• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’کیا بولتی سی جے پی؟‘

Updated: September 03, 2026, 4:15 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کو پہلی کامیابی اس وقت ملی تھی جب دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ وزیراعظم نریندر مودی کی اب تک کی بارہ سالہ حکومت میں سوائے ایم جے اکبر کے اور کوئی استعفیٰ نہیں ہوا تھا۔

Abhijit Dapke. Picture: INN
ابھیجیت دپکے۔ تصویر: آئی این این

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کو پہلی کامیابی اس وقت ملی تھی جب دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ وزیراعظم نریندر مودی کی اب تک کی بارہ سالہ حکومت میں سوائے ایم جے اکبر کے اور کوئی استعفیٰ نہیں ہوا تھا۔ راج ناتھ سنگھ کا وہ بیان، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ این ڈی اے میں استعفے نہیں ہوتے، ادھر تین چار ماہ کی مدت میں کافی گونجتا رہا۔ اس اعتبار سے پردھان کے استعفیٰ کوبجا طور پر سی جے پی اور کاکروچ موومنٹ کی بہت بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’ٹیکنالوجی کی سہولت کے بدلے کہیں ہم اپنی خودمختاری تو نہیں کھو رہے؟‘‘

مگر اس کا سہرا صرف سی جے پی کے سر باندھنا حقیقت سے چشم پوشی ہوگی۔ یہ تحریک سی جے پی نے ضرور شروع کی تھی جس کے تحت جنتر منتر پر تین ہفتے سے زیادہ دھرنا دیا گیا مگر اسے کئی طلبہ تنظیموں مثلاً آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن اور اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کی زمینی حمایت نہ ملتی، سونم وانگ چک کےساتھ کئی طلبہ بھوک ہڑتال پر نہ بیٹھے ہوتے اور شبانہ اعظمی، پرشانت بھوشن، ممتا بنرجی، ششی تھرور، اروند کیجریوال حتیٰ کہ کانگریس پارٹی کا سپورٹ نہ ملتا جس کے لیڈر پون کھیڑا جنتر منتر پر بھوک ہڑتالیوں سے ملے تو یہ تحریک اتنی کامیاب نہ ہوتی جتنی کہ ہوئی۔ سب سے بڑھ کر ملک کے نوعمروں اور نوجوانوں کی پرجوش شرکت نے ایک ایسی تحریک کو، جو چند سو لوگوں کے دھرنے تک محدود رہ سکتی تھی، سرخیوں میں لا دیا اور انٹرنیشنل بنا دیا۔ تبھی حکومت بھی فکرمند ہوئی اور اس نے اس تحریک سے نمٹنے میں وہ غلطیاں کیں جو اسے عرصہ دراز تک یاد رہیں گی۔

یہ بھی پڑھئے:معاشیانہ: Digital Ghost: فوت شدہ فردکی ’شخصیت‘ کا مالک کون ہوگا؟

دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اگر سی جے پی کی پہلی کامیابی تھی تو اس کی دوسری بڑی کامیابی مظاہرین کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کا سپریم کورٹ کے ذریعہ کالعدم کیا جانا ہے۔ سی جے پی کی یہ دوسری شرط تھی جو پوری ہوئی۔ اس کی تیسری شرط کیلئے، جو خود کشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے سے متعلق ہے، حکومت نے تین ماہ کا وقت مانگا ہے۔ ایف آئی آر منسوخ کرنے یا واپس لینے کے فیصلے اور اعلان کو اس پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ملک کی جیلوں میں نہ جانے کتنے افراد کئی کئی سال سے یا تو ناکردہ گناہی کی سزا کاٹ رہے ہیں یا ان کے خلاف مقدمہ تک شروع نہیں ہوا۔ ان میں عمر خالد اور شرجیل امام کا نام خاص طور پر لیا جاسکتا ہے۔ جن طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آر کالعدم کی گئی ہے وہ خوش قسمت ہیں کہ ان کی حمایت میں سی جے پی کا اور سی جے پی کی حمایت میں جین زی کا دباؤ کارگر ثابت ہوا اور ان کی گلوخلاصی ہوئی ورنہ کون جانتا تھا کہ جیل کی سلاخیں ان کی نوعمری اور نوجوانی کے کتنے سال چھین لیتی۔

  اب سوال یہ ہے کہ سی جے پی کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا اور وہ خود کو ملک کی نئی پیڑھی سے کس طرح مربوط رکھے گی۔ اس میں شک نہیں کہ نوعیت کے اعتبار سے  اس انوکھی پارٹی نے جین زی کو اپنے غصے کے اظہار اور جمہوری انداز میں پُرامن طریقے سے احتجاج کا عمدہ موقع فراہم کیا مگر اس کے بعد کیا؟ ا س کا نیا پروگرام ’’کیا بولتی پبلک‘‘ہے۔ اسکولوں کی خستہ حالی کیخلاف بھی اس کی مہم کی ستائش ہوئی ہے۔  اس کے باوجود اپنی معنویت برقرار رکھنے کا چیلنج اس کے سامنے ہے اور رہے گا۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK