Inquilab Logo Happiest Places to Work

قلت ِآب اور ڈیٹا سینٹروں کی بڑھتی تعداد

Updated: August 21, 2026, 3:50 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

پوری دُنیا ڈیٹا کی ہوڑ میں لگی ہے۔ ڈیٹا کے بارے میں کبھی کسی نے نہیں سوچا تھا مگر جیسے جیسے ٹیکنالوجی حاوی ہوتی گئی اور اس پر انسانی زندگی کا انحصار روز افزوں ہوا ویسے ویسے ڈیٹا ہمارے موضوعات میں اہمیت کا حامل ہوگیا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

پوری دُنیا ڈیٹا کی ہوڑ میں لگی ہے۔ ڈیٹا کے بارے میں کبھی کسی نے نہیں سوچا تھا مگر جیسے جیسے ٹیکنالوجی حاوی ہوتی گئی اور اس پر انسانی زندگی کا انحصار روز افزوں ہوا ویسے ویسے ڈیٹا ہمارے موضوعات میں اہمیت کا حامل ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہر خاص و عام یہ تو جانتا ہے کہ ڈیٹا کیا ہے اور اس کا ذخیرہ کیوں ضروری ہے مگر کم لوگ جانتے ہیں کہ ڈیٹا سینٹر جتنے بڑھیں گے، پانی کی قلت میں اُتنا ہی اضافہ ہوگا کیونکہ ڈیٹا سینٹروں کی کولنگ کیلئے پانی درکار ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں مہاراشٹر، تمل ناڈو، تلنگانہ، کرناٹک اور یوپی وہ ریاستیں ہیں جہاں ملک کے ۷۵؍ فیصد ڈیٹا سینٹر موجود ہیں مگر ستم ظریفی دیکھئے کہ ان ریاستوں میں پانی وافر مقدار میں موجود نہیں ہے۔ مذکورہ ریاستوں کے بارے میں معلومات حاصل کرکے دیکھ لیجئے کیا وہاں افراط پانی ہے؟ اگر کل بھی، جب ڈیٹا سینٹر نہیں تھے، بہت سے علاقوں میں پانی کی قلت تھی تو کیا ڈیٹا سینٹر آنے کے بعد پانی کی قلت میں اضافہ نہیں ہوگا؟ کہنے کی ضرورت نہیں کہ کل تک حیوانات اور نباتات کو پانی کی ضرورت تھی، اب ’’مشینات‘‘ کو بھی ہے۔ ڈیٹا کی مانگ میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر کسی تردد کے بغیر کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں پانی کی مانگ بھی بڑھے گی اور آبی ذخائر محدود ہوتے جارہے ہیں، زیر زمین بھی کافی مقدار میں پانی نہیں ہے اس لئے ڈیٹا سینٹروں میں اضافہ کی وجہ سے پانی کی قلت میں بھی اضافہ ہوگا۔ خداخیر کرے! 

یہ بھی پڑھئے:بہتر تعلیم اور بہتر تعلیم گاہیں

آپ جانتے ہیں اس سال بارش دیر سے شروع ہوئی مگر بحمد اللہ خاطرخواہ بارش ہوچکی ہے اور ابھی مزید ایک ماہ باقی ہے اس لئے اُمید کی جاتی ہے کہ ذخیرہ ہائے آب لبالب ہوجائینگے مگر چونکہ ہر ریاست میں خاطرخواہ بارش نہیں ہوئی ہے اس لئےپانی کی مجموعی قلت برقرار رہ سکتی ہے۔ ایسے میں ڈیٹا سینٹروں کیلئے پانی کی ضرورت کے سبب انسانی و حیوانی ضرورتوں کا پورا ہونا مشکل ہوجائے گا۔ 

آبی قلت پوری دُنیا کا مسئلہ ہے۔ چند ایک ملکوں کے پاس اطمینان بخش ذرائع ہوسکتے ہیں مگر سب کے پاس نہیں ہیں۔ بہت سے مطالعات میں بتایا گیا ہے کہ دُنیا کے کم از کم ۲۵؍ ممالک میں مجموعی سالانہ ضرورت زیادہ اور ذخائر کم بلکہ بہت کم ہیں۔ انگریزی میں انہیں Water Stressed Countriesکہا جاتا ہے۔ ان میں بھی دو طرح کے ممالک ہیں۔ ایک وہ جہاں ’’اسٹریس‘‘ (قلت) زیادہ ہے اور دوسرے وہ جہاں اسٹریس کم ہے۔ مگر ہر دو طرح کے ملکوں میں اسٹریس بہرحال موجود ہے۔ ان میں جنوبی ایشیائی،صحارا اور مشرق وسطیٰ کے ملک آتے ہیں۔ 

ایک زمانے میں جب کہا جاتا تھا کہ وہ دَور آئیگا جب پانی خریدا اور بیچا جائیگا تب یہ بات مبالغہ آمیز معلوم ہوتی تھی مگر آج دُنیا میں یہ ہورہا ہے۔ پانی کثیر مقدار میں خریدا بھی نہیں جاسکتا۔ آپ چاہیں کہ ہزاروں گیلن پانی آرڈر دے کر امپورٹ کرلیں تو یہ آسان نہیں ہے حالانکہ کویت، ترکمانستان، مصر، بحرین، موریطانیہ، سوڈان، ہنگری، نائیجر، بنگلہ دیش وغیرہ پانی درآمد کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہ سوچ کر اطمینان کر لینا درست نہیں کہ ہمارا سال بھر کا کوٹہ پورا ہوگیا۔ پانی کا تحفظ خود بھی کرنا چاہئے اور دوسروں کو تلقین بھی کرنی چاہئے۔ یہ بہت ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK