۱۴؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو حراست میں لئے گئے سورو داس اور اشوتوش رانکا کی عدالتی تحویل پہلے پانچ دن کیلئے تھی۔ اس میں مزید دو دِن کی توسیع کی گئی۔
EPAPER
Updated: October 21, 2026, 2:08 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
۱۴؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو حراست میں لئے گئے سورو داس اور اشوتوش رانکا کی عدالتی تحویل پہلے پانچ دن کیلئے تھی۔ اس میں مزید دو دِن کی توسیع کی گئی۔
۱۴؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو حراست میں لئے گئے سورو داس اور اشوتوش رانکا کی عدالتی تحویل پہلے پانچ دن کیلئے تھی۔ اس میں مزید دو دِن کی توسیع کی گئی۔ اس طرح یہ دونوں نوجوان، جن کی حیثیت ابھیجیت دیپکے کے ساتھ کاکروچ جنتا پارٹی کے شریک بانیوں کی ہے، گزشتہ سات دن سے جیل میں ہیں۔ ہرچند کہ یہ عدالتی حراست سمجھ میں نہیں آتی مگر قانون ہے جس کے آگے سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔یہ حراست اس لئے سمجھ میں نہیں آتی کہ عدالتی حراست میں بھیجنے کے عمل میں عدالت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ فیصلہ اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کا ہے جس کے پاس بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کے تحت ایسا کرنے کا اختیار ہے۔ یہ کوئی نیا اختیار نہیں ہے بلکہ بی این ای ایس ایس کی سابقہ شکل ’’سی آر پی سی‘‘ میں بھی موجود تھا اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس پر نظر ثانی کی ضرورت کیوں نہیں محسوس کی جاتی۔ اگر عدالت کے عمل دخل کے بغیر عدالتی حراست جاری رہ سکتی ہے تو اس پر ماہرین اور خود عدلیہ کو توجہ مرکوز کرنی چاہئے اس لئے کہ ایس ای ایم، جس کی تقرری ریاستی حکومت کرتی ہے، جج نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایسی دُرگا پوجا پہلے کبھی نہیں ہوئی
۲۰؍ اکتوبر کو انڈین ایکسپریس کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی ایک رپورٹ بعنوان ’’اسپیشل ایگزیکیٹیو مجسٹریٹ کون ہیں اور اُن کے اختیارات کی جانچ کیوں ہورہی ہے؟‘‘ کے مطابق ۱۹۶۹ء میں ۴۱؍ ویں لاء کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ چونکہ عدالتی حراست کے سبب فرد کی آزادی خطرے میں پڑتی ہے اسلئے عدالتی حراست میں بھیجنے کا اختیار جیوڈیشیل مجسٹریٹ کی شکل میں عدالت کے پاس ہونا چاہئے (نہ کہ ریاستی سرکار کے مقرر کردہ کسی افسر کے پاس)۔ بہرکیف، یہ کہنا مشکل ہے کہ ایس ای ایم کے اضافی اختیار کے سبب آج، سات دن پورے ہوجانے کے بعد سورو داس اور اشوتوش رانکا کی گلوخلاصی ہوجائے گی کیونکہ ایس ای ایم کو اس شرط پر مزید دنوں کی حراست کا اختیار ہے کہ وہ ہفتہ واری جائزہ لے اور یہ محسوس کرے کہ اُس کے پاس مزید حراست کا جواز ہے۔
سی جے پی کے مذکورہ لیڈران کی حراست کے سات دن مکمل ہونے سے ایک دن پہلے اُن کے ساتھی اور سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایک ویڈیو جاری کیا جس میں وہ کافی جذباتی دکھائی دیئے۔ یہ فطری ردعمل ہے۔ مذکورہ دونوں لیڈروں کے خلاف کوئی ایسی شکایت نہیں ہے جس کی بنیاد پر اُنہیں سات سات دن جیل میں رکھا جائے۔ نہ تو اُنہوں نے قانون شکنی کی نہ ہی نظم و نسق کا کوئی مسئلہ پیدا کیا۔ اگر یہ خدشہ تھا کہ یہ لوگ پھر جنتر منتر آباد کردینگے تو اس احتجاج گاہ کے ’ڈی نوٹیفائی‘ ہونے کے بعد وہاں پولیس کے جوان تعینات ہیں لہٰذا کوشش کی بھی گئی تو ناکام ہوجائیگی جیسا کہ ۱۳؍ اکتوبر کو ہوا تھا جب اُنہوں نے جنتر منتر میں داخل ہوکر ترنگا لہرانے کی کوشش کی تھی۔ تبھی اُنہیں گرفت میں لے لیا گیا تھا۔ دہلی پولیس کو ویسے بھی یہ اطمینان ہونا چاہئے کہ ان کی جانب سے نقص ِ امن کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ یہ سماج دشمن عناصر نہیں ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ آج کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ انہیں رِہا کردیا جائیگا یا ان کی حراست میں توسیع ہوگی۔