Inquilab Logo Happiest Places to Work

وینزوئیلا: تباہی، راحت، اُمید اور مایوسی

Updated: June 30, 2026, 1:52 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

وینزوئیلا کے زلزلے میں جتنی اموات ہوئی ہیں اُس سے زیادہ لوگ زخمی ہیں اور جتنے زخمی ہیں اُس سے زیادہ لاپتہ ہیں۔ ہوسکتا ہے ملبے میں اب بھی لاشیں دبی ہوئی ہوں مگر اُمید پر مایوسی غالب آتی جارہی ہے۔

Venezuela.Photo:PTI
وینزوئیلا کے زلزلے میں جتنی اموات ہوئی ہیں اُس سے زیادہ لوگ زخمی ہیں اور جتنے زخمی ہیں اُس سے زیادہ لاپتہ ہیں۔ ہوسکتا ہے ملبے میں اب بھی لاشیں دبی ہوئی ہوں مگر اُمید پر مایوسی غالب آتی جارہی ہے۔ مہلوکین میں ارجنٹائنا کے کھلاڑی، فٹ بالر لیوکاز ٹریجو کی اہلیہ اور دو بچے بھی شامل ہیں جن کی موت کی تصدیق زلزلے کے ۷۲؍ گھنٹے بعد ہوئی۔ جس وقت زلزلہ آیا لیوکاز اپنی رہائش گاہ پر نہیں تھے۔ ساحل سمندر پر بنی اُن کی شاندار رہائش گاہ کا بھی وہی حشر ہوا جو دیگر عمارتوں کا ہوا۔ عالمی فٹ بال برادری اُن کے اہل خانہ کیلئے دُعا کررہی تھی مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایسی آفات کچھ نہیں دیکھتیں، کسی کو نہیں دیکھتیں کہ کون کتنا مشہور اور کتنا کامیاب ہے اور کس نے زندگی کے کتنے سنہرے خواب دیکھے تھے۔ 
 
 
مگر ایسی آفات میں وہ لوگ بچ بھی جاتے ہیں جن کی زندگی باقی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک باپ اور بیٹا چار دن بعد ملبے سے زندہ نکالے گئے۔ اسی طرح ۲؍ نوعمر لڑکے ایسے تھے جن پر سے ملبہ ہٹایا گیا تو وہ بقید حیات تھے۔ ملبے سے ایک خاتون اور اُس کے ۱۸؍ دن کے بچے کو بھی زندہ برآمد کیا گیا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ ملبے کے نیچے اُس کا بیٹا ہی اُس کا سہارا تھا۔ وینزوئیلا سے ملنے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ کسی کے زندہ ہونے کا امکان معدوم ہو رہا ہے۔ 
یاد رہے کہ وینزوئیلا وہی ملک ہے جس پر اس سال جنوری میں شب خون مارا گیا تھا۔ امریکی خصوصی مشن کے کارکنان نے وہاں کے صدر نکولاس مادورو کا اغوا کیا اور اُنہیں امریکہ لے گئے تھے۔ تب سے مادورو امریکہ میں قید ہیں جبکہ اُن کی نائب ڈیلسی راڈریگز، جو امریکی مفادات کی تکمیل کیلئے سودمند سمجھی گئیں، عبوری صدر (ایکٹنگ پریسیڈنٹ) کے طور پر کام کررہی ہیں۔ آفت کی یہ گھڑی ثابت کرے گی کہ ڈیلسی میں حالات سے نمٹنے کی کتنی صلاحیت ہے۔یہ امریکہ کی بھی آزمائش ہے کہ تیل کے ذخائر ہتھیانے کیلئے اس نے ایک پٹھو صدر کو مامور تو کردیا مگر کیا مصیبت کے دِنوں میں واشنگٹن کراکس کا بہترین دوست ثابت ہوگا؟ ٹرمپ نے ہر طرح کی مدد کا یقین دلایا ہے اور مارکو روبیو کی نگرانی میں امریکی ٹیمیں وہاں سرگرم بھی ہیں مگر ان ٹیموں نے کتنی راحت بہم پہنچائی اور متاثرین اُس سے کتنا مطمئن ہیں یہ آنےوالا وقت بتائے گا۔ دُنیا بھی دیکھنا چاہے گی کہ وینزوئیلا میں امریکہ کی دلچسپی معاشی مفاد کیلئے ہے یا اُسے انسانی مفاد کی بھی فکر ہے۔ وینزوئیلا کے عوام یہ بھی چاہیں گے کہ ٹرمپ مدد کرنے بعد چپ رہیں، احسان نہ جتائیں۔ 
 
 
دُنیا کے کئی ملکوں نے راحتی کاموں کیلئے اپنی ٹیمیں وینزوئیلا بھیجی ہیں جبکہ کئی دیگر ملکوں نے راحتی و طبی سازوسامان وینزوئیلا روانہ کیا ہے۔ ان میں ہمارا ملک بھی شامل ہے جس نے ۶۶؍ ٹن راحتی و طبی اشیاء کے ساتھ فوج کے افسران کی ایک ٹیم کراکس روانہ کی ہے۔ کراکس میں ہندوستان کا فیلڈ ہاسپٹل مریضوں اور زخمیوں کو ہر ممکن مدد فراہم کررہا ہے۔ اِس طرح بالواسطہ طور پرہم ہندوستانی بھی وینزوئیلا کے متاثرین کی مدد میں شامل ہیں۔ یہ نہ ہوتا تو کروڑوں ہندوستانی کف ِ افسوس ملتے کہ ہم وینزوئیلا کیلئے کچھ نہیں کرپائے اور انسانیت کی خدمت سے محروم رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK