Inquilab Logo Happiest Places to Work

وزیر تعلیم کی رہائش گاہ کے باہر کانگریس کا احتجاج

Updated: June 30, 2026, 3:00 PM IST | Inquilab News Network | Aurangabad

پارٹی کی یوتھ ونگ نے فوری طور پر دادا بھسے کے استعفے کا مطالبہ کیا ،اورنگ آباد میں کسانوں کے حق میں مہا وکاس اگھاڑی کا مورچہ ۔

Youth Congress Workers Outside Dada Bhase`s Residence.Photo:INN
یوتھ کانگریس کے کارکنان دادا بھسے کی رہائش گاہ کے باہر۔ تصویر:آئی این این
نیٹ کے بعد ٹی ای ٹی کا پرچہ لیک ہونےکے سبب مہاراشٹر میں سخت ناراضگی ہے۔ کانگریس جو پہلے ہی نیٹ پیپر لیک معاملے میں احتجاج کر رہی تھی، اس نے ٹی ای ٹی پیپر لیک کے بعد اور زوروشور سے مورچہ کھول دیا  ہے۔ پیر کے روز  ریاستی وزیر تعلیم  دادا بھسے کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین کی قیادت میں  دادا بھسے کی سرکاری رہائش گاہ کے سامنے زبردست احتجاج کیا گیا۔  
اس موقع پر زینت شبرین نے کہا’’ نیٹ کے بعد اب ٹیٹ کا پیپر لیک ہو گیا ہے۔ ہر امتحان کا پرچہ لیک ہو رہا ہے۔ اس طرح لگاتار پیپر لیک ہونے کی وجہ سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل تاریکی میں ڈوب گیا ہے۔  اس کی وجہ سے حکومت کی لاپروائی اور انتظامیہ کی ناکامی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔‘‘ اس احتجاج میں یوتھ کانگریس کے کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پولیس کی بھاری تعیناتی کے باوجود، زینت شبرین اپنے پورے لائو اور لشکر کے ساتھ وزیر تعلیم دادا بھ سے کے بنگلے پر پہنچیں۔ انہوں نے بنگلے کی حفاظتی دیوار پر پوسٹر چپکا دیا جس پر لکھا تھا’’دادا بھسے استعفیٰ دو‘‘ ساتھ ہی کانگریس کارکنان یہی نعرہ لگا بھی رہے تھے۔ 
 
 
یوتھ کانگریس کے کارکنان نے  بھوسے کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے آواز لگائی ’’ پیپر چور گدی چھوڑ، طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ بند کرو ۔‘‘ ۔ مظاہرین نے بنگلے کے آس پاس کی دیواروں پر  ’’پیپرچور گدی چھوڑ‘‘ جیسے نعرے لکھے اور حکومت کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے زینت شبرین نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے زمانےمیں  پیپر لیک ہونا معمول ہو گیا ہے۔نیٹ کے بعد اب ٹیٹ  کا پیپر لیک ہو گیا۔ اس   پیپر لیک نے لاکھوں طلبہ کی محنت، وقت اور مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ طلبہ کی زندگیوں سے کھیلنے والی اس حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ وزیر تعلیم دادا بھسے کو چاہئے کہ وہ اس پورے معاملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہو جائیں، اور حکومت کو چا چاہئےکہ وہ اس کی منصفانہ تحقیقات کروائے، پیپر لیک کے پیچھے موجود سارے ریکیٹ کو بے نقاب کرے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔‘‘ بھاری پولیس کی تعیناتی کے باوجود یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے بھسے کے بنگلے کے سامنے احتجاج کیا۔ پولیس نےزینت شبرین سمیت کئی کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ تاہم، مظاہرین نے یوتھ کانگریس کی لڑائی کو اس وقت تک جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا جب تک طلبہ کو انصاف نہیں مل جاتا اور پیپر لیک کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جاتی۔
 
 
 اورنگ آباد میں کسانوں کی حمایت میں مورچہ 
ادھر اورنگ آباد میں مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں کانگریس کارکنان نے رکن اسمبلی روہت پوار کی جانب سے کسانوں کے حق میں نکالے گئے مورچے میں شرکت کی۔ اس موقع پر حکومت کے خلاف احتجاج کیا گیا اور کسانوں کی مکمل قرض معافی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس میں مہا وکاس اگھاڑی کے کئی اہم لیڈران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بی جے پی حکومت مکمل طور پر جھوٹی حکومت ہے۔ بی جے پی پارلیمنٹ میں جھوٹ بولتی ہے، رام مندر کے معاملے میں جھوٹ بولتی ہے اور کسانوں سے بھی جھوٹ بولتی ہے۔ بی جے پی اور وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے کسانوں کے ساتھ بارہ کو مکمل طور پر کورا کرنے کا وعدہ کیاتھا یعنی ان کا قرض مکمل طور پر معاف کرنے کا اعلان کیا تھا۔  لیکن اقتدار میں آتے ہی کسانوں کے ساتھ دھوکہ کرتے ہوئے محض نمائشی قرض معافی کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا’’ کسانوں کو انصاف دلانے کیلئےہم نے یلغار کر دی ہے۔ اور جب تک کسانوں کا سات بارہ کورا نہیں ہو جاتا  یہ احتجاج جاری رہے گا۔ اس موقع پر این سی پی (شرد) کے رکن اسمبلی روہت پوار، این سی پی  رکن پارلیمان سپریا سلے، این سی پی کے (شرد) کے ریاستی صدر ششی کانت شندے، اور دیگر کئی لیڈران موجود تھے۔یاد رہے کہ حکومت نے کسانوں کی قرض معافی کیلئے کئی شرائط عائد کی ہیں جس سے کسان ناراض ہیں۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK