بی جے پی کی حکومت کی پہلی درگا پوجاخصوصی توجہ کا مرکزبنی ہوئی تھی۔لوگوں کو یہ باور کرایا جارہا تھا کہ اب بنگال میں سناتنی سرکار قائم ہے اس لئے حقیقی درگا پوجا تو اس سال منائی جائیگی۔ اور واقعی اس بار کی درگا پوجا بنگال کے لوگوں کو ہمیشہ یاد رہے گی جس میں بھگدڑ کی وجہ سے ۱۹؍ سے زائد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔
سنیچر ۱۷؍ اکتوبر کی شام کو پورا شہر درگا پوجا کے جشن میں پوری طرح ڈوبا ہوا تھا اورہر طرف مسرت و شادمانی کا ماحول تھا۔ شمالی کلکتہ کا چوربگان پوجا پنڈال لوگوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ اچانک لاؤڈ اسپیکر پر اعلان ہوا:’’پنڈال ٹوٹ کرگرپڑے گا۔ آپ لوگ باہر نکل جائیں۔‘‘ اس کے بعد گویا قیامت برپا ہوگئی۔ باہر جانے کا راستہ نہایت تنگ تھا۔ پنڈال میں بھگڈر مچ گئی۔ کچھ عورتیں اور بچے گرپڑے۔ دیکھتے ہی دیکھتے انیس لوگ جن میں تیرہ عورتیں اور چار بچے تھے ہلاک ہوگئے۔کسی ایک شخص کی بھی موت خواہ وہ فطری ہو یا حادثاتی ہمیشہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔اب ذرا تصور کیجئے کہ وہ لوگ جو چند لمحے قبل تک اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ خوشیاں منارہے تھے، اگر اچانک اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو آپ کا کیا ردعمل ہوگا۔ ایسی ناگہانی اموات پر صرف تکلیف نہیں ہوتی بلکہ صدمہ ہوتا ہے۔آج کل کلکتہ پر جسے City of Joyکہتے ہیں سوگواری طاری ہے۔
بی جے پی کی حکومت کی پہلی درگا پوجا خاص و عام کیلئے خصوصی توجہ کا مرکزبنی ہوئی تھی۔ بی جے پی ہمیشہ یہ پروپیگنڈہ کرتی تھی کہ ممتا بنرجی کے راج میں بنگالیوں کی تہذیب و ثقافت، رسم و رواج اور پرب تہوار محفوظ نہیں ہیں۔مئی کے بعد سےلوگوں کو یہ باور کرایا جارہا تھا کہ اب بنگال میں سناتنی سرکار قائم ہے اسلئے حقیقی درگا پوجا تو اس سال منائی جائے گی۔ ایڈن گارڈن کرکٹ اسٹیڈیم میں لیزر اور ڈرونز شوکے ساتھ شوبھیندو حکومت نے درگا پوجا کا افتتاح ۱۰؍اکتوبر کو ہی کردیا تھا۔ اس شو پر۱۵۰؍ کروڑ خرچ کئے گئے۔ بلاشبہ بنگال میں ماں درگا کاایسا انوکھا اور اتنا مہنگا سواگت پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا۔بی جے پی نواز میڈیا اور سوشل میڈیا بھی مسلسل یہ پرچار کررہا تھا کہ اس بار کی درگا پوجا یادگار ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: ڈیجیٹل انڈیا میں سب کیلئے وائی فائی ضروری
واقعی اس بار کی درگا پوجا بنگال کے لوگوں کو ہمیشہ یاد رہے گی۔ سوشل میڈیا پر لوگ اپنے غم وغصے کا اظہار کررہے ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کانگریس کے۲۵؍سالہ، بایاں محاذ کے ۳۴؍ سالہ اور ترنمول کانگریس کے ۱۵؍ سالہ دور اقتدار میں جو نہیں ہوا وہ بی جے پی کے بنگال میں قدم رکھتے ہی ہوگیا۔ ہر سال پوجا میں یہاں لاکھوں لوگوں کی بھیڑ امڈتی ہے لیکن کبھی بھی کسی پوجا کے دوران نہ ایسی بھگڈر مچی اور نہ ہی بے گناہ لوگ مارے گئے۔ ماضی میں درگا پوجا کے دوران بھیڑ کنٹرول کرنے کا کلکتہ پولیس کا شاندار ریکارڈ رہا ہے۔ صرف crowd management کے لئے نہیں کلکتہ پولیس کی اس بات کے لئے بھی ستائش کی جاتی ہے کہ درگا پوجا کے دوران سات راتوں تک لاکھوں لوگ جن میں لڑکیوں اور عورتوں کی بھاری تعداد شامل ہے شہر کی سڑکوں پر بے خوف ہوکر گھومتے پھرتے رہتے ہیں اورپھر بھی لااینڈ آرڈر بالکل اٹوٹ رہتا ہے۔ لیکن اس بار کلکتہ پولیس کو ہی سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
پولیس کی نااہلی اور غفلت کی بڑی وجہ اعلیٰ افسران کی ناتجربہ کاری بتائی جارہی ہے۔ مئی کے اسمبلی انتخابات کے قبل شہر کے نوسینئر اور قابل آئی پی ایس افسران کو الیکشن کمیشن نے دوردراز کے اضلاع میں تعینات کردیا تھا شایدانہیں ڈر تھا کہ ان کی کلکتہ میں موجودگی میں انتخابی دھاندلیاں کرکے ممتا بنرجی کو ہرایا نہیں جاسکے گا۔نئے وزیر اعلیٰ چاہتے تو نئی حکومت کے قیام کے بعدان افسران کو واپس ان کے سابقہ عہدوں پر بحال کردیتے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ نتیجہ تباہ کن نکلا۔ پوجا پنڈال کے سانحے کے بعد جب شوبھیندو حکومت کو تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا تو وزیر اعلیٰ نے آناً فاناً ان نو افسران کو کلکتہ لاکردرگا پوجا کی سیکورٹی کی نگہداشت کی مکمل ذمہ داری سونپ دی۔ ایک اعلیٰ سطحی انسپیکشن ٹیم تشکیل کی گئی ہے جو شہرکے تمام بڑے بڑے پوجا پنڈالوں میں گھوم گھوم کر تمام انتظامات کی جانچ پڑتال کررہی ہے۔ معائنہ کے دوران پنڈال میں لوگوں کے داخلے اور اخراج کے راستوں کو مزید کشادہ کرنے اور روشنیوں میں اضافہ کرنے جیسے گیارہ نکات پر زور دیا گیاہے۔حکومت کے ان اقدام کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ کاش حکومت کو یہ بات پہلے سمجھ میں آگئی ہوتی۔دراصل مسئلہ صرف پولیس افسران کی نااہلی اور ناتجربہ کاری کا نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بہار میں ایک اور نئے گھوٹالے کا انکشاف!
چوربگان کی پرانی پوجا کمیٹی ایسے مقامی لوگوں پر مشتمل تھی جنہیں برسوں کا تجربہ تھا۔ اس کمیٹی کو جبراً تحلیل کرکے جولائی میں ایک نئی کمیٹی بنائی گئی تاکہ اس اہم پوجا پر بی جے پی والوں کی بالادستی قائم کی جاسکے۔ کمیٹی کے نئے عہدے داروں کو نہ بھیڑ کنٹرول کرنے کا تجربہ تھا اور نہ ہی وہ پنڈال کے قرب وجوار کے جغرافیہ سے واقفیت۔ نئی کمیٹی میں بی جے پی کا ایم ایل اے، بی جے پی کا ضلع صدر اور ایک اور اہم شخص شامل ہے جس کے پاس کوئی عہدہ تونہیں ہے لیکن اسے وزیر اعلیٰ کا بھتیجا ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ پچھلے چار برسوں سے جس شوبھیندو ادھیکاری کی زبان ممتا بنرجی کو ’’بھائی پو‘‘ یعنی بھتیجا ابھیشیک بنرجی کا طعنہ دیتے نہیں تھکتی تھی آج ان کو بھی بھائی پو کا طعنہ دیا جارہا ہے۔ دیب دیپ ادھیکاری کس حیثیت سے چوربگان پوجا کمیٹی کا ’’خصوصی سرپرست‘‘بنایا گیا تھا اس کی کوئی وضاحت کرنے والا نہیں ہے۔ پولیس نے جن سات افراد کو اس سانحہ کے لئے گرفتار کیا ہے ان میں پوجاکمیٹی کے دو تین عہدے دار بھی ہیں۔ لیکن ان میں نہ تو بی جے پی کاکوئی لیڈر ہے اور نہ ہی کسی اہم لیڈر کا کوئی بھتیجا۔
ناتجربہ کار تو بی جے پی کی حکومت میں بھی بھرے پڑے ہیں۔ شوبھیندو کابینہ میں ایک خاتون وزیر بے حد فعال ہیں۔ نام ہے اگنی مترا پال۔ محترمہ سیاست میں آنے سے قبل فیشن ڈیزائنر تھیں۔درگا پوجا پر اپنی چھاپ چھوڑنے کی نیت سے انہوں نے کپڑوں پر رنگ بھرنے کا اپنا تجربہ کلکتہ کی سڑکوں پر آزمانے کا فیصلہ کیااوردو اہم فلائی اوور ز پر قوس قزح کے رنگ پینٹ کروادیئے۔ جب ایک کے بعد ایک موٹر سائیکل ان رنگین سڑکوں پر پھسل پھسل کر گرنے لگے تو خاتون وزیر کو سمجھ میں آیاکہ پینٹ کمرے کی دیواروں کیلئے اورکولتار سڑکوں کے لئے بناہے۔لاکھوں خرچ کرکے فلائی اوورز پر بنائی گئی طویل رنگولی کو کھرچ کھرچ کر مٹانے پر لاکھوں خرچ کئےجا رہے ہیں۔
پس نوشت: شوبھیندو سانحے پر سیاست نہ کرنے کی تلقین کررہے ہیں۔لیکن شاید وہ بھول گئے کہ دس سال قبل جب وویکانند فلائی اوورکے گرجانے سے دو درجن لوگ مارے گئے تھے تو وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ اس سانحے کے ذریعہ ’’ بھگوان نے عوام کو یہ سندیش دیا ہے کہ آج جیسے یہ پل ٹوٹا ہے کل یہ(ممتا بنرجی) پورے بنگال کو ایسے ہی تباہ کردیں گی۔‘‘ مودی جی نے ۲۰۱۶ء کی کلکتہ کی ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے یہ آکاش وانی لوگوں کو سنائی تھی۔ مقصد لوگوں کو بی جے پی کو ووٹ دینے کے لئے آمادہ کرنا تھا۔n