Inquilab Logo Happiest Places to Work

اہل غزہ: سب نے آنکھیں پھیر لیں!

Updated: August 21, 2026, 4:12 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

سیاہ اور سفید کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ سیاہ سفید نہیں ہو سکتا اور سفید سیاہ نہیں ہو سکتا لیکن اسرائیل کی لغت میں دو متضاد چیزیں ایک ساتھ رہ سکتی ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

سیاہ اور سفید کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ سیاہ سفید نہیں ہو سکتا اور سفید سیاہ نہیں ہو سکتا لیکن اسرائیل کی لغت میں دو متضاد چیزیں ایک ساتھ رہ سکتی ہیں۔ اس نے غزہ میں جنگ بندی بھی کی ہے اور جنگ جاری بھی رکھی ہے۔ کاغذ پر یہ درج ہے کہ امریکہ، قطر، ترکی اور مصر کی ثالثی کے بعد اسرائیل نے ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو امن معاہدہ پر دستخط کئے یعنی جنگ بند کرنے کا وعدہ کیا مگر کیا جنگ بند ہوئی؟ غزہ سے موصولہ خبریں شاہد ہیں کہ جنگ بندی معاہدہ کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج نے غزہ کے ۱۲۰۰؍  شہریوں کو شہید کیا ہے۔ اس طرح غزہ میں جام شہادت نوش کرنے والے شہریوں کی تعداد مجموعی طور پر ۷۳ ہزار ہو چکی ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ شہید ہونے والوں میں بزرگ بھی ہیں، خواتین بھی ہیں اور بچے بھی ہیں۔ غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے اور پورا شہری انفراسٹرکچر تباہ کرنے کے بعد بھی اسرائیل نے ایک دن بھی اہل غزہ کو سکون کا سانس نہیں لینے دیا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ غزہ میں نہ تو بجلی ہے نہ پانی ہے، نہ غذا ہے نہ اسکول ہے، نہ شفا خانے ہیں نہ محفوظ پناہ گاہیں ہیں، نہ معاشی سرگرمیاں ہیں نہ سماجی تقریبات ہیں۔

یہ بھی پڑھئے۔سائبر فراڈ اور قانونی کارروائی

سب کچھ تباہ ہو چکا ہے اور جو کچھ باقی ہے وہ بھی تباہی کے دہانے پر ہے۔ اقوام متحدہ کے افسران کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی جب چاہتے ہیں لوگوں کا اغوا کر لیتے ہیں اور انہیں گالیاں دیتے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ ایسے مسلح گروہ وہاں گھوم رہے ہیں جن کو اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہے۔ وہ نہ تو انسانی راحت فراہم کرنے والے کارکنان کو بخشتے ہیں نہ ہی خود حقوق انسانی کی پروا کرتے ہیں۔ اس طرح غزہ میں قتل عام ہنوز جاری ہے۔ یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے اور ایران کی جنگ میں یہ ثابت ہو چکا ہے جکہ اسرائیل کا حکمراں بد دماغ سیاستداں ہے جو خود کو اقتدار میں قائم رکھنے کیلئے ہر ممکن حربہ آزما رہا ہے۔ نومبر میں الیکشن ہے اور نیتن یاہو دوبارہ منتخب ہونا چاہتے ہیں تاکہ اقتدار پر اُن کا قبضہ باقی رہے۔

یہ بھی پڑھئے:انتہائی غریب طبقات کے غذائی حقوق پر حملہ

الیکشن ہارنا زندگی ہارنا نہیں ہے مگر نیتن یاہو کا یہی خیال ہے، اسی لئے اُن کے نزدیک ایرانی جنگ کو جاری رکھنا بھی ضروری تھا لیکن ٹرمپ نے جنگ کے معاشی نقصانات کے پیش نظر اسرائیل کو الگ رکھ کر ایران سے براہ راست معاہدہ کر لیا ہر چند کے وہ معاہدہ بھی کمزور ہے اور ٹوٹتا بنتا رہتا ہے مگر نیتن یاہو اب بھی چاہتے ہیں کہ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ نہ روکیں۔  وہاں چونکہ امریکہ بھی درمیان میں ہے اس لیے اسرائیل کی کچھ زیادہ نہیں چل پا رہی ہے مگر غزہ میں جنگ ایک دن کیلئے بھی نہیں رکی ہے۔ جنگ بندی کے دوران جو ہلاکتیں ہوئی وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل غزہ کو خالی کروانا چاہتا ہے اور اس قابل مذمت مشن میں امریکہ بھی اس کے ساتھ ہے اور بین الاقوامی برادری بھی۔ دنیا کے معدودے چند ملک ہی فلسطین کے تئیں مخلص ہیں ورنہ جتنی باتیں اب تک کہی جاتی تھی اب ویسی باتیں بھی نہیں کہی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی مذمتی قراردادوں کا سلسلہ بھی تھما ہوا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ عالمی برادری نے اہل غزہ کو اسرائیل کے حوالے کر دیا ہے اور اسرائیل جو چاہتا ہے کرتا ہے اُسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔ اس وقت غزہ وہ جیل ہے جس کے ایک گو شے میں اہل غزہ قید ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK