بینک منیجر اور افسر کے خلاف کارررائی نہیں ہوتی یا وہ مجبور نہیں کئے جاتے تو سمجھا جائے گا کہ سارے مشورے بہکانے اور ذہن بھٹکانے کیلئے ہیں۔ یہ صرف میرا وہم نہیں ہے بامبے ہائی کورٹ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر اکاؤنٹ ہولڈر کی رقم میں ہیرا پھیری ہو رہی ہے تو بینک کو دیکھنا چاہئے کہ ایسے فراڈ کو روکنے کیلئے کسی اور طریقے کو اپنانے کی ضرورت ہے کیا؟
سائبر فراڈ (فون وغیرہ کے ذریعہ دھوکہ دھڑی) جتنے بڑے پیمانے پر، جس جس جگہ اور جس جس طرح کیا جا رہا ہے وہ ہوش اڑا دینے کے لئے کافی ہے۔ محکمۂ پولیس نے بہت ساری ہدایات جاری کی ہیں اور بینک منیجر پوچھتے ہیں کہ آپ نے چیک سے روپیہ دیا کیوں؟ تو عرض ہے کہ کوئی بھی کسی چیٹر کو روپیہ دیتا نہیں ہے اور دھوکہ دھڑی کرنے والا یعنی چیٹر بچوں کو جان سے مار دینے کی دھمکی دے کر یا قومی مفاد میں تعاون کرنے کا جھانسہ دے کر بھولے بھالے عوام کو مجبور کرتا ہے کہ وہ چیک دیں۔ کس کے اکاؤنٹ میں کتنا روپیہ ہے اس کی اطلاع بھی بینک افسروں کے ذریعہ چیٹر س کو نہ صرف دی جاتی ہے بلکہ اپنے لوگ بھی بٹھائے جاتے ہیں کہ مدد کے نام پر مجبوروں کو دام میں پھنسایا جائے۔ طریقۂ کار یہ ہوتا ہے کہ ٹھگے ہوئے رویے کو سائبر مجرمین کسی ایسے بینک اکاؤنٹ میں رکھتے ہیں جو ہوتا کسی کے نام سے ہے مگر کنٹرول اسکیم یعنی ٹھگ کرتا ہے ایسے تمام اکاؤنٹ سیز کیوں نہیں کئے جاتے؟ ممبئی پولیس نے وہاٹس ایپ پر ’مائے کانٹیکس اونلی‘ لکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس مشورہ کا شکریہ مگر صحیح علاج یہ ہے کہ بینک ایسے کسی چیک کو پاس کر بھی دیتا ہے تو بعد میں روپیہ واپس کرنے پر مجبور کیا جائے۔ بینک منیجر اور افسر کے خلاف کارررائی نہیں ہوتی یا وہ مجبور نہیں کئے جاتے تو سمجھا جائے گا کہ سارے مشورے بہکانے اور ذہن بھٹکانے کے لئے ہیں۔ یہ صرف میرا وہم نہیں ہے بامبے ہائی کورٹ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر اکاؤنٹ ہولڈر کی رقم میں ہیرا پھیری ہو رہی ہے تو بینک کو دیکھنا چاہئے کہ ایسے فراڈ کو روکنے کے لئے کسی اور طریقے کو اپنانے کی ضرورت ہے کیا؟
یہ بھی پڑھئے:انتہائی غریب طبقات کے غذائی حقوق پر حملہ
راقم الحروف نے جب پہلی مرتبہ اس روش کے خلاف لکھا تھا تو قارئین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ وکلاء سے رجوع کریں۔ اس کے ذہن میں اس وقت یہ بات تھی کہ وکلاء کی فیس دینا یا عدالت کا خرچ اُٹھانا ہر شخص کی بات نہیں ہے۔ اب تو اس میں ایک بات اور شامل ہوگئی ہے وہ یہ کہ ہر ۳؍ میں سے ایک وکیل کے فرضی ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ ایجنسی کے حوالے سے اخبارات میں خبر شائع ہوئی ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک درخواست پر حکومت ِ ہند سے جواب طلب کیا ہے کہ فرضی وکلاء کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری کیوں نہ سی بی آئی کو سونپی جائے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا کی بینچ نے اس معاملے کو سنگین معاملہ قرار دیا ہے۔ بیشک یہ سنگین مسئلہ ہے بھی کیونکہ وکالت ایک اہم پیشہ ہے۔ قانون اور عدالت سے اس کی نسبت کے سبب لوگ اس کو اہم سمجھتے بھی ہیں۔ فرضی وکلاء کے سرگرم ہونے کا مطلب ہے وکالت کے پیشے کا بدنام اور ناقابلِ اعتماد قرار دیا جانا۔ یہ خبر سب سے پہلے بار کونسل کے سربراہ کے ہی توسط سے سامنے آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ بار کونسل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ۳۰؍ سے ۴۰؍ فیصد وکلاء فرضی ہیں یعنی ہر تین میں سے ایک وکیل فرضی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:تاریخ یقیناً ڈاکٹر سنگھ کو احترام کے ساتھ یاد رکھے گی
فرضی وکلاء کی بات راقم الحروف نے پڑھی تو ضرور ہے مگر اس کا سابقہ ہمیشہ اچھے وکلاء سے پڑا ہے جو راقم الحروف کی مدد کرتے رہے ہیں۔ اگر واقعی ایسے وکلاء عدالتوں میں مقدمہ چلاتے ہیں یا سرگرم ہیں تو تشویش کی بات ہے مگر منن کمار شرما (بار کونسل کے سربراہ) کی اس بات کو آنکھ بند کرکے مان لینا مشکل ہے کہ ہر تین وکلاء میں سے ایک فرضی ہے۔ ہاں یہ بات متعدد وکلاء کے بارے میں کہی جاسکتی ہے کہ وہ صرف ایفی ڈیوٹ یا حلف نامہ تیار کرانے والے وکلاء ہیں۔ انہوں نے کبھی کوئی مقدمہ لڑا ہی نہیں۔ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہے کہ موجودہ عدالتی اور قانون نظام میں روپے کے بغیر راحت پائی ہی نہیں جاسکتی۔ یہ بھی صحیح ہے کہ ایسے ’بریف لیس‘ وکلاء غلط فہمی بہت پھیلاتے اور مظلومین یا ملزمین سے من مانی رقم اینٹھتے ہیں۔ میرے علم میں ایک ایسے ایڈوکیٹ ہیں جو ہائی کورٹ آرڈر کی دھونس جما کر پولیس کے کام میں مداخلت کر رہے تھے اور بالآخر لاک اَپ میں بھیج دیئے گئے تھے۔ بات سائبر فراڈ کی ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ اس میں چند معاملات کی رپورٹ اور اکا دکا مضامین تو آئے ہیں مگر فراڈ کا شکار ہونے یا ان کی حمایت میں بولنے والوں کا کوئی لائحہ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں اور وکلاء نے بھی کچھ نہیں کہا ہے ایسے میں فراڈ کرنے والوں کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ سب ملے ہوئے ہیں۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ معاملہ عدالت میں ہے۔ شری کرشنا کمیشن کی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد ایک شخص/ جماعت نے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا تو دوسرے ایک شخص کو سپریم کورٹ بھیج دیا گیا تھا جس سے بامبے ہائی کورٹ کی کارروائی پر اثر پڑا تھا۔ بابری مسجد کے معاملے میں بھی ایک صاحب نے جن کا نام پہلے سنا گیا نہ بعد میں اچانک ایک درخواست عدالت عالیہ میں دے کر لوگوں کو چونکا دیا تھا مقصد کیا تھا؟ اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ اس مرتبہ بھی ’نالسار یونیورسٹی‘ میں چیف جسٹس آف انڈیا کی شرکت کو روکنے کی کوشش کی گئی تھی مگر خود چیف جسٹس آف انڈیا نے یہ بیان دے کر شرکت روکنے کی کوشش کرنے والوں کی ہوا نکال دی کہ طلبہ کو پُرامن احتجاج کرنے کا حق ہے۔ اس سے پہلے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کے سلسلے میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے صحیح بیان دیا تھا کہ کچھ کیا گیا ہے تو نئی نسل احتجاج کر رہی ہے۔ سائبر فراڈ کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی کارروائی کو اسکرین پر دکھانے اور ڈجیٹل اریسٹ کا تماشا کرنے والوں کا نہ پکڑا جانا اور پھر ہر طرف خموشی اختیار کیا جانا دھوکہ نہیں تو کیا ہے؟
یہ بھی پڑھئے: اب ہمیں دستوری حقوق بھی دوبارہ حاصل کرنا ہوگا؟
مَیں کسی طرح کی بھی قانون شکنی کا قائل نہیں ہوں مگر قانون سے مدد لینے اور پُرامن احتجاج کرنے کو جائز سمجھتا ہوں۔ سائبر فراڈ کے سلسلے میں بینک و پولیس افسروں اور ارباب اختیار کے رویے سے تو پریشان ہوں مگر حزب اختلاف اور قانون دانوں کے رویے سے بھی خوش نہیں ہوں۔ لوگ بھی یہی کہتے ہیں اس لئے امید ہے کہ سائبر فراڈ کے نام پر جو ہو رہا ہے اور جو لوگ اس قسم کے فراڈ سے چشم پوشی کر رہے ہیں وہ سب پکڑے جائیں گے۔ اس تاخیر کا سبب بھی سامنے آئے گا جو کی جا رہی ہے کہ یہ تاخیر اور ارباب اختیار کی جانب سے کی جانے والی وضاحتیں بھی معنی خیز ہیں۔n