے، اُن کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا اتنا احساس نہ کیا جاتا جتنا اس وقت کیا جارہا ہے اور اُن کی شہرت اتنی نہ ہوتی جتنی کہ اس وقت ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کی ضمانت کا معاملہ صرف ہندوستانیوں اور مقامی ذرائع ابلاغ تک محدود نہیں ہے بلکہ کئی غیر ملکوں میں بھی موضوع بحث ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ کئی سیاسی جماعتوں نے اپنا ردعمل ظاہر کیا، کئی سیاسی لیڈروں نے بیان دیا اور کئی نے اخبارات میں مضامین لکھے۔یہی حال قانون دانوں کا ہے۔دُشینت دوے، اشونی کمار، سنجے ہیگڑے، پرشانت بھوشن، گوتم بھاٹیہ اور کئی دیگر، سب نے کہا کہ ضمانت ملتی تو فرد کی آزادی بحال ہوتی اور سپریم کورٹ اپنے وقار میں اضافہ کرتا۔ ان سب کی گفتگو سے کچھ ایسے زاویوں پر بھی روشنی پڑی جو ممکن تھا کہ عوامی حافظے سے محو ہوجاتے مثلاً دہلی فساد شروع سے پہلے کیا ہوا تھا، کس نے اشتعال انگیز تقریر کی تھی، پولیس نے کس طرح یکطرفہ کیس بنایا وغیرہ۔ اس اخبار میں آپ نے عمر اور شرجیل کی پروفیسر جانکی نائر کے تاثرات پڑھے ہونگے۔ اُن کی تحریر سے واضح ہے کہ یہ دونوں پروفیسر صاحبہ کے چہیتے شاگرد تھے جو اُنہیں بیدار مغز اسکالر کے روپ میں دیکھ رہی تھیں۔ جانکی نائر کا یہ کہنا کہ ’’وہ اپنی ذہانت، محنت اور الگ سوچ کی صلاحیت سے مجھے متاثر کرتے تھے، یا، ان میں پڑھنے، لکھنے اور کھل کر بولنے کی ایک فطری بھوک تھی‘‘ اس لئے نہیں ہے کہ کچھ کہنا ہے اسلئے کہہ دیا۔ یہ اعتراف ہے اُن کی ذہانت، صلاحیت اور عام طلبہ سے الگ اپنے نکات و سوالات سے متاثر کرنے کے ہنر کا۔ عمر اور شرجیل کو ضمانت نہیں ملی مگر ایک خاص طبقے کو چھوڑ کر باقی سب کا اُن کے حق میں بولنا اُن کی بڑی جیت ہے۔