Updated: September 03, 2026, 5:01 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی منظوری مل جائے تو وہ غزہ سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں،کاٹز نے کہا کہ یہ منصوبہ فلسطینیوں کو سمندر یا ہوائی راستے سے منتقل کر سکتا ہے، جبکہ ناقدین نے اسے نسلی صفائی قرار دیا۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز۔ تصویر: ایکس
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ ختم کرنے کا کوئی حقیقی حل نہیں ہے، جبکہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو فلسطینیوں کی روانگی کے لیے ایک طریقہ کار تیار کرنے کی ہدایت دی۔ کاٹز نے کہا، ’’اس ہجرت کے بغیر غزہ کا کوئی حقیقی حل نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ’’ ،غزہ میں۸۰؍ فیصد فلسطینی ہجرت کرنا چاہتے ہیں؛ یہ سروے میں مسلسل چیک کیا گیا ہے۔کاٹز نے یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ کس سروے کا حوالہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے اشارے کا انتظار کر رہا ہے۔کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی حکومت مکمل طور پر تیار ہے کہ اگر ممکن ہو تو فلسطینیوں کو باہر نکالیں سمندر کے راستے، ہوائی راستے، ہر ممکن طریقے سے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: ۵۵؍ ہزار افراد کا وزیر اعظم سے اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ
مزید برآں کاٹز نے کہا، ’’جس چیز میں تاخیر ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ قبول کرنے والے ممالک امریکی حمایت چاہتے ہیں۔ہر وہ ملک جو تیار ہے، امریکی پشت پناہی چاہتا ہے۔ فی الحال، صدر ٹرمپ نے اسے منسوخ نہیں کیا؛ انہوں نے اسے روک دیا ہے۔ تمام عرب ممالک اس معاملے پر دباؤ کی وجہ سے ان کے پاس آئے۔ کاٹز نے کہا کہ ’’وہ وقت آئے گا جب یہ واضح ہو جائے گا کہ حماس اپنی وابستگی پوری نہیں کر رہاجو کہ جولائی میں فلسطینی عسکریت پسند گروپ کی طرف سے طے پانے والے مرحلہ دوم کے تخفیف اسلحہ اور انخلاء کے روڈ میپ سے متعلق ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یہودی آباد کاروں کے تشدد کے سبب دنیا ہمیں غنڈہ ومجرم سمجھنے پر مجبور: پولیس چیف
بعد ازاں اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سابق سفیر جیریمی گرین اسٹاک نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر پر الزام لگایا کہ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی (پی اے) سے کہا کہ وہ اسکولوں کی نصابی کتابوں سے لفظ فلسطین کا کوئی بھی تذکرہ ہٹا دیں۔واضح رہے کہ گرین اسٹاک، جنہوں نے۱۹۹۸ء سے۲۰۰۳ء کے درمیان سفیر کا عہدہ سنبھالا اور پھر عراق کے لیے خصوصی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دیں، نے یہ دعوے بدھ کو ڈیوڈ ہرسٹ پوڈ کاسٹ پر کیے۔ گرین اسٹاک نے وہ معلومات یاد کرتے ہوئے بتائیں جو انہیں مبینہ طور پر وزارتی سطح کے ذریعہ سے ملی تھیں، انہوں نے ہرسٹ کو بتایا، ’’بلیئرنے حال ہی میںراماللہ جاکر فلسطینی اتھارٹی سے کہا تھا کہ اگر و ہ چاہتے ہیں کہ انہیں بورڈ آف پیس کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ۷؍ اکتوبر سے شروع ہونے والے موجودہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کے قابل سمجھا جائے، توانہیں فلسطینی نصاب سے لفظ فلسطین کا کوئی بھی تذکرہ ہٹادیا جانا چاہئے۔‘‘